• Sat, 10 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

غزہ: یرغمالوں کی سلامتی اسرائیل کی ترجیحات میں شامل ہی نہیں تھی: سابق امریکی سفیر

Updated: October 10, 2026, 12:28 PM IST | Washington

سابق امریکی سفیر جیک لو کے مطابق غزہ میں یرغمالوں کی سلامتی اسرائیلی حکام کی ترجیحات میں شامل ہی نہیں تھی، سابق سفیر جیک لو نے انکشاف کیا ہے کہ اکتوبر ۲۰۲۳ء میں حماس کے حملے کے بعد، وہ اسرائیلی حکام کو امریکی-اسرائیلی یرغمالوں کی سلامتی کو ترجیح دینے پر راغب کرنے کی کوشش کرتے رہے لیکن انہیں اس میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

Former US Ambassador Jack LewPhoto: X
اسرائیل میں امریکہ کے سابق سفیر جیک لو۔ تصویر: ایکس

اسرائیل میں امریکہ کے سابق سفیر جیک لو نے انکشاف کیا ہے کہ اکتوبر ۲۰۲۳ء میں حماس کے حملے کے بعد، وہ اسرائیلی حکام کو امریکی-اسرائیلی یرغمالوں کی سلامتی کو ترجیح دینے پر راغب کرنے کی کوشش کرتے رہے لیکن انہیں اس میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ اسرائیلی اخبار ہاریتزکے مطابق، بدھ کو کولمبیا یونیورسٹی کی ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جیک لو نے کہا، ’’ایک امریکی سفارت کار کیلئے اپنے شہریوں کی فکر کرنے سے بڑی کوئی اور ذمے داری نہیں ہوتی۔ لیکن جہاں یرغمالوں کی سلامتی کا معاملہ میری ترجیحات میں سب سے اوپر تھا، وہیں اسرائیلی حکومت میں جن لوگوں سے میری بات چیت ہوتی تھی، ان کی ترجیحات میں یہ معاملہ دور دور تک شامل نہیں تھا۔ ‘‘

یہ بھی پڑھئے: میرے ذریعے اے آئی کو دیئے گئے نئے نام کی حمایت نہیں کرنے والا وائٹ ہاؤس کا ’دشمن‘ ہے: ٹرمپ

علاوہ ازیں جیک لو نے مزید کہا کہ اسرائیلی حکومت نے اس جنگ کے دوران اس وقت کے امریکی صدر جو بائیڈن کی مسلسل حمایت کا پورا فائدہ اٹھایا۔ انہوں نے دلیل دی کہ واشنگٹن کے پاس اسرائیل کے رویے اور کارروائیوں کو تبدیل کرنے کی صلاحیت بہت محدود تھی، کیونکہ اسرائیلی حکام اچھی طرح جانتے تھے کہ بائیڈن امریکی فوجی و مالی امداد میں کسی بھی بڑی کٹوتی کے خلاف ہیں اور وہ ایسا نہیں کریں گے۔ سابق امریکی سفیر کا کہنا تھا، ’’جب تک آپ یہ کہنے کیلئے تیار نہ ہوں کہ یا تو ہماری بات مانو ورنہ ہم تمہیں تمہارے حال پر چھوڑ کر پیچھے ہٹ جائیں گے، تب تک آپ کے پاس وہ اثر و رسوخ نہیں ہوتا جس سے آپ اپنی مرضی کے نتائج حاصل کر سکیں۔‘‘  انہوں نے مزید کہا کہ بائیڈن کسی بھی قیمت پر اسرائیل کا ساتھ چھوڑنے والے نہیں تھے ایسا کوئی ممکنہ منظر نامہ ہی نہیں تھا جس میں وہ اسرائیل کو تنہا چھوڑ دیتے اور اسرائیل نے امریکہ کے اسی موقف کا بھرپور فائدہ اٹھایا۔

یہ بھی پڑھئے: ٹرمپ بڑھتےاخراجات سے توجہ ہٹانے کیلئے میرا نام، مذہب استعمال کرتے ہیں:عبدل ایل سید

واضح رہے کہ اکتوبر ۲۰۲۳ء سے جاری غزہ پر اسرائیل کی اس جنگ میں بے تحاشا فضائی و زمینی حملے، شدید محاصرہ اور فوجی کارروائیاں شامل رہی ہیں۔ غزہ کے طبی حکام کے مطابق، تب سے اب تک ۷۴؍ ہزار سے زائد فلسطینی شہید اورایک لاکھ ۷۵؍ ہزار سے زیادہ زخمی ہو چکے ہیں۔مزید برآں فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق، ۱۰؍ اکتوبر ۲۰۲۵ء سے نافذ العمل ہونے والے جنگ بندی معاہدے کے باوجود اسرائیلی فوج نے اپنے حملے جاری رکھے ہیںاور اس جنگ بندی کے خلاف ورزیوں میں اب تک ۱۴۶۰؍ سے زائد فلسطینی شہید جبکہ ۵۱۶۰؍ سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK