لاک ڈاؤن کے بعد کاروبارمعمول پر آنے میں ایک سال لگ سکتا ہے

Updated: May 22, 2020, 10:46 AM IST | Agency | New Delhi

کارپوریٹ ایگزیکٹیوز، کاروباری مالکان ، اور بانیوں نے ایک سروے میں کہا ہے کہ لاک ڈاؤن کے دوران مختلف کمپنیوں کی آمدنی میں پہلے ہی۲۵؍ فیصد سےزیادہ کی کمی ہوچکی ہے، ان کا کہنا ہےکہ آئندہ دنوں مارکیٹ کے لحاظ سے جس کا تعلق بالخصوص کارپوریٹ امور سے ہے، حالات مزید خراب ہوسکتےہیں

Industry - PIC : INN
کاروبار ۔ تصویر : آئی این این

لاک ڈاؤن کی وجہ سے کمپنیوں کی آمدنی میں ۲۵؍ فیصد سے زیادہ کی کمی واقع ہوئی ہے اور کاروبار کو معمول پر آنےمیں ایک سال سے زیادہ کا وقت لگ سکتا ہے۔ ایک سروے میں یہ اشارہ ملا ہےکہ لاک ڈاؤن کےاثرات تادیر قائم رہیںگے او رکاروباری لحاظ سے معمولات اتنی جلدی بہتر نہیںہوںگے ۔ آن لائن سرمایہ کاری میں مدد فراہم کرنے والی کمپنی ا سکریپ باکس کے ذریعہ کئے گئے سروے’ `کووِڈ۔۱۹؍ اور آپ کی دولت‘  کے تحت ، کمپنیوں کی آمدنی اور ملازمت پر لاک ڈاؤن کے اثرات کے بارے میں بتایا گیا ہے۔سروے میں حصہ لینے والےکمپنیوں کے مالکان،ایگزیکٹیواورحصہ دارو ں کا کہنا ہے کہ آئندہ دنوں مارکیٹ کے لحاظ سے ،جس کا تعلق بالخصوص کارپوریٹ امور سے ہے، حالات مزید خراب ہوسکتےہیں۔ لاک ڈاؤن کے بعدہر طرح کی کاروباری سرگرمی دھیرے دھیرے شروع ہوگی اوردھیرے دھیرے رفتار پکڑ ے گی ۔ اس کیلئے پورے ایک سال کامرحلہ لگ سکتا ہے۔ 
 کارپوریٹ ایگزیکٹیوز، کاروباری مالکان ، اور بانیوں نے سروے میں کہا ہے کہ لاک ڈاؤن کے دوران مختلف کمپنیوں کی آمدنی میں پہلے ہی۲۵؍ فیصدسےزیادہ کی کمی واقع ہوچکی ہے۔اب لاک ڈاؤن کھلنے کے بعدمحدود معاشی سرگرمیوں کی اجازت ہوگی ، اس پرسماجی دوری کی بھی شرط ہوگی ۔مزدور اور ملازمین نہیںہوںگے۔ایسے میںحالات کے جلد بہتر  ہونے کا امکان نہیں ہے۔اس کے علاوہ سروے میں حصہ لینے وا لے تمام کا  ماننا ہے کہ۲۰۲۱ء تک  ہی تجارت معمول پر آسکے گی ، جبکہ۲۲؍  فیصد کا خیال ہے کہ کاروباری دنیا  کےمعمول پر آنے میں تالہ بند ہونے کے بعد ایک سال سے زیادہ وقت لگ سکتا ہے۔
 بتا دیں کہ اسکریپ باکس نے یہ آن لائن سروے یکم مئی  سے۱۵؍ مئی ۲۰۲۰ء کے درمیان کیا۔ کارپوریٹ دنیا  کے۱۲۰۰؍  افراد نے سروے میں حصہ لیا۔ ان میں  سے۵۴؍ فیصد بڑی کمپنیوں میں کام کرنے والے افراد،۳۲؍ فیصد چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں (ایس ایم ای) میں کام کرنے والے اور۱۴؍ فیصد اسٹارٹ اپ میں کام کرنے والے افراد  شامل ہیں۔ 
 سروے میں انکشاف ہوا ہے کہ کمپنیوں کی آمدنی میں کمی کے ساتھ ساتھ روزگار میں بھی کمی ہوئی ہے۔ تقریباً۹۰؍ فیصد جواب دہندگان کا خیال ہے کہ ان کی کمپنیوں میں ۲۵؍ فیصد سے کم چھٹنی کی گئی ہے ، جبکہ بقیہ۱۰؍ فیصد نے بتایا کہ ان کی کمپنی میں ۲۵؍ فیصد سے زیادہ ملازمتوں میں کٹوتی کی گئی ہے ۔ سروے میں کہا گیا ہے کہ ’’چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں  پر  ملازمتوں میں کٹوتی کے لحاظ سے سب سے زیادہ منفی اثر پڑتا ہے۔‘‘ سروے کے مطابق لاک ڈاؤن کا سب سے زیادہ اثر فری لانسرز پر پڑا ہے۔ ان میں سے۶۶؍ فیصد نے بتایا کہ ان کی آمدنی میں ۲۵؍ فیصد سے زیادہ کمی واقع ہوئی ہے  جبکہ۳۵؍ فیصد نے کہا کہ ان کی آمدنی مکمل طور پر ختم ہوگئی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK