Updated: April 20, 2026, 4:26 PM IST
| Chennai
اسوسی ایشن فار ڈیموکریٹک ریفارمز (اے ڈی آر) کی رپورٹ کے مطابق تمل ناڈو اسمبلی انتخابات میں ۴۰۰؍ سے زائد امیدوار سنگین مجرمانہ مقدمات کا سامنا کر رہے ہیں۔ مجموعی طور پر ۱۸؍ فیصد امیدواروں پر فوجداری معاملات ہیں، جبکہ دولت اور مجرمانہ پس منظر دونوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔
اسوسی ایشن فار ڈیموکریٹک ریفارمز (اے ڈی آر) کی جانب سے جاری کردہ تازہ تحقیق نے تمل ناڈو اسمبلی انتخابات کے امیدواروں کے حوالے سے تشویشناک تصویر پیش کی ہے، جہاں بڑی تعداد میں امیدوار مجرمانہ مقدمات میں ملوث پائے گئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق، تجزیہ کیے گئے امیدواروں میں سے ۴۰۰؍ سے زائد ایسے ہیں جن کے خلاف سنگین مجرمانہ مقدمات درج ہیں، جو مجموعی امیدواروں کا تقریباً ۱؍ فیصد ہے۔ ان مقدمات میں قتل، اغوا، حملہ اور خواتین کے خلاف جرائم جیسے سنگین الزامات شامل ہیں۔ اعداد و شمار کے مطابق ۱۸؍ امیدواروں پر خواتین کے خلاف جرائم جبکہ ۱۳؍ پر قتل کے مقدمات درج ہیں، جو انتخابی عمل میں جرائم کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کو ظاہر کرتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ہندی بولنے والے ووٹر مغربی بنگال میں ’کنگ میکر‘، ۵۰؍ سیٹوں پر اہم کردار ہوگا
اے ڈی آر نے ۲۳۴؍ اسمبلی حلقوں میں انتخاب لڑنے والے ۴؍ ہزار ۲۳؍ امیدواروں میں سے ۳؍ ہزار ۹۹۲؍ کے حلف ناموں کا تجزیہ کیا۔ اس میں سے ۷۲۲؍ امیدواروں، یعنی ۱۸؍ فیصد نے خود تسلیم کیا کہ وہ فوجداری مقدمات کا سامنا کر رہے ہیں۔ یہ شرح ۲۰۲۱ء کے انتخابات میں ۱۳؍ فیصد کے مقابلے میں نمایاں اضافہ ظاہر کرتی ہے۔ تنظیم کے مطابق، ’’سنگین مجرمانہ مقدمات‘‘ ان جرائم کو کہا جاتا ہے جن کی سزا پانچ سال یا اس سے زیادہ ہو، جو ناقابل ضمانت ہوں یا جن کا تعلق عوامی خزانے یا بدعنوانی سے ہو۔
سیاسی جماعتوں کے لحاظ سے صورتحال بھی قابل توجہ ہے۔ آل انڈیا انا دراوڑ منیترا کزگم کے ۶۹؍ فیصد امیدواروں نے فوجداری مقدمات کا اعلان کیا، جن میں سے ۳۵؍ فیصد سنگین نوعیت کے ہیں۔ حکمراں دراوڑ منیترا کزگم کے ۴۰؍ فیصد امیدواروں پر مقدمات ہیں، جن میں تقریباً ۱۸؍ فیصد سنگین کیسز شامل ہیں۔ کانگریس، جو ڈی ایم کے کی حلیف ہے، کے نصف امیدواروں پر فوجداری مقدمات ہیں، جبکہ ۱۸؍ فیصد سنگین جرائم کے الزامات کا سامنا کر رہے ہیں۔ دوسری جانب بھارتیہ جنتا پارٹی کے ۴۸؍ فیصد امیدواروں کے خلاف فوجداری مقدمات ہیں، جن میں سے ۲۷؍ فیصد سنگین نوعیت کے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: ٹی ایم سی خواتین کو خود کفیل بنانے کے خلاف ہے: وزیر اعظم
اداکار سے سیاست داں بننے والے وجے کی پارٹی تاملگا ویٹری کزگم کے ۴۰؍ فیصد امیدواروں پر بھی مقدمات ہیں، جن میں ۱۹؍ فیصد سنگین کیسز شامل ہیں۔ یہ پارٹی پہلی بار انتخابات میں حصہ لے رہی ہے۔ رپورٹ میں دولت کے حوالے سے بھی اہم انکشافات سامنے آئے ہیں۔ تقریباً ۲۵؍ فیصد امیدوار کروڑ پتی ہیں، جبکہ اوسط اثاثے ۱ء۵؍ کروڑ روپے بتائے گئے ہیں۔ بڑی جماعتوں کے ۹۰؍ فیصد سے زیادہ امیدوار کروڑ پتی ہیں، جو سیاست میں پیسے کے بڑھتے اثر کو ظاہر کرتا ہے۔
سب سے امیر امیدوار کے طور پر اے آئی اے ڈی ایم کے کی لیما روز مارٹن سامنے آئیں، جن کے اثاثے ۵؍ ہزار ۸۶۳؍ کروڑ روپے ہیں، جبکہ وجے کے اثاثے ۶۴۸؍ کروڑ روپے بتائے گئے ہیں۔ تعلیم اور نمائندگی کے حوالے سے بھی عدم توازن سامنے آیا ہے۔ تقریباً ۹۰؍ امیدواروں نے خود کو ناخواندہ قرار دیا، جبکہ صرف ۱۱؍ فیصد امیدوار خواتین ہیں، جو صنفی نمائندگی میں کمی کو ظاہر کرتا ہے۔ سیاسی پس منظر میں ۲۰۲۱ء کے انتخابات میں ایم کے اسٹالن کی قیادت میں ڈی ایم کے اتحاد نے ۲۳۴؍ میں سے ۱۵۹؍ نشستیں جیت کر حکومت بنائی تھی، جبکہ اے آئی اے ڈی ایم کے بی جے پی اتحاد کو ۷۵؍ نشستیں حاصل ہوئی تھیں۔
یہ بھی پڑھئے: سمراٹ چودھری خواتین ریزرویشن بل سمجھ نہیں سکتے: تیجسوی
ریاست میں انتخابات کے لیے پولنگ ۲۳؍ اپریل کو ہوگی اور ووٹوں کی گنتی ۴؍ مئی کو کی جائے گی۔ یہ رپورٹ نہ صرف انتخابی سیاست میں مجرمانہ پس منظر کے بڑھتے رجحان کو اجاگر کرتی ہے بلکہ اس بات کی بھی نشاندہی کرتی ہے کہ دولت اور طاقت کس طرح جمہوری عمل کو متاثر کر رہے ہیں۔