Inquilab Logo Happiest Places to Work

امریکہ پر اعتماد ممکن نہیں، جنگ کسی کے مفاد میں نہیں: مسعود پیزشکیان

Updated: April 20, 2026, 9:32 PM IST | Tehran

ایرانی صدر مسعود پیزشکیان نے امریکہ پر عدم اعتماد کو ’’ناگزیر حقیقت‘‘ قرار دیتے ہوئے سفارتی راستہ اختیار کرنے پر زور دیا ہے۔ ایران اور امریکہ کے درمیان جاری کشیدگی اور دو ہفتہ جنگ بندی کے اختتام سے قبل بیان سامنے آیا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان اصل تنازع آبنائے ہرمز پر کنٹرول کے متعلق ہے، جبکہ مذاکرات کے امکانات غیر یقینی صورتحال کا شکار ہیں۔

Picture: INN
تصویر: آئی این این

ایران کے صدر مسعود پیزشکیان نے امریکہ کے ساتھ تعلقات پر سخت مؤقف اپناتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ پر اعتماد نہ کرنا ایک ’’ناگزیر حقیقت‘‘ بن چکا ہے، تاہم انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ جنگ کسی بھی فریق کے مفاد میں نہیں۔ غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایرانی صدر نے موجودہ کشیدہ حالات میں سفارتی راستہ اپنانے کی ضرورت پر زور دیا۔ ان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران اور امریکہ کے درمیان جاری دو ہفتوں کی جنگ بندی بدھ کو ختم ہونے والی ہے، جس سے خطے میں مزید غیر یقینی صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: تمل ناڈو انتخابات: ۴۰۰؍ سے زائد امیدواروں پر سنگین مقدمات: اے ڈی آر

اسی دوران امریکی نمائندے ایران کے ساتھ مذاکرات کے سلسلے میں اسلام آباد پہنچ رہے ہیں، جہاں ممکنہ مذاکرات کی راہ ہموار کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ تاہم تہران کی جانب سے ابھی تک یہ واضح نہیں کیا گیا کہ آیا وہ اپنا وفد پاکستان بھیجے گا یا نہیں، جس سے سفارتی عمل پر سوالیہ نشان برقرار ہے۔ ایرانی سرکاری ٹی وی نے ایک باخبر مگر نامعلوم ذریعے کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ امریکہ کے ’’غیر منطقی اور حد سے زیادہ مطالبات‘‘ اور اس کے بدلتے ہوئے موقف کی وجہ سے مذاکرات کے دوسرے دور کا امکان فی الحال کم دکھائی دیتا ہے۔ یہ مؤقف دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کے فقدان کو مزید نمایاں کرتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: جنوبی سوڈان قحط کے دہانے پر، اقوام متحدہ کا ہنگامی انتباہ

دونوں حریف ممالک کے درمیان کشیدگی کی بنیادی وجہ آبنائے ہرمز ہے، جو عالمی تیل کی ترسیل کے لیے ایک انتہائی اہم گزرگاہ ہے۔ اطلاعات کے مطابق ایران نے اس علاقے میں بحری آمد و رفت پر کنٹرول سخت کر دیا ہے، جس کے جواب میں امریکہ نے ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی جاری رکھی ہوئی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر جنگ بندی ختم ہونے کے بعد کوئی پیش رفت نہ ہوئی تو خطے میں کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے، جس کے عالمی معیشت اور توانائی کی منڈیوں پر بھی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ دوسری جانب، سفارتی کوششیں جاری ہیں، لیکن دونوں ممالک کے بیانات اور زمینی اقدامات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ اعتماد کا فقدان مذاکراتی عمل میں سب سے بڑی رکاوٹ بنا ہوا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK