اسرائیلی پارلیمنٹ تحلیل ، ایک اور الیکشن کی تیاری

Updated: June 30, 2022, 12:38 PM IST | Agency | Tel Aviv-Yafo

؍ ۴؍ سال سے بھی کم عرصے میں پانچویںمرتبہ انتخابات ہوں گے ، حکومت اور اپوزیشن کے اراکین اس مسئلے پر ایک ہفتے سے بحث کررہے تھے ۔ اسی پارلیمنٹ کی بنیاد پرسابق وزیر اعظم اور اپوزیشن لیڈر نتین یاہو کی حکومت سازی کی کوشش ناکام

Former Prime Minister and Leader of the Opposition Benjamin Netanyahu is in the Israeli parliament..Picture:INN
اسرائیلی پارلیمنٹ میں سابق وزیر اعظم اور اپوزیشن لیڈر بنیامین نتین یا ہو ۔۔ تصویر: آئی این این

اسرائیلی پارلیمنٹ تحلیل ہوگئی ہے ۔ انتہائی کم وقفے کے دوران ایک بار پھر  سےانتخابات کی تیاری کی جارہی ہے۔ ا س سلسلے میں گزشتہ دنوں  اراکین  پارلیمنٹ نے  اہم قانون سازی کی تھی جس کے تحت متفقہ طور پر پارلیمنٹ کو تحلیل کرنے کے ایک بل کی منظوری دے دی ہے۔  میڈیارپورٹس کے مطابق اسرائیلی پارلیمنٹ کی جانب سے اہم قانون سازی سے ملک  میں۴؍ سال سے بھی کم عرصے کے دوران  پانچویںمرتبہ انتخابات ہوں گے ۔  وزیر اعظم نفتالی بینیٹ کے سبکدوش ہونے والے اتحاد اور سابق وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کی قیادت میں  حزب اختلاف کے اراکین گزشتہ ہفتے سے اسرائیل کی پارلیمنٹ( کنیسٹ) میں اس سے متعلق بل پر بحث کررہے تھے۔ حکومتی اتحاد کا کہنا ہے کہ وہ اس بل کی فوری منظوری چاہتا ہے ۔  نفتالی بینیٹ نے گزشتہ ہفتے اعلان کیا تھا کہ ان کا ایک سال پرانا، نظریاتی طور پر تقسیم ۸؍ جماعتی اتحاد اب مزید ساتھ چلنے کے قابل نہیں ہےلیکن  اپوزیشن لیڈر بنیامین نیتن یاہو اور ان کے اتحادی  ایک با ر پھر انتخابات کے حق میں نہیں  تھے۔   وہ  موجودہ  اراکین پارلیمنٹ ہی کی بنیاد پر نیتن یاہو کی قیادت میں ایک نئی حکومت بنانے کیلئے بات چیت اور مذاکرات کر رہے تھے۔ ان مذاکرات کی کامیابی کی صورت میں ملک میں نئے انتخابات ٹل جاتے لیکن ایسا نہیں ہوسکا۔  مذاکرات کے دوران فریقین نے  قانون سازی سے متعلق اتفاق کیا تھا اور آخر کار پیر کو ایک بل  پیش کرنے پر اتفاق ہوا جسے بدھ کو قانونی شکل دے دی گئی ۔  پارلیمنٹ تحلیل کرنے پر اتفاق کے بعد سابق وزیراعظم اور موجودہ  اپوزیشن لیڈر بنیامین نیتن یاہو کی نئی حکومت بنانے کی خواہش  پوری نہیں ہوسکی ۔ واضح اسرائیل وزیر خارجہ لاپید  اور وزیراعظم بینیٹ نے جون۲۰۲۱ء میں اتحادی حکومت قائم کی تھی۔ اس طرح  اسرائیل دو سالہ سیاسی بحران کا خاتمہ ہوا تھا جو سابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی طرف سے مسلسل حکومت سازی میں ناکامی کے سبب  پیدا ہوا تھا۔ گزشتہ روز کنیسٹ ہاؤس کمیٹی نے بل کو منظوری دی تھی، اس کے بعد اسے پہلی بار پڑھنے کیلئےایوان میں لایا گیا جہاں اس کو واضح اکثریت سے منظور کیا گیا۔منظور گئے بل کے مطابق پارلیمنٹ تحلیل ہو گئی، نئے انتخابات۲۵؍ اکتوبر یا یکم نومبر کو ہوں گے جبکہ الیکشن کی حتمی تاریخ مزید مذاکرات کے بعد مقرر کی جائے گی۔ ادھر وزیر اعظم کے طور پر اپنی آخری عوامی تقریب میں نفتالی بینیٹ کا کہنا تھا کہ انتخابات کے ہنگاموں کے درمیان ان کا دور بطور وزیراعظم اسرائیل کیلئے حیرت انگیز تھا۔تل ابیب یونیورسٹی کی سائبر ویک کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا ،’’ میرے خیال میں اس ایک سال میں ہم نے تقریباً۱۰؍سال کا کام کیا اور میں اس کے بارے میں بہت خوش ہوں۔‘‘قوم پرست نفتالی بینیٹ نے کہا کہ یائیر لاپید کے ساتھ ان کا اتحاد مشکل میں تھا ، اس کے باوجود  ملک میں استحکام لایا گیا۔ان کا کہنا تھا کہ میں نئے انتخابات سے خوش نہیں ہوں، یہ اسرائیل کیلئے اچھا نہیں لیکن کیا کریں؟ یہ ہونے جا رہا ہے۔ اب اسرائیل کےموجودہ وزیر خارجہ یائیر لاپید  وزارت عظمیٰ کی ذمہ داری سنبھالیں گے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK