Updated: April 13, 2026, 9:59 PM IST
| Mumbai
اٹلی کے معروف ہفتہ وار میگزین L’Espresso کے متنازع سرورق نے اٹلی اور اسرائیل کے درمیان سفارتی کشیدگی کو جنم دے دیا ہے۔ اسرائیل کے سفیر جوناتھن پیلیڈ نے تصویر کو ’’گمراہ کن اور نفرت کو ہوا دینے والی‘‘ قرار دیا، جبکہ میگزین نے مؤقف اپنایا کہ یہ زمینی حقائق کی عکاسی ہے۔ اس معاملے نے یورپ میں آزادیٔ صحافت، امتیازی بیانیے اور اسرائیل فلسطین تنازع کے کوریج پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
اٹلی کے ممتاز نیوز میگزین L’Espresso کے تازہ شمارے کے ایک متنازع سرورق نے اٹلی اور اسرائیل کے درمیان سفارتی سطح پر کشیدگی کو جنم دے دیا ہے، جبکہ اس کے ساتھ ہی یورپ بھر میں آزادیٔ صحافت کی حدود، میڈیا کی ذمہ داری اور اسرائیل فلسطین تنازع کی نمائندگی پر ایک نئی اور شدید بحث شروع ہو گئی ہے۔ میگزین کے سرورق پر ’’L’abuso‘‘ (دی ابیوز) کے عنوان سے شائع ہونے والی تصویر میں ایک مسلح اسرائیلی آبادکار کو دکھایا گیا ہے جو ایک فلسطینی خاتون کا ویڈیو بنا رہا ہے، اور اس کے چہرے پر ایک غیر انسانی مسکراہٹ نمایاں ہے۔ یہ تصویر اطالوی فوٹوگرافر پیئترو مسورزو کے دستاویزی منصوبے کا حصہ ہے، جبکہ اس کے ساتھ شائع مضمون، جسے ڈینئیل ماسترگیاکومو نے تحریر کیا، ’’گریٹر اسرائیل‘‘ کے تصور، اس کی مذہبی جڑوں اور بین الاقوامی قانون سے اس کے ٹکراؤ کا جائزہ لیتا ہے۔
سرورق منظر عام پر آنے کے فوراً بعد اسرائیلی ردعمل سخت اور فوری تھا۔ اٹلی میں اسرائیل کے سفیر جوناتھن پیلیڈ نے ایکس پر اس تصویر کو ’’حقیقت کو مسخ کرنے والی اور نفرت کو فروغ دینے والی‘‘ قرار دیا اور کہا کہ ذمہ دار صحافت کو متوازن اور درست ہونا چاہیے۔ تنقید صرف سفارتی سطح تک محدود نہیں رہی بلکہ اطالوی یہودی برادری کے پلیٹ فارم موکڈ نے بھی اس سرورق کو ’’دقیانوسی تصورات کا مظاہرہ‘‘ قرار دیا۔ ان کے مطابق، ایک اسرائیلی فوجی کو خوفناک اور دھمکی آمیز انداز میں پیش کرنا پوری آبادی کے بارے میں منفی عمومی تاثر پیدا کرنے کے مترادف ہے، جو امتیازی بیانیے کو تقویت دے سکتا ہے۔
اس کے برعکس، L’Espresso نے نہ تو سرورق واپس لیا اور نہ ہی کوئی معذرت جاری کی۔ ادارتی مؤقف میں واضح کیا گیا کہ یہ تصویر اور رپورٹ ان ’’روزمرہ زیادتیوں‘‘ کو اجاگر کرتی ہے جن کا سامنا فلسطینیوں کو کرنا پڑتا ہے، اور اسے ایک وسیع تر تناظر میں پیش کیا گیا ہے جہاں مغربی کنارے میں آبادکاری اور فوجی کارروائیوں کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ سوشل میڈیا پر اس تنازع نے مزید شدت اختیار کر لی، جہاں ایک بڑی تعداد نے اسرائیلی سفارتی اعتراض کو آزادیٔ صحافت پر دباؤ ڈالنے کی کوشش قرار دیا جبکہ دوسرے حلقوں نے اسے غیر متوازن اور اشتعال انگیز صحافت کہا۔
یہ بھی پڑھئے: ہنگری انتخابات: وکٹر اوربان کی ۱۶؍ سالہ حکمرانی ختم، پیٹر میگیار کی شاندار فتح
خیال رہے کہ یہ معاملہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اسرائیل فلسطین تنازع پہلے ہی عالمی سطح پر شدید توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے، خصوصاً ایران کے ساتھ کشیدگی اور لبنان میں جاری فوجی کارروائیوں کے تناظر میں۔ ایسے ماحول میں ہر تصویر اور ہر بیانیہ محض رپورٹنگ نہیں بلکہ ایک سیاسی مؤقف کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ ایک مخصوص تصویر کے ذریعے پورے تنازع یا ایک ریاست کی نمائندگی کرنا خطرناک عمومی سازی کا باعث بن سکتا ہے، جبکہ حامیوں کا مؤقف ہے کہ فوٹو جرنلزم کا مقصد ہی وہ دکھانا ہے جسے طاقتور حلقے چھپانا چاہتے ہیں، چاہے وہ کتنا ہی غیر آرام دہ کیوں نہ ہو۔