غزہ جنگ کی وجہ سے ۳؍ تعلیمی سال بری طرح متاثر ہوئے، زیادہ تر اسکول بمباری میں مکمل یا جزوی طور پر تباہ ہوچکے ہیں، مغربی کنارہ میں بھی اسرائیلی فوج اور یہودی آبادکاروں کے مسلسل چھاپوں کےسبب تعلیمی سرگرمیاں متاثر ہیں۔
EPAPER
Updated: September 08, 2026, 2:20 PM IST | Agency | West Bank
غزہ جنگ کی وجہ سے ۳؍ تعلیمی سال بری طرح متاثر ہوئے، زیادہ تر اسکول بمباری میں مکمل یا جزوی طور پر تباہ ہوچکے ہیں، مغربی کنارہ میں بھی اسرائیلی فوج اور یہودی آبادکاروں کے مسلسل چھاپوں کےسبب تعلیمی سرگرمیاں متاثر ہیں۔
مقبوضہ مغربی کنارے میں فلسطینیوں کے خلاف اسرائیلی فوج کے محاصرے ، ناکہ بندیاں ، فائرنگ اور فلسطینیوں کی نسل کشی کا سلسلہ جاری ہے۔ نابلس کے جنوب میں واقع ایک قصبے قصرہ کا فوجی محاصرہ بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ یہ محاصرہ ایک ماہ پر محیط ہو چکا ہے۔ فوجی محاصرے کی وجہ سےیہاں تعلیمی سیشن کے پہلے روز بھی قصرہ کے کئی بچے اسکولوں میں نہ پہنچ سکے۔ا سکولوں کے اساتذہ کے بارے میں بھی کئی جگہوں سے یہ اطلا ع ملی ہے۔ خیال رہے کہ فلسطین میں نیا تعلیمی سیشن ہر سال ماہ ستمبر میں شروع ہوتا ہے۔فلسطینی محکمہ تعلیم کے حکام نے اتوارکو بتایا ہے کہ نئے تعلیمی سیشن کے پہلے روز بھی چونکہ قصرہ کا محاصرہ جاری تھا اس لیےکئی بچوں کو اسکول پہنچنے میں دقت پیش آئی اور کئی پہنچ ہی نہ سکے۔
یہ بھی پڑھئے: ریاستی حکومت نے تبدیلیٔ مذہب قانون کا کتابچہ عام کیا
واضح رہےکہ قصرہ میں اسرائیلی فورسیز نے تین فلسطینی گھروں کا محاصرہ کررکھا ہے اور دعویٰ کررہی ہے یہودی آباد کاروں سے تحفظ کیلئے ایسا کیاجارہا ہے۔غزہ میں جاری اسرائیلی جنگ کی وجہ سے ۳؍ تعلیمی سال بری طرح متاثر ہوئے، اس کے بعد اب یہ صورت حال ہےکہ زیادہ تر اسکولوں کی عمارتوں کو اسرائیلی فوج نے بمباری کرکے مکمل یا جزوی طور پر تباہ کر دیا ہے جبکہ مقبوضہ مغربی کنارہ میں بھی اسرائیلی فورسیز اوریہودی آبادکاروں کے مسلسل چھاپوں کےباعث تعلیمی سرگرمیاں متاثر ہیں ۔ فلسطینی ذرائع کے مطابق۲۷-۲۰۲۶ء کے تعلیمی سال کیلئے مغربی کنارہ کے اسکولوں میں ۸؍ لاکھ ۴۶؍ ہزار طلبہ نے اندراج کرایا ہے۔ ان طلبہ کامغربی کنارہ کے تقریباً ۲۵۳۷؍ پرائیویٹ ا ور سرکاری اسکولوں میں داخلہ ہوا ہے جن میں تقریباً۵۴؍ہزارمردوخواتین ٹیچر درس وتدریس پر مامور ہیں۔ کچھ اسکول فلسطینی پناہ گزینوں کیلئے اقوام متحدہ کی ایجنسی ’اُنروا‘کے ذریعے بھی چلائے جارہے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: غیر قانونی تعمیرات پر کے ڈی ایم سی کا بلڈوزر، چال مافیا میں کھلبلی
یہودی آباد کاروں کا حملہ، حافظ قرآن شہید
غرب اردن کے جنوبی شہر قلقیلیہ میں حجہ کے مقام پر یہودی بلوائیوں کی دہشت گردی کے نتیجے میں نوجوان عمر محمد طوباسی شہید ہوگئے۔النجاح نیشنل یونیورسٹی کے ڈینٹل سرجری کے طالب علم عمر۲۰؍ سا لہ محمد طوباسی اتوار کی دیر شام حجہ پر قابض اسرائیل کی فورسیز کی سرپرستی میں یہودی آباد کاروں کے حملے کے دوران مقامی شہریوں کا دفاع کرتے ہوئے گولیوں سے چھلنی ہونے کے بعد شہید ہو گئے۔عمرمحمد طوباسی النجاح نیشنل یونیورسٹی میں ڈینٹل سرجری کے طالبعلم تھے اور قرآن بھی حفظ کیاتھا۔