Inquilab Logo Happiest Places to Work

اسرائیل کے تعلق سے خبر پر ٹرمپ کی دھمکی آئین کی خلاف ورزی: امریکی وفاقی عدالت

Updated: August 30, 2026, 7:29 PM IST | California

ایک امریکی وفاقی عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ ٹرمپ انتظامیہ نے اسرائیل-فلسطین تنازع اور دیگر متنازع معاملات پر رائے ظاہر کرنے والے طالب علم صحافیوں کو جلاوطنی کی دھمکی دے کر آئین کی خلاف ورزی کی ہے۔

Photo: X
تصویر: ایکس

امریکی ریاست کیلیفورنیا کی ایک وفاقی عدالت نے جمعہ کو اسٹینفورڈ یونیورسٹی کے طالب علموں کے اخبار کی جانب سے دائر مقدمے میں فیصلہ سنایا کہ ٹرمپ انتظامیہ نے اسرائیل-فلسطین تنازع اور دیگر متنازع معاملات پر رائے ظاہر کرنے والے طالب علم صحافیوں کو جلاوطنی کی دھمکی دے کر آئین کی خلاف ورزی کی ہے۔جوبائیڈن کی نامزد کردہ ڈسٹرکٹ جج نویل وائز نے اپنے تحریری فیصلے میں کہا کہ حکومت نے محفوظ آزاد اظہار کے حوالے سے خوفناک پیغام دیا ہے ،یعنی اسرائیل کے خلاف یا فلسطینیوں کی حمایت میں کہو تو آپ کا ویزا منسوخ اور آپ کو ملک بدر کر دیا جائے گا۔

یہ بھی پڑھئے: جو کچھ بھی عمران خان کو درکار ہو انہیں مہیا کیا جاناچاہئے: سابق کرکٹر معین خان

 انہوں نے مزید لکھا کہ غیر شہری طلبہ نے یہ انتباہ سنا اور اس پر عمل کیا۔ واضح رہے کہ یہ مقدمہ اگست میں دائر کیا گیا تھا، جس میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ ٹرمپ انتظامیہ امیگریشن اینڈ نیشنلٹی ایکٹ کے تحت ’’امریکہ مخالف‘‘ یا فلسطین حامی خیالات کے اظہار پر ویزا منسوخی کی دھمکی دے کر طلبہ کے پہلے اور پانچویں ترمیم کے آئینی حقوق کی خلاف ورزی کر رہی ہے، حالانکہ وائٹ ہاؤس اکثر ایسے خیالات کو غلط طور پر ’’حماس نواز‘‘ قرار دیتا ہے۔ فاؤنڈیشن فار انڈیویڈوئل رائٹس اینڈ ایکسپریشن (FIRE) کی حمایت سے دائر اس مقدمے میں کہا گیا کہ اس پالیسی نے اخبار کی کارروائیوں پر سرد مہری طاری کر دی، جس کے باعث معاونین مضامین جمع کرانے اور ذرائع صحافیوں سے بات کرنے سے گریز کرنے لگے، کیونکہ انہیں سزا کا خدشہ تھا۔
بعد ازاں جج وائز نے کہا کہ انتظامیہ کی کیمپس کریک ڈاؤن، جس کے تحت ملک بھر میں فلسطین حامی کارکنوں اور اساتذہ کو گرفتار کیا گیا، ’’ناقابلِ فہم‘‘ معیارات کے تحت چل رہی ہے اور اس سے آزادیٔ اظہار کے حقوق میں تنزلی کی شکار صورتِ حال پیدا ہونے کا خطرہ ہے۔ فاؤنڈیشن نے اس فیصلے کو ایک سنگین معاملہ قرار دیتے ہوئے خوشی کا اظہار کیا، اور کہا کہ یہ پہلا موقع ہے جب کسی عدالت نے انتظامیہ کی اس حوالے سے ویزا پالیسیوں کو غیر آئینی قرار دیا ہے۔ فاؤنڈیشن کے وکیل کونور فٹزپیٹرک نے کہا کہ امریکہ میں آزادیٔ اظہار صرف ان لوگوں کا حق نہیں جن کی بات سے  حکومت متفق ہو۔ انہوں نے کہا کہ جمعہ کا فیصلہ ثابت کرتا ہے کہ آزادیٔ اظہار کوئی مراعات نہیں، بلکہ ہر انسان کا ناقابلِ تنسیخ حق ہے۔

یہ بھی پڑھئے: برطانیہ نے طالبان سے بچ کر اسکول جانے والی خاتون کو آکسفورڈ میں تعلیم سے روکا

ذہن نشین رہے کہ یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا ہے جب میساچوسٹس کی ایک اور وفاقی عدالت نے ستمبر میں انتظامیہ کی طالب علمی ویزا مہم کے بارے میں سخت فیصلہ دیا تھا، جس میں کہا گیا تھا کہ یہ پالیسیاں ’’سام دشمنی‘‘ کی غیر آئینی طور پر وسیع تعریف کے پردے میں پہلی ترمیم پر مکمل حملہ ہیں۔ وہ مقدمہ اب اپیل پر ہے۔ٹرمپ انتظامیہ نے بین الاقوامی طلبہ کو گرفتار اور جلاوطن کرنے کی کوشش کی ہے، جن کی فلسطین تحریک میں شمولیت ،کیمپس کو احتجاجی خیمہ بندی، حکام کے ساتھ مذاکرات میں مدد سے لے کر اسرائیل کے خلاف مشترکہ مضمون لکھنے تک تھی۔ انتظامیہ نے یہ تسلیم کیا ہے کہ وہ اسرائیل حامی آن لائن نگرانی گروپوں کی سفارش پر باقاعدگی سے نشانہ بنائے جانے والے افراد کی شناخت کرتی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK