• Tue, 06 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

اٹلی: میلونی نے اے آئی ڈیپ فیک سے اپنی آواز کے تحفظ کیلئے قانونی قدم اٹھایا

Updated: October 06, 2026, 10:05 PM IST | Rome

اٹلی کی وزیر اعظم جارجیا میلونی نے مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ ڈیپ فیک اور اپنی آواز کی غیر مجاز نقل کے خلاف قانونی تحفظ کیلئے اپنی آواز کو ٹریڈ مارک کرانے کی درخواست دائر کردی ہے۔ یورپی یونین انٹلیکچوئل پراپرٹی آفس (EUIPO) میں دائر درخواست میں ان کی ۴؍ سیکنڈ کی آڈیو ریکارڈنگ بھی شامل ہے۔

Italian Prime Minister Giorgia Meloni. (File photo)
اٹلی کی وزیر اعظم جا رجیا میلونی۔ (فائل فوٹو)

اٹلی کی وزیر اعظم جارجیا میلونی نے اپنی آواز کو ٹریڈ مارک کے طور پر رجسٹر کرانے کیلئے یورپی یونین انٹل ایکچوئل پراپرٹی آفس (EUIPO) میں درخواست دائر کی ہے۔ اطلاعات کے مطابق اس اقدام کا مقصد مصنوعی ذہانت (AI) سے تیار کردہ ڈیپ فیک اور ان کی آواز کی غیر مجاز نقل کے خلاف انہیں زیادہ مضبوط قانونی تحفظ فراہم کرنا ہے۔ ۵؍ اکتوبر کو دائر کی گئی اس درخواست کی میلونی کے دفتر نے بھی تصدیق کی ہے۔ درخواست میں ۴؍ سیکنڈ کی ایک آڈیو ریکارڈنگ شامل ہے، جس میں وہ ’’Io sono Giorgia Meloni‘‘ (’’میں جارجیا میلونی ہوں‘‘) کا جملہ دو مرتبہ دہراتی ہیں۔ درخواست فی الحال جانچ کے مرحلے میں ہے۔ قابل ذکر ہے کہ ’’میں جارجیا میلونی ہوں‘‘ کا جملہ میلونی کے ساتھ خاص طور پر منسلک سمجھا جاتا ہے۔ انہوں نے ۲۰۱۹ء میں ایک سیاسی ریلی کے دوران یہ جملہ استعمال کیا تھا، جبکہ بعد میں ’’Io sono Giorgia‘‘ ان کی ۲۰۲۱ء میں شائع ہونے والی سوانح عمری کا عنوان بھی بنا۔ اس کتاب کے ہندوستانی ایڈیشن کا پیش لفظ ہندوستانی وزیر اعظم نریندر مودی نے لکھا تھا۔

یہ بھی پڑھئے: اگر مصر نے اسرائیل پر حملہ کیا تو سینائی باقی نہیں رہے گا: اسرائیلی وزیر

آواز کے ٹریڈ مارک سے کیا ہوگا؟

درخواست دائر کرنے کا یہ مطلب نہیں ہے کہ میلونی کی آواز کو مصنوعی ذہانت کے ذریعے نقل کرنا ناممکن ہوجائے گا۔ تاہم، اگر اسے منظوری مل جاتی ہے تو رجسٹریشن سے درخواست میں شامل شعبوں میں ان کی مخصوص آواز کی غیر مجاز تجارتی نقل کے خلاف قانونی کارروائی کیلئے ایک اضافی ذریعہ دستیاب ہوسکتا ہے۔ اطالوی میڈیا نے EUIPO میں جمع کرائی گئی درخواست کی بنیاد پر بتایا ہے کہ یہ رجسٹریشن خودکار طور پر AI نظاموں کو میلونی کی آواز کی نقل تیار کرنے سے نہیں روک سکے گی۔ اطالوی میڈیا کے مطابق درخواست میں قابلِ ڈاؤن لوڈ ملٹی میڈیا مواد، ثقافتی سرگرمیوں اور سیاسی تقریبات کے انعقاد سمیت مختلف شعبوں کا احاطہ کیا گیا ہے۔ یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مصنوعی ذہانت کی آواز نقل کرنے والی ٹیکنالوجی نے ایسی آڈیو تیار کرنا پہلے سے کہیں آسان بنا دیا ہے، جن میں کسی معروف شخصیت کو وہ باتیں کہتے ہوئے دکھایا جاسکتا ہے جو اس نے حقیقت میں کبھی نہیں کہیں۔ میلونی اس سے قبل بھی ڈیپ فیک کے خطرات سے خبردار کرچکی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ڈیپ فیک کسی کو بھی ’’دھوکا دے سکتے، متاثر کرسکتے اور نقصان پہنچا سکتے ہیں‘‘۔ ان کی جعلی تصاویر آن لائن گردش کرنے کے بعد انہوں نے مئی میں کہا تھا کہ وہ اپنا دفاع کرسکتی ہیں، لیکن ’’بہت سے دوسرے لوگ ایسا نہیں کرسکتے‘‘۔

میلونی اور ڈیپ فیک

اٹلی کی وزیر اعظم کی جعلی اور تبدیل شدہ تصاویر متعدد مرتبہ آن لائن گردش کرچکی ہیں، جن میں جنسی نوعیت کا ایسا مواد بھی شامل ہے جس میں غلط طور پر انہیں دکھایا گیا تھا۔ ۲۰۲۴ء میں میلونی نے ایک سارڈینیا کے شخص کے خلاف دیوانی مقدمہ دائر کیا تھا، جس پر الزام تھا کہ اس نے ان کے چہرے کا استعمال کرتے ہوئے ڈیپ فیک فحش تصاویر تیار کرکے تقسیم کی تھیں۔ یہ مقدمہ اب بھی ایک اطالوی عدالت میں زیرِ سماعت ہے۔ ان کا تازہ اقدام ان فنکاروں کی جانب سے کی جانے والی ایسی ہی کوششوں کے بعد سامنے آیا ہے، جنہوں نے اپنی مخصوص آوازوں اور شناخت کے دیگر عناصر کو غیر مجاز ڈیجیٹل نقل سے محفوظ رکھنے کیلئے قانونی تحفظ حاصل کرنے کی کوشش کی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: روس کا ایران کو ایک ارب ڈالر قرض دینے کا فیصلہ، رقم منتقلی کیلئے تیار: رپورٹ

دیگر شخصیات جنہوں نے اپنی آواز کا قانونی تحفظ حاصل کیا

گلوکارہ جیوسی فیریری بھی اپنی آواز کو ٹریڈ مارک کے طور پر رجسٹر کراچکی ہیں، جبکہ اطالوی وائس ایکٹر لوکا وارڈ نے بھی اپنی مخصوص آواز کیلئے ٹریڈ مارک تحفظ حاصل کرنے کی کوشش کی ہے۔ بین الاقوامی سطح پر ٹیلر سوئفٹ اور اسکارلیٹ جوہانسن سمیت متعدد معروف شخصیات کو اپنی شکل یا آواز کی مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ نقول کے حوالے سے تنازعات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ جوہانسن نے اوپن اے آئی کی جانب سے تیار کردہ ایک آواز پر اعتراض کیا تھا، جس کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ وہ ان کی اپنی آواز سے مشابہ معلوم ہوتی ہے، جبکہ انہوں نے اس منصوبے میں شرکت سے انکار کردیا تھا۔ اوپن اے آئی نے جان بوجھ کر ان کی آواز کی نقل کرنے کی تردید کی اور بعد میں اس فیچر کو واپس لے لیا۔ جاپان میں ایک حالیہ عدالتی فیصلے میں بھی انسانی آواز کو قانونی تحفظ دینے کی گنجائش تسلیم کی گئی۔ یہ مقدمہ ایک اینیمی وائس ایکٹر سے متعلق تھا، جس نے اپنی آواز کی مصنوعی ذہانت کے ذریعے تیار کردہ نقل کے خلاف قانونی کارروائی کی تھی۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK