ورنہ لسٹ سے انہیں خارج کیا جا سکتا ہے۔ میپنگ نہ ہونے اور’انوملی‘ کے سبب انہیں درکار دستاویز دکھانا ہوگا۔
EPAPER
Updated: September 08, 2026, 2:30 PM IST | Iqbal Ansari | Mumbai
ورنہ لسٹ سے انہیں خارج کیا جا سکتا ہے۔ میپنگ نہ ہونے اور’انوملی‘ کے سبب انہیں درکار دستاویز دکھانا ہوگا۔
اسپیشل انٹیسیوریویژن (ایس آئی آر) کی ڈرافٹ لسٹ جاری کرنے سے قبل ہی مہاراشٹر کے تقریباً ۲؍کروڑ ۷؍لاکھ ووٹروں کے نام اس لئے حذف کر دئیے گئے تھے کہ انہوں نے انومریشن فارم جمع ہی نہیں کرایا تھا۔اب ڈرافٹ لسٹ میں شامل کئے گئے کل تقریباً ۷؍کروڑ ۷۲؍ لاکھ ووٹروں میں سے مزید ایک کروڑ ۲۰ ؍لاکھ ووٹروںکو اضافی دستاویزات فراہم کرنے کے چیلنج کا سامنا ہے۔ اس میں ناکامی پر انہیں حتمی ووٹرلسٹ سے خارج کیا جا سکتا ہے۔
جن ایک کروڑ ۲۰ ؍لاکھ رائے دہندگان کو دستاویز پیش کرنےہوں گے، وہ ڈرافٹ ووٹر لسٹ میں موجود کل ووٹروں کا ۸ء۱۵؍ فیصد ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ابوظہبی میں نایاب خالص سفید باز کی ریکارڈ قیمت، ۱۵؍ لاکھ درہم میں فروخت
۶۲؍لاکھ ۵۰؍ ہزار ووٹروں کے فارم میں بے ضابطگی (انوملی)
معتبر ذرائع سے ملی معلومات کے مطابق ایس آئی آر کے جو انومریشن فارم بی ایل او کے ذریعے اپ لوڈ کئے گئے ہیں، ان میں ۶۲؍ لاکھ ۵۰؍ہزار ووٹروں کے ناموں میں بے ضابطگی پائی گئی ہے یعنی ان کی تفصیلات بشمول نام، عمر، پتہ وغیرہ گزشتہ ایس آئی آر (۲۰۰۲ء ) کی تفصیل سے نہیں ملتی۔ ایسے ووٹر جن کانام غیر حاضر، منتقل ہونے، انتقال کر جانے وغیرہ(اے ایس ڈی ڈی زمرہ کے ووٹرس یا جنہوں نے فارم نہیں بھرا ہے،وہ ۳۰؍ ستمبر تک فارم ۶؍ پُر کرکے ووٹر لسٹ میں اپنا نام درج کروا سکتے ہیں۔
۲۹؍اکتوبر تک کا وقت ہے
ایک کروڑ ۲۰؍ لاکھ ووٹروں کو جن کو اَن میپڈ یا بے ضابطگی والے زمرے کیلئے نوٹس جاری کئے جائیں گے، انہیں دستاویزات فراہم کرنے کیلئے ۲۹؍ اکتوبر تک کا وقت ہے لیکن انہیں نوٹس میں بتائے گئے وقت اور تاریخ میں متعلقہ افسر کے سامنے حاضر ہونا ہوگا۔ اَن میپڈ کیٹیگری میں شامل افراد کو اپنے یا رشتہ داروں کےنام اپریل ۲۰۰۲ء کی ووٹر لسٹ کا شامل ہونے کا ثبوت پیش کرنا ہوگا۔
یہ بھی پڑھئے: بھیونڈی: مشرقی حلقہ سے ایک لاکھ ۸۴؍ ہزار ووٹروں کے نام ڈرافٹ لسٹ سے خارج!
ممبئی میں سب سے زیادہ انوملی اور بغیر میپ کے ووٹر
ڈرافٹ ایس آئی آر کے اعداد و شمار کے مطابق ریاست میں جن ایک کروڑ ۲۰؍لاکھ ووٹروں کو دستاویزات پیش کرنے کیلئے نوٹس بھیجے جائیں گے، ان میں سب سے زیادہ ۲۰؍ لاکھ ۹۰؍ ہزار ووٹرس ممبئی کے ہیں۔ ان میں ۷؍لاکھ بے ضابطگی والے ووٹرس ممبئی ، اس کے بعد ۵؍ لاکھ ۷۰؍ ہزار ووٹرس پونے اور ۵؍ لاکھ ۴۰؍ ہزار ووٹرس تھانے کے ہیں۔اسی طرح ریاست کے ایسے ووٹر جن کا ۲۰۰۲ء سے میپنگ نہیں ہوا ہے، ان کی تعداد کل ۵۹؍لاکھ ۷۰؍ہزارہیں۔ ان میں سب سے زیادہ ۱۳؍ لاکھ ۰ ۹؍ہزار ووٹرس ممبئی، ۷؍ لاکھ ۷۰؍ ہزار ووٹرس تھانے اور ۷؍ لاکھ ۵۰؍ ہزار ووٹرس پونے کے ہیں۔فہرست میں دوسرے نمبر پر پونے ضلع ہے جہاں کے ۱۳؍ لاکھ ۳۰؍ ہزار (۴ء۲۱؍فیصد ) ووٹروں کو نوٹس بھیجے جائیں گے ۔تھانے تیسرے نمبر پر ہے جہاں کے۱۳؍لاکھ ۲۰؍ ہزار (۶ء۲۸؍ فیصد ) ووٹروں کو نوٹس دیاجائے گا۔دیگر اضلاع جن میں ممبئی کے علاقے سے باہر زیادہ تعداد میں ووٹروں کو نوٹس جاری کیا جائے گا، ان میں ناگپور ۸؍ لاکھ ۶۰؍ ہزار ، ناسک ۷؍ لاکھ ۳۰؍ ہزار اورشولاپور ۵؍ لاکھ ووٹرس شامل ہیں۔