متنازع گانے’سرکے چُنر تیری سرکے‘کے تعلق سے سنجے دت، نورا فتیحی اور فلم کے ڈائریکٹر و پروڈیوسر کی مشکلات بڑھتی نظر آ رہی ہیں۔ قومی کمیشن برائے خواتین نے ازخود نوٹس لیتے ہوئے ان تمام افراد کو سمن جاری کر دیا ہے۔
EPAPER
Updated: March 19, 2026, 2:58 PM IST | Mumbai
متنازع گانے’سرکے چُنر تیری سرکے‘کے تعلق سے سنجے دت، نورا فتیحی اور فلم کے ڈائریکٹر و پروڈیوسر کی مشکلات بڑھتی نظر آ رہی ہیں۔ قومی کمیشن برائے خواتین نے ازخود نوٹس لیتے ہوئے ان تمام افراد کو سمن جاری کر دیا ہے۔
سنجے دت ایک طرف جہاں‘’’دُھرندھر۲‘‘میں اپنے کردار کے لیے تعریفیں سمیٹ رہے ہیں، وہیں جنوبی ہند کی فلم’’کے ڈی: دی ڈیول‘‘ کےگیت ’سرکے چنر تیری سرکے‘کی وجہ سے وہ تنازعات میں بھی گھرے نظر آ رہے ہیں۔ اس گانے میں ان کے ساتھ نورا فتیحی بھی نظر آئی ہیں۔ گانے پر ہنگامہ ہونے کے بعد مرکزی حکومت نے اس پر پابندی عائد کردی ہے لیکن اس سے وابستہ ستاروں کی مشکلات کم ہوتی نظر نہیں آ رہیں۔ اس گانے کے خلاف پولیس میں شکایت بھی درج کرائی گئی تھی۔
اب قومی کمیشن برائے خواتین نے اس متنازع گانے پر ازخود نوٹس لیتے ہوئے اس میں نظر آنے والے اداکاروں نورا فتیحی اور سنجے دت،نغمہ نگار رقیب عالم، پروڈیوسر وینکٹ کے نارائن اور ڈائریکٹر کرن کمار کو سمن جاری کیا ہے۔ قومی کمیشن برائے خواتین کا کہنا ہے کہ گانا پہلی نظر میں جنسی طور پر اشتعال انگیز، قابلِ اعتراض اور بھارتیہ نیائے سنہتا، آئی ٹی ایکٹ اور پوکسو ایکٹ کی دفعات کی خلاف ورزی کرتا ہوا لگتا ہے۔ کمیشن نے اس معاملے کو سنجیدگی سے لیا ہے اور گانے سے جڑے افراد کو سمن بھیج دیا گیا ہے۔
کمیشن نے انہیں ۲۴؍ مارچ ۲۰۲۶ء کو دوپہر ساڑھے ۱۲؍بجے متعلقہ دستاویزات کے ساتھ پیش ہونے کو کہا ہے۔ یہ بھی وارننگ دی گئی ہے کہ اگر سمن کے باوجود وہ پیش نہ ہوئے تو ان کے خلاف قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھئے:یو سی ایل: لیورپول کوارٹر فائنل میں داخل، نیو کیسل اور اسپرز ٹورنامنٹ سے باہر
اشونی ویشنو نے پابندی کی معلومات دی
اس سے قبل گزشتہ روز پارلیمنٹ میں اطلاعات و نشریات کے وزیر اشونی ویشنو نے سماجوادی پارٹی کے ایک رکن پارلیمنٹ کے سوال کے جواب میں کہا کہ اس گیت پر پہلے ہی پابندی لگائی جا چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جس گانے کا ذکر کیا گیا ہے، اس پر پہلے ہی بین لگ چکی ہے۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ اظہارِ رائے کی آزادی مکمل نہیں ہو سکتی اور اسے آئینِ ہند میں دی گئی مناسب پابندیوں کے مطابق ہونا چاہیے۔ ان کے مطابق بولنے کی آزادی معاشرے کے تقاضوں کے مطابق ہونی چاہیے۔
یہ بھی پڑھئے:دنیا کا واحد ملک افغانستان، جہاں آج عید منائی جا رہی ہے!
سنگر نے معافی مانگی، نورا نے بھی وضاحت دی
گیت پر تنازع بڑھنے کے بعد اسے گانے والی سنگر مانگلی نے انسٹاگرام پر ایک پوسٹ کے ذریعے مداحوں سے معافی مانگی۔ انہوں نے کہا کہ میکرز اس گانے کا نیا ورژن جاری کریں گے اور اس کے لیے گانے میں تبدیلی کا کام مکمل ہو چکا ہے۔ وہیں نورا فتیحی نے بتایا کہ انہوں نے میکرز سے اس گانے کے بارے میں بات کی تھی، لیکن کسی نے ان کی بات نہیں سنی۔ انہوں نے کہا کہ یہ اچھا ہوا کہ تنازع کھڑا ہوا، اسی کی وجہ سے گانے پر پابندی عائد ہوگئی ۔