مرکزی وزیر خزانہ نرملا سیتارمن نے طویل مدتی سرمایہ جاتی منافع ٹیکس کے نظام میں ممکنہ تبدیلی کے بارے میں کہا ہے کہ اس مرحلے پر کچھ بھی کہنا قبل از وقت ہوگا، کیونکہ حکومت نے آئندہ مرکزی بجٹ کی تیاری شروع کردی ہے۔
EPAPER
Updated: October 13, 2026, 7:03 PM IST | New Delhi
مرکزی وزیر خزانہ نرملا سیتارمن نے طویل مدتی سرمایہ جاتی منافع ٹیکس کے نظام میں ممکنہ تبدیلی کے بارے میں کہا ہے کہ اس مرحلے پر کچھ بھی کہنا قبل از وقت ہوگا، کیونکہ حکومت نے آئندہ مرکزی بجٹ کی تیاری شروع کردی ہے۔
مرکزی وزیر خزانہ نرملا سیتارمن نے طویل مدتی سرمایہ جاتی منافع ٹیکس (ایل ٹی سی جی) کے نظام میں ممکنہ تبدیلی کے بارے میں کہا ہے کہ اس مرحلے پر کچھ بھی کہنا قبل از وقت ہوگا، کیونکہ حکومت نے آئندہ مرکزی بجٹ کی تیاری شروع کردی ہے۔ انہوں نے اشارہ دیا کہ حکومت سرمایہ کاری اور ٹیکس کے نظام سے متعلق مختلف تجاویز پر غور کرے گی، تاہم ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ بجٹ میں کن امور کو ترجیح دی جائے گی۔ نرملا سیتارمن نے بلومبرگ نیو اکنامی فورم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستان اور بیرونِ ملک کے سرمایہ کار ایل ٹی سی جی ٹیکس کے حوالے سے اپنی آرا پیش کررہے ہیں اور حکومت ان تجاویز کو سنجیدگی سے سنے گی۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ طویل مدتی سرمایہ جاتی منافع ٹیکس کے معاملے کو سیکیورٹیز ٹرانزیکشن ٹیکس (ایس ٹی ٹی) سے الگ کرکے نہیں دیکھا جاسکتا۔ بازار کے بعض شرکا یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ کیا تمام اقسام کے اثاثوں کے ساتھ ٹیکس کے معاملے میں یکساں برتاؤ ہونا چاہیے۔ حکومت ان نکات اور متعلقہ تجاویز کا جائزہ لے گی، لیکن وزیر خزانہ نے ٹیکس کی شرح کم کرنے یا ٹیکس سے مستثنیٰ منافع کی حد بڑھانے کے بارے میں کوئی حتمی اعلان نہیں کیا۔ حکومت مالی سال ۲۸۔۲۰۲۷ء کے مرکزی بجٹ کی تیاری کررہی ہے، جسے یکم فروری ۲۰۲۷ء کو پارلیمنٹ میں پیش کیا جانا ہے۔ سرمایہ کاروں اور مالیاتی شعبے سے وابستہ حلقوں کی نظریں اس بجٹ پر مرکوز ہیں، کیونکہ اس میں سرمایہ جاتی منافع ٹیکس، حصص بازار میں سرمایہ کاری اور مالیاتی لین دین سے متعلق ممکنہ پالیسی تبدیلیوں پر توجہ دی جاسکتی ہے۔ تاہم، نرملا سیتارمن کے بیان سے فی الحال کسی تبدیلی کی تصدیق نہیں ہوتی۔
یہ بھی پڑھئے:ٹام کروز کی فلم’ ’ڈیگر‘‘ باکس آفس پر ناکام، وارنر برادرز کو زبردست نقصان کا خدشہ
موجودہ قواعد کے مطابق، ایک سال سے زیادہ مدت تک رکھے گئے فہرست شدہ حصص اور حصص پر مبنی میوچوئل فنڈز سے حاصل ہونے والے طویل مدتی سرمایہ جاتی منافع پر۵ء۱۲؍ فیصد ٹیکس عائد ہوتا ہے۔ ایک مالی سال میں ایسے اہل منافع کے ابتدائی ۲۵ء۱؍لاکھ روپے تک ٹیکس سے چھوٹ حاصل ہے۔ حکومت نے جولائی ۲۰۲۴ء کے بجٹ میں ایل ٹی سی جی ٹیکس کی شرح ۱۰؍ فیصد سے بڑھا کر۵ء۱۲؍ فیصد کردی تھی، جبکہ ٹیکس سے مستثنیٰ منافع کی حد ایک لاکھ روپے سے بڑھا کر ۲۵ء۱؍ لاکھ روپے کردی گئی تھی۔
بجٹ ۲۰۲۶ء میں بعض سرمایہ کاروں کو امید تھی کہ ایل ٹی سی جی ٹیکس کی شرح کم کی جائے گی یا ٹیکس سے مستثنیٰ منافع کی حد بڑھائی جائے گی، لیکن حکومت نے موجودہ نظام برقرار رکھا۔ دوسری جانب، فیوچرز اور آپشنز (ایف اینڈ او) میں تجارت پر سیکیورٹیز ٹرانزیکشن ٹیکس میں اضافہ کیا گیا تھا۔صنعتی تنظیموں اور غیر ملکی پورٹ فولیو سرمایہ کاروں کا کہنا رہا ہے کہ ہندوستانمیں سرمایہ جاتی منافع پر ٹیکس کا موجودہ نظام ملکی حصص بازار کی عالمی مسابقت اور سرمایہ کاری کی آمد کو متاثر کرسکتا ہے۔ رواں سال بھارتی حصص بازار میں غیر ملکی سرمایہ کاروں کی مسلسل خالص فروخت نے بھی اس بحث کو اہم بنا دیا ہے۔ سرمایہ کاروں کے مطابق، ٹیکس کی شرح اور مختلف اثاثوں پر ٹیکس کے ضوابط سرمایہ کاری کے فیصلوں میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے:ٹام کروز کی فلم’ ’ڈیگر‘‘ باکس آفس پر ناکام، وارنر برادرز کو زبردست نقصان کا خدشہ
وزیر خزانہ کے بیان کے بعد ہندوستانی حصص بازار میں تیزی دیکھی گئی اور کاروبار کے اختتام پر سینسیکس اور نفٹی دونوں اہم اشاریے ایک فیصد سے زیادہ اضافے کے ساتھ بند ہوئے۔ بازار میں اس تیزی کو سرمایہ کاروں کی جانب سے مستقبل میں ممکنہ ٹیکس تبدیلیوں کی امیدوں سے جوڑا جاسکتا ہے، تاہم وزیر خزانہ نے ایل ٹی سی جی ٹیکس میں کسی تبدیلی کا وعدہ نہیں کیا ہے۔
مجموعی طور پر نرملا سیتارمن کے بیان نے بجٹ ۲۸۔۲۰۲۷ء سے پہلے سرمایہ جاتی منافع ٹیکس اور حصص بازار سے متعلق بحث کو پھر اہم بنا دیا ہے۔ اب سرمایہ کاروں کی نظریں حکومت کی آئندہ مشاورت اور بجٹ کے اعلانات پر ہیں، جن سے یہ واضح ہوسکے گا کہ ایل ٹی سی جی ٹیکس، ٹیکس سے مستثنیٰ منافع کی حد اور ایس ٹی ٹی کے نظام میں کوئی تبدیلی کی جائے گی یا موجودہ ضوابط برقرار رہیں گے۔