ایک خاتون اور اسکے۴؍سالہ بچے کی لاش جب براگی ڈیم سے نکالی گئی تو ماں بیٹے کوبانہوں میں بھینچے ہوئے تھی یہ منظر دیکھ کر ہر کوئی رنجیدہ ہوگیا
EPAPER
Updated: May 02, 2026, 12:17 AM IST | Jabalpur
ایک خاتون اور اسکے۴؍سالہ بچے کی لاش جب براگی ڈیم سے نکالی گئی تو ماں بیٹے کوبانہوں میں بھینچے ہوئے تھی یہ منظر دیکھ کر ہر کوئی رنجیدہ ہوگیا
مدھیہ پردیش کے جبل پور میں برگی ڈیم میں جمعرات کی شام تقریباً پانچ بجے محکمۂ سیاحت کا ایک کروز اچانک ڈوب گیا۔ جس میں جمعہ کی شام تک ۹؍لاشیں نکالی جاچکی ہیں۔ انتظامیہ کے مطابق ۲۸؍افراد کو بچا لیا گیا ہے۔ ۳؍ بچوں سمیت چار افراد لاپتہ ہیں۔ بتایا جارہا ہے کہ حادثے کے وقت کروز میں تقریباً ۴۳؍سے ۴۷؍سیاح موجودتھے۔ ٹکٹ صرف ۲۹؍لوگوں کے لیے جاری کیے گئے تھے۔حادثہ ساحل سے تقریباً ۳۰۰؍میٹر دور ہوا، جس وقت کروز ڈوبا اس وقت ہوا کی رفتار ۷۴؍کلو میٹر فی گھنٹہ تھی۔ برگی سٹی کے سی ایس پی انجل مشرا کے مطابق ایس ڈی آر ایف نے کئی لوگوں کو بچایا، لیکن اندھیرا اور خراب موسم کی وجہ سے امدادی کارروائیوں میں خلل پڑا۔
دریں اثناءوزیر اعظم نریندر مودی نے حادثے پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے وزیر اعظم ریلیف فنڈ سے مرنے والوں کے اہل خانہ کو ۲-۲؍لاکھ روپے اور زخمیوں کو ۵۰-۵۰؍روپے کی ایکس گریشیا دینے کا اعلان کیا ہے۔ دوسری جانب وزیر اعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو نے حادثے کی تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔ شام کو انہوں نے جائے حادثہ کا معائنہ کیا اور بچ جانے والوں سے ملاقات بھی کی۔
جب ماں اوربچے کی لاش دیکھ کرہر کوئی رونے لگا
لائف جیکٹ پہنے ایک ماںاور اس کے سینے سے لپٹا اس کا معصوم بیٹا۔ جب دونوں کی لاشیں برگی ڈیم کے پانی سے باہر نکالی گئیں تو یہ منظر دیکھ کر لوگوں کی روح کانپ اٹھی۔ یہ دل دہلا دینے والے حادثے کے بعد کا وہ لمحہ تھا جس نے ہر ایک کو اندر تک ہلا کر رکھ دیا۔ موقع پر موجود افراد ہوں یا سوشل میڈیا پر یہ تصویر دیکھنے والے، ہر شخص کی آنکھیں یہ جذباتی منظر دیکھ کر نم ہو گئیں۔ یہ صرف ایک حادثہ نہیں تھا بلکہ ممتا کی وہ آخری جھلک تھی جو موت کے بعد بھی زندہ رہی۔ ماں آخری سانس تک اس ہولناک سانحے سے لڑتی رہی، مگر اپنے بچے کو سینے سے لگائے رکھا۔ موت بھی اس کے آنچل سے اس معصوم کو جدا نہ کر سکی۔
ریسکیو ٹیم نے کیا بتایا
فوج کی جانب سے آئے ریسکیو اہلکار نے بتایا کہ کروز الٹ کر ڈوب چکا تھا۔ اندر داخل ہونے کے بعد جہاں تھوڑی بہت جگہ ملی، وہاں سے اندر جا کر لاشوں کو تلاش کرنے کی کوشش کی گئی۔ پانی میں حدِ نگاہ انتہائی کم تھی، آدھے فٹ کے فاصلے تک بھی کچھ دکھائی نہیں دے رہا تھا۔ اندر کا منظر دیکھ کر ہم حیران رہ گئے۔ جب خاتون کو باہر نکالنے کی کوشش کی تو جسم باہر نہیں آ رہا تھا۔ غور سے دیکھا تو معلوم ہوا کہ وہ اپنے ساتھ ایک بچے کو بھی سمیٹے ہوئے تھیں۔ ہم نے کھینچنے کی کوشش کی مگر ماں کی اپنے بچے پر گرفت چھوٹ ہی نہیں رہی تھی۔امر اجالا کی رپورٹ کے مطابق مدھیہ پردیش سیاحت محکمہ کے افسر یوگیندر رچھاریا نے میڈیا کو بتایا کہ اس کروز کی تیاری۲۰۰۶ء میں کی گئی تھی اور اس میں۶۰؍ مسافروں کے بیٹھنے کی گنجائش ہے۔ جیولیس نامی مسافر نے بتایا کہ ہم چھ افراد سوار تھے۔ وہ اپنی بیوی، بیٹی، داماد، نواسی اور نواسے کے ساتھ کروز میں سوار ہوئے تھے۔ سفر کے دوران کسی قسم کی حفاظتی تدابیر کا خیال نہیں رکھا گیا۔ جب کروز ڈوبنے لگا تب جا کر مسافروں کو لائف سیونگ جیکٹس دی گئیں۔ اس حادثے میں ان کی بیوی مدھو کی موت ہو گئی جبکہ بیٹی رینا اور چار سالہ نواسہ لاپتہ ہیں۔ وہ خود، داماد اور نواسی سیا محفوظ ہیں۔ حادثے میں بچ جانے والی ایک بچی نے بتایا کہ کروز میں پانی بھر گیا تھا اور سب لوگ بھاگ رہے تھے۔ مجھے میرے پاپا مل گئے تو میں نے ان کا ہاتھ پکڑ لیا۔ میری ممی اور بھائی نہیں مل رہے۔ نانا مل گئے ہیں، نانی کی موت ہو گئی ہے۔