ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے مسلم ممالک سے امریکہ اور اسرائیل کے خلاف متحد ہونے کی اپیل کی ہے، ساتھ ہی سماجی ہم آہنگی اور معاشی اصلاحات پر زور دیا ہے۔
EPAPER
Updated: August 30, 2026, 10:07 PM IST | Tehran
ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے مسلم ممالک سے امریکہ اور اسرائیل کے خلاف متحد ہونے کی اپیل کی ہے، ساتھ ہی سماجی ہم آہنگی اور معاشی اصلاحات پر زور دیا ہے۔
ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے اتوار۳۰؍ اگست کو خطے بھر کے مسلم ممالک سے امریکہ اور اسرائیل کے خلاف متحد ہونے کا مطالبہ کیا، یہ تحریری پیغام مشرق وسطیٰ کی جنگ شروع ہونے کے چھ ماہ بعد جاری کیا گیا۔ واضح رہے کہ جب خامنہ ای نے ۲۸ ؍فروری کو جنگ کے آغاز پر اپنے والد علی خامنہ ای کی شہادت کے فوری بعد یہ منصب سنبھالا تھا اس کے بعد سے عوامی نظر سے اوجھل ہیں ۔ ایرانی حکام نے اب تک نئے سپریم لیڈر کی کوئی ویڈیو یا آڈیو ریکارڈنگ جاری نہیں کی ہے۔اپنے اتوار کے پیغام میں، جو شیعہ مسلمان نبی کریم ﷺ کی ولادت کی مناسبت سے جاری کیا گیا، خامنہ ای نے اسلامی ممالک کے درمیان اتحاد کی اہمیت پر زور دیا۔
یہ بھی پڑھئے: مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کے دوران خلیج میں ۴۰۰؍ جہاز پھنسے ہیں: یو این
جب شیعہ مسلمان نبی کریم ﷺ کی ولادت منا رہے تھے، خامنہ ای نے اپنے بیان میں کہا کہ ،’’ اسلامی ممالک کے مسائل کا حل قولِ واحد، اخوت، اور نیکی کے راستے پر تعاون ہے، کوئی بھی، کسی بھی عہدے پر، جو مسلمانوں کے درمیان تفرقہ اور مسلم معاشرے میں تنازع پیدا کرنے والا کوئی کام کرتا ہے، جان بوجھ کر یا نادانستہ، ارادی یا غیرارادی، اس نے اسلام کے دشمنوں کا مقصد پورا کیا۔‘‘مزید برآں خامنہ ای نے علاقائی ممالک کے حکمرانوں پر بھی زور دیا کہ وہ ان کے بیان کردہ اصل دشمن کی نشاندہی کریں اور اس کی حکمت عملی کے خلاف مزاحمت کریں۔ سپریم لیڈر نے علاقائی ممالک کے حکمرانوں سے کہا کہ ’’اپنے حقیقی دشمن کو پہچانیں، اس کے منصوبے کو سمجھیں اور اس کا سامنا کریں۔‘‘ جس سے مراد امریکہ اور اسرائیل ہیں۔
واضح رہے کہ حالیہ تنازع کے دوران، ایران نے مشرق وسطیٰ بھر میں امریکی فوجی اڈوں اور تنصیبات کے خلاف حملے کیے، جن میں سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، اردن، کویت، قطر اور بحرین کے مقامات شامل تھے۔ ان حملوں نے تہران اور ان ممالک میں سے کئی کے درمیان تعلقات کشیدہ کرنے میں کردار ادا کیا، جس سے علاقائی کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا۔خامنہ ای، جو ایران کی بڑی ریاستی پالیسیوں پر حتمی اختیار رکھتے ہیں، نے ایرانی حکام اور عوام کے درمیان زیادہ اتحاد کا بھی مطالبہ کیا، اور انہیں اسرائیل اور امریکہ کا سامنا کرتے ہوئے داخلی اختلافات کو ایک طرف رکھنے کی تاکید کی۔ انہوں نے کہا، ’’ایک بار پھر، اس بندے کی ایرانی عوام کو نصیحت ہے کہ وہ کسی بھی طرح اپنے درمیان کسی بھی قسم کے اختلافات کو پیدا نہ ہونے دیں،میں پختہ اعلان کرتا ہوں کہ سماجی ہم آہنگی کو نقصان پہنچانے والا کوئی بھی عمل ممنوع ہے؛‘‘
یہ بھی پڑھئے: طالبان، کابل میں امریکی سفارت خانہ کھولنے کا خواہاں
اسی جمعہ کے بیان میں، خامنہ ای نے ایران کی معیشت کی بتدریج ڈی ڈالرائزیشن کا بھی مطالبہ کیا اور معاشی ترقی کو مضبوط کرنے کے لیے زیادہ ملکی پیداوار پر زور دیا۔ تاہم ان کا معاشی پیغام اس وقت سامنے آیا ہے جب ایران برسوں کی امریکی پابندیوں کے اثرات کا سامنا کر رہا ہے، ساتھ ہی مہینوں کی امریکی بحری ناکہ بندی کی وجہ سے پیدا ہونے والے معاشی دباؤ بھی ہیں۔جس نے ملک بھر میں معاش اور معاشی سرگرمیوں پر مزید دباؤ ڈالا ہے۔