امقبوضہ مشرقی القدس کے جنوبی حصے میں ۶۵۰؍ رہائشی مکانات بنائے جائیں گے۔ یہودی آبادکاروں نے مسجداقصیٰ کے صحن میں دھاوا بولا۔
EPAPER
Updated: August 12, 2026, 1:27 PM IST | Agency | Tel Aviv
امقبوضہ مشرقی القدس کے جنوبی حصے میں ۶۵۰؍ رہائشی مکانات بنائے جائیں گے۔ یہودی آبادکاروں نے مسجداقصیٰ کے صحن میں دھاوا بولا۔
اسرائیل نے مقبوضہ مشرقی القدس کے جنوبی حصے میں تقریباً۶۵۰؍ رہائشی مکانات پر مشتمل ایک نئے غیر قانونی بستی منصوبے کو آگے بڑھانا شروع کر دیا ہے۔فلسطین کے القدس گورنر دفتر نے گزشتہ روز جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ اسرائیلی علاقائی منصوبہ بندی اور تعمیراتی کمیٹی نے ’نوفی راحیل‘ نامی رہائشی بستی منصوبے کو عوامی جائزے کیلئے پیش کر دیا ہے۔ یہ منصوبہ فلسطینی گھروں کے قریب تقریباً۲۷؍ ایکڑ رقبے پر محیط ہوگا۔
یہ بھی پڑھئے: جین زی رائزنگ ٹور: نیہا، رانچی کے بعد کولکاتا میں، کہا’’پیپر لیک سسٹم کا مسئلہ ہے‘‘
گورنر دفتر نے خبردار کیا ہےکہ اس منصوبے کے اثرات صرف مجوزہ رہائشی مکانات کی تعداد تک محدود نہیں ہوں گے بلکہ اپنے محلِ وقوع کے باعث منصوبہ علاقے میں مقیم فلسطینیوں کی روزمرہ زندگی کو بھی براہِ راست متاثر کرے گا۔بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ منصوبہ اسرائیل کی ان غیر قانونی آبادکاری پالیسیوں کا حصہ ہے جن کا مقصد بستیوں کو وسعت دینا، زمینی حقائق کو تبدیل کرنا اور فلسطینی آبادی کی موجودگی اور شہری توسیع کو محدود کرنا ہے۔
گزشتہ روز ہی اسرائیلی تنظیم برائے انسانی حقوق ’عیر عمیم‘ نے بھی کہا ہے کہ اسرائیل نے حالیہ ہفتوں کے دوران مقبوضہ مشرقی القدس میں مجموعی طور پر۳؍ہزار۴۰۰؍ سے زائد رہائشی مکانات پر مشتمل تین بڑے غیر قانونی آبادکاری منصوبوں کو آگے بڑھایا ہے۔اقوام متحدہ اور بیشتر ممالک مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں تعمیر کی جانے والی اسرائیلی بستیوں کو بین الاقوامی قانون کے تحت غیر قانونی قرار دیتے ہیں اور اس بات پر زور دیتے ہیں کہ یہ بستیاں دو ریاستی حل کے امکانات کو کمزور کررہی ہیں۔
یہ بھی پڑھئے:کولمبیا میں زلزلے سے مرنے والوں کی تعداد بڑھ کر۲۱۳؍ ہوگئی، مزید اضافے کا خدشہ
اسرائیلی تنظیم ’پیس ناؤ‘ کا اندازہ ہے کہ مقبوضہ مغربی کنارے میں تقریباً ۵؍ لاکھ غیر قانونی اسرائیلی آبادکار اور مقبوضہ مشرقی القدس میں غیر قانونی بستیوں میں مزید تقریباً ڈھائی لاکھ افراد آباد ہیں۔ دریں اثناء منگل کی صبح۱۴۳؍ یہودی آبادکاروں نے قابض اسرائیلی پولیس اور اس کی اسپیشل فورسیز کے سخت سیکوریٹی حصار میں مسجداقصیٰ کے صحنوں میں دھاوا بول دیا اور اس کے احاطے میں اشتعال انگیز دورے کئے۔بیت المقدس کے ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ آباد کاروں نے مسلح قابض فورسیز کی سیکوریٹی میں باب المغاربہ، جو کہ۱۹۶۷ء سے اسرائیل کے مکمل کنٹرول میں ہے، کے راستے سے مسجد اقصیٰ پر دھاوا بولا۔