Updated: September 27, 2026, 12:03 PM IST
| Tel Aviv
’ہاریٹز‘ نے امریکہ میں اسرائیل کے وقار کے زوال کی رفتار تیز کرنے کی وجہ صدر ڈونالڈ ٹرمپ اور ریپبلکن پارٹی کے حق میں نیتن یاہو کی ”امریکی سیاست میں کھلم کھلا مداخلت“ کو قرار دیا۔ ہاریٹز نے اس سلسلے میں ایران کے ساتھ جنگ اور اس کے نتیجے میں پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے، انتہا پسند آباد کاروں کی جانب سے فلسطینیوں پر تشدد، اور غزہ، مغربی کنارے اور مشرقی یروشلم میں عیسائی برادریوں کو پہنچنے والے نقصان کو ایسے عوامل کے طور پر شمار کیا جن کی وجہ سے اسرائیل کے انتہائی وفادار حامیوں کی جانب سے بھی ”بے مثال تنقید“ سامنے آئی ہے۔
ٹرمپ اور نیتن یاہو۔ تصویر: ایکس
معروف اسرائیلی روزنامے ’ہاریٹز‘ نے جمعہ کے روز شائع ہونے والے اپنے اداریے میں کہا ہے کہ وزیرِ اعظم بنجامن نیتن یاہو نے امریکہ میں اسرائیل کے مقام و مرتبے کو ’بے مثال پستی‘ پر پہنچا دیا ہے۔ اداریے میں صہیونی ریاست کے سب سے اہم اتحادی کے ساتھ تعلقات میں سنگین ہوتے بحران سے خبردار کیا ہے۔
عبرانی اور انگریزی میں شائع ہونے والے اخبار کےاداریے میں کہا گیا ہے کہ ”اسرائیل کے طرزِ عمل اور دیگر ممالک، بالخصوص امریکہ کے ساتھ اس کے تعلقات کا مشاہدہ کرنے والا ہر شخص برسوں سے اپنے سب سے اہم اتحادی کے ساتھ اسرائیل کے اسٹریٹجک تعلقات میں بے مثال بحران سے خبردار کر رہا تھا۔“ اخبار نے مزید لکھا ہے کہ نیتن یاہو اور ان کی حکومت کی وجہ سے پہنچنے والے اس نقصان کے نتیجے میں تعلقات کا ایک نئی نچلی ترین سطح پر پہنچنا طویل عرصے سے متوقع تھا۔ نیتن یاہو نے ان تمام نقصانات سے متعلق ”متعدد انتباہات کو نظر انداز کیا“ جو وہ اس رشتے کو پہنچا رہے تھے۔
یہ بھی پڑھئے: اسرائیل غزہ میں نسل کشی کا مرتکب ہو رہا ہے،اسپین کے وزیراعظم کا اقوام متحدہ میں خطاب
’ہاریٹز‘ نے امریکہ میں اسرائیل کے وقار کے زوال کی رفتار تیز کرنے کی وجہ صدر ڈونالڈ ٹرمپ اور ریپبلکن پارٹی کے حق میں نیتن یاہو کی ”امریکی سیاست میں کھلم کھلا مداخلت“ کو قرار دیا۔ روزنامے نے نشاندہی کی کہ ڈیموکریٹس کے درمیان اسرائیل کا وقار ”تباہ“ ہوچکا ہے۔ اخبار نے واضح کیا کہ یہ نقصان اب محض کسی ایک سیاسی جماعت تک محدود نہیں رہا۔ اخبار نے لکھا ہے کہ”گزشتہ دو برسوں میں نیتن یاہو، اتمار بن گویر اور بیزالیل سموٹریچ کی حکومت نے جی او پی (ریپبلکن پارٹی) میں اسرائیل کے وقار کو ایک نئی پستی تک پہنچا دیا ہے۔“
ہاریٹز نے اس سلسلے میں ایران کے ساتھ جنگ اور اس کے نتیجے میں پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے، انتہا پسند آباد کاروں کی جانب سے فلسطینیوں پر تشدد، اور غزہ، مغربی کنارے اور مشرقی یروشلم میں عیسائی برادریوں کو پہنچنے والے نقصان کو ایسے عوامل کے طور پر شمار کیا جن کی وجہ سے اسرائیل کے انتہائی وفادار حامیوں کی جانب سے بھی ”بے مثال تنقید“ سامنے آئی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: نیویارک: میئر ظہران ممدانی نے غزہ کے خاندانوں کے ساتھ زیتون کا پودا لگایا
اداریے میں امریکہ میں کئے گئے حالیہ سروے کا حوالہ بھی دیا گیا ہے جس کے مطابق، امریکیوں کے درمیان اسرائیل کیلئے مثبت جذبات میں، خاص طور پر نوجوان جواب دہندگان میں، ”تیز اور بے مثال گراوٹ“ دیکھی گئی ہے۔ اسرائیلی اخبار نے دلیل دی کہ اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی میں نیتن یاہو کی کوئی بھی تقریر ”اس تلخ حقیقت پر پردہ نہیں ڈال سکتی۔“ ہاریٹز نے سنگین طویل مدتی نتائج سے خبردار کرتے ہوئے زور دیا کہ ”ہر اسرائیلی کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ امریکی عوام کی نظروں میں اسرائیل کا تاثر کس حد تک بگڑ چکا ہے اور دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کے مستقبل پر اس کے کیا اثرات مرتب ہوگے۔“