سپریم کورٹ کے سابق جج نے اندھیر نگری پر سوال اٹھایا، کہا کہ ’’ اگرحکومت کسی کی شہریت پر سوال اٹھاتی ہے تو اسی کو ثابت کرنا ہوگاکہ وہ ہندوستانی شہری نہیں ہے‘‘
جسٹس سدھانشو دھولیا-تصویر:آئی این این
سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس سدھانشو دھولیا نے ایس آئی آر کے نام پر شہریوں کو اپنی شہریت ثابت کرنے پر مجبور کئے جانے کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر حکومت کو کسی کی شہریت پر شبہ ہے تو اسے یہ ثابت کرنا چاہئے کہ وہ شہری نہیں ہے۔ ایس آئی آر کے موجودہ طریقہ کار پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس میں شہریوں پر اپنی شہریت ثابت کرنے کا غیر منصفانہ بوجھ ڈال دیا گیا ہے جبکہ قانون کا مفروضہ ہمیشہ شہریت کے حق میں ہونا چاہیے۔
وہ معروف قانون داں اور وکیل کپل سبل کے یوٹیوب پروگرام ’’دل سے وِد کپل سبل‘‘ میںگفتگو کررہے تھے۔ شہریت کے حوالے سے انہوں نے کہاکہ’’اگر آپ ہندوستان میں ہیں تو یہی مفروضہ ہونا چاہیے کہ آپ ہندوستان کے شہری ہیں۔‘‘انہوں نے بلاک لیول افسران (بی ایل او) کو شہریت پر اعتراض کے اختیار پر بھی سوال اٹھایا اور اسے خطرناک قرار دیا۔ انہوں نے کہاکہ’’کوئی بھی شخص یہ اعتراض کر سکتا ہے کہ آپ شہری نہیں ہیں لیکن اس کا فیصلہ کون کرے گا؟ بلاک لیول افسر تویہ فیصلہ نہیں کر سکتا۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ’’ کسی شخص کو اپنی شہریت ثابت کرنے پر مجبور کرنا درست نہیں ہے، اگر ریاست کسی کی شہریت پر سوال اٹھاتی ہے تو اسے خود یہ ثابت کرنا چاہیے کہ وہ شخص ملک کا شہری نہیں ہے۔‘‘ آئین ساز اسمبلی کی بحث کا حوالہ دیتے ہوئے جسٹس دھولیا نے کہا کہ آئین بنانے والوں کا مقصد ایسا اخراجی نظام قائم کرنا نہیں تھا جس کے تحت پیدائش کے سرٹیفکیٹ یا دیگر دستاویزات نہ ہونے کی بنیاد پر لوگوں سے شہریت یا حق رائے دہی چھین لیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ قانون کا بنیادی مفروضہ شہریت کے حق میں ہونا چاہیے لیکن موجودہ نظام لوگوں کو شامل رکھنے کے بجائے خارج کرنے کا رویہ اختیار کر رہا ہے۔اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ محض مخصوص دستاویزات نہ ہونے یا کسی مضبوط وجہ کے بغیر کسی کی شہریت پر سوال نہیں اٹھایا جانا چاہیے، انہوں نے اپنی مثال پیش کی۔ جسٹس دھولیا نے بتایا کہ ان کی پیدائش گھر میں ہوئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ ان کے پاس بھی پیدائش کا سرٹیفکیٹ نہیں ہے، اسلئےے ایسے دستاویزکو لازمی قرار دینا حقیقت سے مطابقت نہیں رکھتا۔
پاسپورٹ کے حوالے سے بھی مودی سرکار کے موقف پر اعتراض کرتے ہوئے جسٹس دھولیا نےکہاکہ تکنیکی طور یہ سفری دستاویز ہے لیکن ’’اگر قانون کہتا ہے کہ آپ کو اس وقت تک پاسپورٹ نہیں مل سکتا جب تک آپ ہندوستانی نہ ہوں، تو پھر اگر آپ کے پاس پاسپورٹ ہے تو یقیناً آپ ہندوستانی ہیں۔‘‘ انہوں نے نشاندہی کی کہ پاسپورٹ پر’’شہریت :ہندوستانی‘‘ لکھا ہوتا ہے۔