آرٹی آئی رضاکار منصور عمر درویش نے اپنے احباب اورذمہ دار اشخاص کومتوجہ کیا۔قطار لگواکراورتصویر کشی کے تعلق سے بھی توجہ دلائی۔
زکوٰۃ۔ تصویر:آئی این این
زکوٰۃ وصدقات کی تقسیم میں، نمائش ،خودنمائی اور قطار لگواکر تقسیم کرنے پر آر ٹی آئی رضاکارمنصور عمر درویش نے توجہ دلائی اور اپنے احباب سے بھی کہا کہ زکوٰۃ وصدقات کی رقم یا راشن وغیرہ کے کٹس کارپوریٹر اور ایم ایل اے یا دیگرکسی شخصیت کو بلاکر ان کے ہاتھوں سے خواتین کو دیتے ہوئےان کی تصاویر لینا،ریل بنانا اوراسے وائرل کرنا کتنا مناسب ہے؟ کیا ہم اس طرح زکوٰۃ وصدقات دے کر غریبوں کی عزت نفس سے کھلواڑ نہیں کررہے ہیں۔نمائندۂ انقلاب نے دیگر ذمہ داران سےبھی اس تعلق سے بات چیت کی توانہوں نےبھی اس طریقۂ کار کونامناسب قرار دیا ۔
انہوں نے یہ بھی بتایاکہ’’ہم نےجوگیشوری اوردیگر علاقوں کے اپنے شناساؤں اورمتعلقین وذمہ دار اشخاص کوبھی اس جانب متوجہ کیا تو انہوںنے یہ تسلیم کیا کہ واقعی اس طرح غریبوں کے ساتھ زیادتی کی جارہی ہے۔ زکوٰۃ اورصدقات کی ادائیگی کا جو ضابطہ شریعت نےمقرر کیا ہے اورجس طرح صاحب حیثیت پرذمہ داری عائد کی گئی ہے ،مروجہ طریقہ اس کے بالکل خلاف ہے ۔شریعت نے غریبوں کی مددکے ساتھ ان کا خیال رکھنے کاحکم دیا ہے ،ان کی غربت کا مذاق اڑانے یا جس انداز سے ان کی عزت ِنفس کوٹھیس پہنچے اور وہ عار محسوس کریں ، ان سے بچنا ضروری ہے۔ اس سے غریبوں کو توعار محسوس ہوتی ہی ہے ، قوم ِ مسلم کے تعلق سے بھی اچھا پیغام عام نہیں ہوتا ۔‘‘
منصور درویش کے مطابق ’’ دیگراحباب نےبھی اس کانوٹس لیا اوریہ وعدہ کیا کہ اس جانب توجہ دی جائے گی اور دیگر احباب کوبھی توجہ دلائی جائے گی تاکہ مستحقینِ زکوٰۃ وصدقات کی عزت اوروقار کاپورا خیال رکھتے ہوئے ان کی مدد کی جائے ، صاحبِ استطاعت کی یہ ذمہ داری ہے۔‘‘
بعض ذمہ دار اشخاص ،ان میںمولانا سید معین الدین اشرف عرف معین میاں وغیرہ بھی شامل ہیں، ان کا کہنا تھا کہ’’ بالکل ،عزت نفس کاخیال ضروری ہے مگربسا اوقات یہ بھی ہوتا ہےکہ تشہیر سےدوسرے لوگ بھی خیر کے کاموں کی جانب متوجہ ہوتے ہیں،اس سے بڑا کام ہوجاتا ہے اورخیر کے کاموں کا دائرہ وسیع ہوجاتا ہے۔‘‘
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ’’ بہت سے بندگان خدا ایسے ہیں جو محض رمضان المبارک ہی میں نہیںسال بھرخطیر رقم خرچ کرتے ہیں مگرنام ونمود سے خود کودور رکھتے ہیں۔‘‘