• Wed, 02 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

اسرائیلی حملوں سے تباہ شدہ تاریخی مسجد کے ماضی کو بچانے کوشش

Updated: September 02, 2026, 2:04 PM IST | Gaza

اسرائیلی حملے کے بعد غزہ کی تاریخی مسجد تباہ، جبکہ رضاکار ملبے سے ماضی کو بچانے کی کوشش کررہے ہیں، "ورثہ کے محافظ۷۵؍ سالہ ابو سلیم مسجد کے پتھروں اور تاریخی سنگِ مرمر کے ستونوں کو بحالی کے لیے محفوظ کر رہے ہیں۔

symbolic image. Image: X
علامتی تصویر۔ تصویر: ایکس

وسطی غزہ کی پٹی میں رضاکار ابو سلیم مسجد کے ملبے سے ٹکڑے بہ ٹکڑے پتھر اور تاریخی سنگِ مرمر کے ستون نکال رہے ہیں، تاکہ اسرائیلی حملے میں بچ جانے والی چیزوں کو محفوظ کیا جا سکے اور امید ہے کہ ایک دن یہ اس تاریخی علامت کی بحالی میں مددگار ثابت ہوں گی۔دیر البلہ میں واقع یہ مسجد۲۴؍ اگست کو اسرائیلی حملے کی زد میں آئی، جس سے اس کے صحن اور مرکزی ڈھانچے کے ایک حصے کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا۔ انادولو کے مطابق، حملے کے چند دنوں بعد ’’ورثہ کے محافظ‘‘ ٹیم کے رضاکاروں نے مسجد اور اس کے ارد گرد کا ملبہ ہٹانا شروع کیا، بکھرے ہوئے پتھروں اور سنگِ مرمر کے ستونوں کو جمع کیا اور انہیں محفوظ مقام پر منتقل کیا۔ 
واضح رہے کہ ’’ورثہ کے محافظ‘‘ ایک رضاکار گروپ ہے جو اس تاریخی مسجد سے ملبہ ہٹانے اور تباہ شدہ کتابوں کو بچانے کے لیے کام کر رہا ہے۔یہ مہم مياسر ایسوسی ایشن برائے ثقافت و فنون نے ورثہ ٹیم کے تعاون سے ترتیب دی، جس میں بچائی گئی اشیاء کو مستقبل کی بحالی کے کاموں میں ممکنہ طور پر دوبارہ استعمال کے لیے الگ رکھا گیا ہے۔ میئر خلیل ابو سمرہ نے انادولو کو بتایا کہ ابو سلیم مسجد۱۹۵۱ء میں حاجی محمد ابو سلیم کے خرچ پر تعمیر کی گئی تھی اور اسے عثمانی طرزِ تعمیر پر ڈیزائن کیا گیا تھا۔ابو سمرہ نے کہا، ’’ہم نے اس مسجد کو کئی سالوں تک محفوظ رکھا،‘‘ اور امید ظاہر کی کہ یہ تاریخی علامت ،ورثہ کے محافظوں اور وطن کے محافظوںکے ہاتھوں بحال ہو کر اپنی سابقہ شکل میں لوٹ آئے گی۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: ایران: سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کی اسلام کے دشمنوں کے خلاف مسلم اتحاد کی اپیل

بعد ازاں ورثہ کے محافظ مہم کی کوآرڈینیٹر شیماء الناطور نے بتایا کہ ٹیم، حملے کے فوراً بعد مسجد کی طرف بڑھی تاکہ وہ ’’احتیاطی تحفظی اقدامات‘‘ شروع کر سکے۔انہوں نے کہا کہ پہلا مرحلہ بکھرے ہوئے پتھروں اور تاریخی سنگِ مرمر کے ستونوں کو بازیافت کرنے اور انہیں محفوظ طریقے سے ذخیرہ کرنے پر مرکوز ہے، جبکہ بعد کے مراحل میں مسجد کی بحالی پر توجہ مرکوز کی جائے گی۔الناطور نے کہا کہ یہ اقدام اسرائیلی جنگ کے دوران تاریخی مقامات کو وسیع پیمانے پر نقصان پہنچنے کے باوجود غزہ کے آثارِ قدیمہ اور ثقافتی ورثے کے تحفظ کی وسیع تر کوششوں کا حصہ ہے۔
واضح رہے کہ دیر البلہ میں اونچی زمین پر واقع یہ مسجد، جسے مقامی طور پر ’’الحدبہ القبلیہ‘‘ کہا جاتا ہے، شہر کی نمایاں مذہبی اور تعمیراتی علامات میں سے ایک ہے۔اس کی۲۰۱۰ء میں بحالی کی گئی تھی جس میں اس کی بہت سی اصل تعمیراتی خصوصیات کو محفوظ رکھا گیا تھا۔اسرائیلی گولہ باری نے۲۰۱۴ء میں مینار کے اوپری حصے کو بھی نشانہ بنایا اور اس کے اگلے حصے کو نقصان پہنچایا، جسے بعد میں ’’رواق سنٹر برائے تعمیراتی تحفظ‘‘اور ا’’یوان سنٹر برائے ورثہ تعمیرات‘‘ کے تعاون سے بحال کیا گیا تھا۔ تاہم ۲۴؍ اگست کے اسرائیلی حملے نے کہیں زیادہ وسیع پیمانے پر تباہی مچائی، انادولو کی فوٹیج میں مسجد کے اندر اور اطراف وسیع پیمانے پر تباہی دکھائی دے رہی ہے۔یہ نقصان غزہ کی عبادت گاہوں پر ہونے والے مجموعی طور پر بہت بڑے نقصان کے ایک حصے کے طور پر سامنے آیا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: اسرائیل کے تعلق سے خبر پر ٹرمپ کی دھمکی آئین کی خلاف ورزی: امریکی وفاقی عدالت

یاد رہے کہ  غزہ کی وزارتِ اوقاف کے مطابق  جنگ شروع ہونے کے بعد سے اسرائیل نے ۱۲۷۵؍ مساجد میں سے۱۰۵۰ء کو مکمل طور پر تباہ کر دیا ہے اور۱۹۱؍ کو جزوی نقصان پہنچایا ہے۔ مزید برآں گزشتہ اکتوبر میں جنگ بندی پر دستخط ہونے کے بعد سے اسرائیلی خلاف ورزیوں میں ۱۳۱۳؍ فلسطینی شہید اور ۴۳۶۱؍زخمی ہوئے ہیں، جبکہ اکتوبر۲۰۲۳ء سے غزہ پر اسرائیل کی جنگ میں مجموعی طور پر کم از کم ۷۳۴۴۹؍افراد شہید اور۱۷۴۴۷۲؍ افراد زخمی ہوئے ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK