• Sat, 10 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

ایران کے سپریم لیڈرعلی خامنہ ای کا قتل ایک غلطی تھی: اسرائیلی ڈیموکریٹس

Updated: October 10, 2026, 5:00 PM IST | Tel Aviv

اسرائیلی ڈیموکریٹس کے لیڈر یائر گولان کا کہنا ہے کہ ایران کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای کا قتل ایک غلطی تھی،انہوں نے ایرانی حکومت کا تختہ الٹنے کےغیر حقیقت پسندانہ ہدف کے لیے نیتن یاہو کو تنقید کا نشانہ بنایا۔

Yair Golan, leader of the Israeli Democrats. Photo: X
اسرائیل کی اپوزیشن ڈیموکریٹک پارٹی کے سربراہ یائر گولان۔ تصویر: ایکس

اسرائیل کی اپوزیشن ڈیموکریٹک پارٹی کے سربراہ یائر گولان نے کہا کہ فروری کے آخر میں ایران پر امریکہ-اسرائیل جنگ کے آغاز میں ایران کے سابق سپریم لیڈر علی خامنہ ای کا قتل ایک غلطی تھی۔ دی ٹائمز آف اسرائیل نے جمعہ کو رپورٹ کیا کہ گولان نے تل ابیب کے جنوب میں واقع شہر رشون لیزیون میں ایک تقریب میں انٹرویو کے دوران کہا، ’’میرے خیال میں، غیر مبہم طور پر، خامنہ ای کا خاتمہ ایک غلطی تھی۔‘‘انہوں نے کہا، ’’اس لیے نہیں کہ وہ قتل کےامستحق نہیں تھے، صرف اس لیے کہ یہ ریاست اسرائیل کے مفادات کے خلاف تھا۔‘‘  انہوں نے نوٹ کیا کہ خامنہ ای کی عمر۸۶؍ سال تھی۔اسرائیلی سیاست دان نے دعویٰ کیا کہ علی خامنہ ای کی جانشینی ان کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای نے سنبھالی ہے، جس نے ایران کو ’’زیادہ انتہا پسند اور پرتشدد افراد‘‘ کی قیادت فراہم کردی۔بعد ازاں گولان نے ایرانی حکومت کا تختہ الٹنے کے ’’غیر حقیقت پسندانہ ہدف‘‘ کے حصول پر اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ یہ حاصل نہیں ہوا ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: غزہ: یرغمالوں کی سلامتی اسرائیل کی ترجیحات میں شامل ہی نہیں تھی: سابق امریکی سفیر

واضح رہے کہ امریکہ اور اسرائیل نے۲۸؍ فروری کو ایران کے خلاف جنگ شروع کی، جس پر تہران نے خطے میں میزائل اور ڈرون حملوں کے ساتھ جواب دیا اور آبنائے ہرمز کو مؤثر طریقے سے بند کر دیا۔جنگ نے مشرق وسطیٰ میں علاقائی کشیدگی کو بڑھا دیا ہے اور عالمی توانائی کی قیمتوں میں اضافہ کیا ہے کیونکہ آبنائے سے بڑے پیمانے پر تجارتی تیل کی آمدورفت مؤثر طریقے سے رک گئی ہے۔جبکہ 
واشنگٹن اور تہران نے دشمنی کو روکنے اور مذاکرات کی راہ ہموار کرنے کے لیے پاکستان اور قطر کی ثالثی کی کوششوں کے بعد جون میں ایک فریم ورک معاہدے پر دستخط کیے تھے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK