Inquilab Logo Happiest Places to Work

ہنگری انتخابات: وکٹر اوربان کی ۱۶؍ سالہ حکمرانی ختم، پیٹر میگیار کی شاندار فتح

Updated: April 13, 2026, 3:58 PM IST | Budapest

ہنگری کے عام انتخابات میں اپوزیشن لیڈر پیٹر میگیار کی شاندار فتح نے ملک کی سیاست میں ایک بڑے اور غیر معمولی تبدیلی کے آغاز کی نشاندہی کی ہے۔اس نتیجے نے نہ صرف وکٹر اوربان کی طویل حکمرانی کا خاتمہ کر دیا ہے بلکہ یورپ بھر میں نئی سیاسی صف بندی کی بحث بھی شروع کر دی ہے۔

Péter Magyar shows the victory sign after winning the election. Photo: INN
پیٹر میگیار الیکشن میں کامیابی کے بعد فتح کا نشان دکھاتے ہوئے۔ تصویر: آئی این این

ہنگری میں ایک سیاسی زلزلے کی صورت اختیار کرنے والے عام انتخابات میں اپوزیشن  لیڈر پیٹر میگیار فاتح قرار پائے ہیں، جس سے وسطی یورپ کا سیاسی منظرنامہ بدلنے کا امکان پیدا ہو گیا ہے۔نیشنل الیکشن آفس کے نتائج کے مطابق،۸۱؍ فیصد سے زیادہ ووٹوں کی گنتی کے بعد پیٹر میگیار کی پارٹی’’ٹِسزا پارٹی‘‘ (Tisza Party) تقریباً ۸۴ء۶۸؍فیصد ووٹ حاصل کرنے کی پوزیشن میں ہے، جس کے نتیجے میں اسے ہنگری کی پارلیمنٹ میں تقریباً۱۳۷؍ نشستیں ملنے کی توقع ہے۔اس جیت کا پیمانہ اتنا واضح اور فیصلہ کن تھا کہ موجودہ وزیرِاعظم وکٹر اوربان، جو یورپی یونین کے سب سے طویل عرصے تک حکومت کرنے والے لیڈر ہیں، نے اتوار کی رات شکست تسلیم کر لی۔اوربان، جو ۲۰۱۰ءسے ہنگری کی سیاست پر حاوی رہے ہیں، نے تصدیق کی کہ انہوں نے میگیار کو فون کر کے مبارکباد دی۔انہوں نے اپنے حامیوں سے کہا:’’نتیجہ واضح اور تکلیف دہ ہے۔ ہم حزبِ اختلاف سے اپنی قوم کی خدمت کریں گے اور کبھی ہار نہیں مانیں گے۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: امریکی ناکہ بندی کا اعلان، ہرمز میں جہاز رانی معطل، تیل کی قیمتوں میں اضافہ

یورپی  لیڈران نے ’’نئے دور‘‘ کا خیرمقدم کیا
یورپی دارالحکومتوں سے ردعمل تیزی سے آیا اور مجموعی طور پر مثبت رہا۔جرمن چانسلر فریڈرک مرز نے مبارکباد دیتے ہوئے ’’متحد یورپ‘‘ کیلئے مل کر کام کرنے کی اپیل کی، جبکہ فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے میگیار سے براہِ راست گفتگو کر کے اس فتح کو براعظمی استحکام کیلئے ایک اہم موڑ قرار دیا۔برطانوی وزیرِاعظم کیئر اسٹارمر نے اسے یورپی جمہوریت کیلئے’’تاریخی لمحہ‘‘ کہا، جبکہ اسپین کے وزیرِاعظم پیڈرو سانچیز نے اس نتیجے کو’’یورپی اقدار‘‘ کی جیت قرار دیا۔اٹلی کی وزیرِاعظم جارجیا میلونی نے میگیار کو ’’واضح فتح‘‘ پر مبارکباد دی اور تعمیری تعاون جاری رکھنے کا وعدہ کیا۔ میگیار کی جیت کے یوکرین کی جنگ پر گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔ یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلنسکی نے اپوزیشن لیڈرکو مبارکباد دی اور کیئو کی جانب سے تعلقات مضبوط بنانے اور ’’تعاون بڑھانے‘‘کی خواہش ظاہر کی۔ کئی  برسوں تک اوربان یورپی یونین کی یوکرین کیلئے امدادی پیکجوں کی راہ میں بڑی رکاوٹ رہے اور اکثر روس کے خلاف اربوں یورو کی امداد کو ویٹو کے ذریعے روک دیتے تھے۔اب میگیار کے اقتدار میں آنے کے بعد یورپی یونین کیلئے یوکرین کیلئے۹۰؍ ارب یورو کے قرضے کو حتمی شکل دینے کا راستہ کھل گیا ہے۔اگرچہ میگیار نے انتخابی مہم کے دوران جنگ کے بارے میں محتاط رویہ اختیار کیا، لیکن انہوں نے روسی اثر و رسوخ کی سخت مذمت کی۔گزشتہ ماہ انہوں نے کریملن سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ ہنگری کے عوام کو دھمکیاں دینا بند کرے، جو اوربان کی ولادیمیر پیوٹن کے ساتھ قریبی تعلقات سے ایک واضح انحراف تھا۔

یہ بھی پڑھئے: ایران اپنی تباہ شدہ تیل سہولیات کو دو ماہ میں بحال کر دے گا: نائب وزیر برائے تیل

امریکہ اور اسرائیل میں تشویش
جہاں برسلز میں خوشی کا ماحول ہے، وہیں دیگر طاقتور مراکز میں اس نتیجے نے تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔ اوربان عالمی ’’MAGA‘‘تحریک کے اہم ستون اور امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے قریبی اتحادی تھے۔انتخابات سے چند روز قبل ٹرمپ نے کہا تھا کہ اگر اوربان جیتے تو امریکہ اپنی ’’مکمل معاشی طاقت‘‘ ہنگری کی مدد کیلئے استعمال کرے گا، جبکہ نائب صدر جے ڈی وینس نے اوربان کی حمایت میں ہنگری کا دورہ بھی کیا تھا جسے میگیار نے غیر ملکی مداخلت قرار دیا۔اسرائیل میں بھی اس نتیجے پر تشویش ظاہر کی گئی ہے کیونکہ ہنگری ایک اہم سفارتی اتحادی سمجھا جاتا تھا۔ وزیرِاعظم  نیتن یاہو نے اوربان کی انتخابی مہم کی حمایت کی تھی اور  بڈاپیسٹ میں فِدیش پارٹی کے ایک پروگرام کیلئے ویڈیو پیغام بھی بھیجا تھا۔اوربان کے دور میں ہنگری اکثر یورپی یونین کے ان بیانات کو روک دیتا تھا جو اسرائیل پر تنقید کرتے تھے، جس سے اسے برسلز میں سفارتی تحفظ حاصل تھا۔ٹِسزا پارٹی کے زیادہ یورپی یونین نواز مؤقف کے ساتھ، تل ابیب کو خدشہ ہے کہ ہنگری کا وہ قابلِ اعتماد ’’ویٹو‘‘ مستقبل میں ختم ہو سکتا ہے جو مشرقِ وسطیٰ سے متعلق پالیسیوں میں استعمال ہوتا تھا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK