• Sat, 10 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

جمہوریت کو دبانے کا الزام: مغربی میڈیا میں جنتر منتر احتجاج کا موقف

Updated: October 10, 2026, 5:58 PM IST | New Delhi

آج یعنی ۱۰؍ اکتوبر کے CJP احتجاج پر عالمی میڈیا کی توجہ انتخابی فہرستوں سے ۱۳۰؍ ملین نام حذف ہونے کے تنازعے، نوجوان لیڈروں کی حراست اور دہلی میں سخت پابندیوں پر مرکوز رہی۔ رائٹرز، اسوسی ایٹڈ پریس، گارجین اور ڈوئچے ویلے نے حکومتی اقدامات، جمہوری آزادیوں اور الیکشن کمیشن کی ساکھ سے متعلق سوالات کو اپنی رپورٹنگ میں نمایاں کیا۔

A scene from a protest against vote theft. Photo: PTI
ووٹ چوری کے خلاف مظاہرے کا ایک منظر۔ تصویر: پی ٹی آئی

ہندوستان کے دارالحکومت نئی دہلی میں آج یعنی ۱۰؍ اکتوبر کو کاکروچ جنتا پارٹی (CJP) کی جانب سے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کے مطالبے پر منعقد ہونے والے احتجاج کو روکنے کے لیے پولیس کی بھاری تعیناتی، لیڈروں کی حراست اور نقل و حرکت پر پابندیوں نے مغربی میڈیا کی توجہ حاصل کی۔ امریکی خبر رساں ادارے اسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ پولیس نے مظاہرین کو جنتر منتر پہنچنے سے پہلے ہی روکنا شروع کردیا، جبکہ تحریک کے اہم لیڈروں کو ممبئی سے آنے والی پرواز کے دہلی پہنچنے پر حراست میں لے لیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق، سڑکوں پر رکاوٹیں کھڑی کی گئیں، حفاظتی انتظامات سخت کیے گئے اور بعض علاقوں میں اجتماع پر پابندیاں عائد رہیں۔

یہ بھی پڑھئے: جنترمنتر: مودی اور شاہ بزدل ہیں، حکومت کے خلاف لڑائی جاری رہے گی: راہل گاندھی

دی گارجین کی رپورٹ
برطانوی اخبار دی گارجین نے احتجاج سے ایک روز قبل شائع ہونے والی رپورٹ میں CJP کے اس الزام کو نمایاں کیا تھا کہ ملک بھر میں اس کے ارکان اور دیگر احتجاجی کارکنوں کو بڑی تعداد میں حراست میں لیا جارہا ہے۔ اخبار کے مطابق، تحریک کے ترجمان آشوتوش رانکا نے دعویٰ کیا تھا کہ CJP، طلبہ تنظیموں، مقامی گروپوں اور سیاسی جماعتوں سے وابستہ کم از کم ۱۰؍ ہزار افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔ یہ تعداد تحریک کی جانب سے پیش کیا گیا دعویٰ تھا؛ اسے پولیس کی جانب سے تصدیق شدہ مجموعی تعداد کے طور پر پیش نہیں کیا جاسکتا۔ گارجین نے یہ بھی بتایا کہ طلبہ اور حزب اختلاف کی جماعتیں انتخابی فہرستوں پر نظرثانی کے خلاف مسلسل مظاہرے کررہی تھیں۔

رائٹرز کی رپورٹ
رائٹرز نے ابھیجیت دپکے کی حراست اور ان کی سیاسی تحریک کے پس منظر پر توجہ دی۔ خبر رساں ادارے کے مطابق ۳۱؍ سالہ دپکے کو دہلی میں طیارہ اترنے کے بعد پولیس نے روکا۔ رپورٹ میں ان کا یہ بیان بھی شامل تھا: ’’میں گرفتار ہونے آیا ہوں، مجھے گرفتار کرو، میں تم لوگوں سے نہیں ڈرتا۔‘‘ رائٹرز نے بتایا کہ دپکے نے نوجوانوں کے احتجاج کو جمہوریت کے تحفظ کی جدوجہد قرار دیا تھا۔ اس رپورٹ میں تحریک کے طنزیہ سوشل میڈیا آغاز، امتحانی پرچوں کے افشا کے خلاف سابقہ مظاہروں اور وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے تک پہنچنے والے واقعات کا بھی ذکر کیا گیا۔

یہ بھی پڑھئے: پونے ستیہ گرہ آندولن کے ۱۵؍ مظاہرین کے خلاف کیس درج

ڈی ڈبلیو کی رپورٹ
جرمن نشریاتی ادارے ڈوئچے ویلے (DW) نے 9 اکتوبر کی اپنی تفصیلی رپورٹ میں احتجاج سے پہلے دہلی میں قائم کیے گئے حفاظتی حصار، ٹرینوں اور میٹرو سے متعلق پابندیوں اور مظاہرین کی گرفتاریوں کا جائزہ لیا تھا۔ ادارے نے انتخابی فہرستوں کے تنازعے کو جمہوری اداروں کی ساکھ سے جوڑتے ہوئے بتایا کہ CJP اکیلی اس احتجاج کی قیادت نہیں کررہی تھی؛ طلبہ تنظیمیں، شہری حقوق کے کارکن اور حزب اختلاف کے لیڈر بھی چیف الیکشن کمشنر سے جواب دہی کا مطالبہ کررہے تھے۔ ڈی ڈبلیو کے مطابق، دہلی پولیس نے ۱۰؍ اکتوبر کے احتجاج کی اجازت دینے سے انکار کیا تھا اور اسے غیر قانونی اجتماع قرار دیا تھا۔ اس طرح رپورٹ نے احتجاجی گروپ کے مؤقف کے ساتھ انتظامیہ کی وضاحت بھی پیش کی۔

الجزیرہ کی رپورٹ
الجزیرہ نے اپنی رپورٹ میں احتجاج کو ’’جمہوریت بچاؤ‘‘ کے مطالبے کے ساتھ جوڑا۔ رپورٹ کے مطابق، مظاہرین چیف الیکشن کمشنر کے استعفے کا مطالبہ کررہے تھے، جبکہ CJP کا کہنا تھا کہ انتخابی فہرستوں سے نام حذف کیے جانے کے خلاف آواز اٹھانے والے افراد کو ملک بھر میں حراست میں لیا گیا ہے۔ الجزیرہ نے آل انڈیا اسٹوڈنٹس اسوسی ایشن کی لیڈر نیہا بورا کا بیان بھی نقل کیا، جنہوں نے کہا کہ لوگوں کو حراست میں لیا جاسکتا ہے، لیکن تحریک کو نہیں روکا جاسکتا۔ ادارے نے اس تنازعے کے دونوں پہلو سامنے رکھے: ناقدین کے مطابق نظرثانی سے اقلیتوں اور محروم طبقات کے ووٹ متاثر ہوسکتے ہیں، جبکہ الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ اس عمل کا مقصد دوہرے اور نااہل اندراجات کو ختم کرنا ہے۔

ان رپورٹوں میں انتخابی فہرستوں کا تنازعہ محض انتظامی کارروائی نہیں بلکہ شہریوں کے حقِ رائے دہی اور انتخابی نظام پر اعتماد کا سوال بن کر سامنے آیا۔ CJP اور حزب اختلاف کا الزام ہے کہ اسپیشل انٹینسیو ریویژن (SIR) کے تحت ۱۳۰؍ ملین سے زیادہ نام حذف ہونے سے اہل ووٹروں کو نقصان پہنچ سکتا ہے اور اس عمل سے حکمران بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کو فائدہ پہنچنے کا خدشہ ہے۔ الیکشن کمیشن اور حکومت ان الزامات کو مسترد کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ فہرستوں کی نظرثانی کا مقصد انتخابی اندراجات کی درستگی ہے۔ اس لیے حذف شدہ ناموں کی تعداد کو انتخابی دھاندلی کا حتمی ثبوت قرار دینے کے بجائے اس عمل کے طریقۂ کار، حذف ہونے کی وجوہات اور متاثرہ ووٹروں کو دستیاب اپیل کے راستوں کی جانچ ضروری ہے۔

یہ بھی پڑھئے: راستے بند، میٹرو اسٹیشن بند، جنتر منتر بند، دہلی چھاؤنی بن گیا!

مغربی میڈیا کی رپورٹنگ کا مجموعی جائزہ ظاہر کرتا ہے کہ ۱۰؍ اکتوبر کے واقعات کو پولیس اور مظاہرین کے درمیان تصادم کی ایک محدود خبر کے طور پر نہیں دیکھا گیا۔ رائٹرز نے دپکے کی حراست اور نوجوان تحریک کے سیاسی پس منظر پر توجہ دی؛ اے پی نے احتجاج روکنے کے لیے پولیس کارروائی اور بڑے پیمانے پر گرفتاریوں کی تفصیل دی؛ گارجین نے حراستوں اور ووٹر لسٹوں کے تنازعے کو جوڑا؛ جبکہ ڈی ڈبلیو اور الجزیرہ نے جمہوری اداروں کی ساکھ، احتجاج کے حق اور حکومتی مؤقف کو اپنی رپورٹنگ میں جگہ دی۔ ان اداروں کی رپورٹوں سے یہ نتیجہ اخذ کرنا درست نہیں ہوگا کہ تمام مغربی میڈیا نے یکساں طور پر مودی حکومت کی مذمت کی، لیکن ان کی کوریج میں ریاستی طاقت کے استعمال، پُرامن اجتماع کی آزادی اور ووٹ کے حق سے متعلق سوالات واضح طور پر نمایاں رہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK