Inquilab Logo Happiest Places to Work

آسام میں مسلمانوں پر مظالم کیخلاف جمعیۃ نے آواز بلند کی

Updated: August 31, 2025, 1:01 PM IST | Ahmedullah Siddiqui | New Delhi

مجلس عاملہ میں  مولانا ارشد مدنی نے جان بوجھ کرمسلمانوں کے خلاف کارروائی اوربے گھر کرنے کا معاملہ اٹھایا

Maulana Arshad Madani giving a speech. Photo: INN
مولانا ارشد مدنی تقریر کرتے ہوئے۔ تصویر: آئی این این

جمعیۃعلماء ہند کی مجلس عاملہ کے اہم اختتامی اجلاس میں تنظیم کے صدر مولانا ارشدمدنی نے ملک کے موجودہ سیاسی اورسماجی حالات پرسخت تشویش کا اظہار کرتےبالخصوص آسام میں  بی جےپی حکومت کے ذریعہ مسلمانوں  کو جان بوجھ کر نشانہ بنائے جانے اور انہیں  بے دخل کئے جانے پر شدید برہمی کااظہار کیا۔ 
انہوں نے کہا کہ ہیمنت بسواشرما کی حکومت آسام میں مسلم بستیوں کو نہیں بلکہ ملک کے آئین وقانون کو بلڈوزکررہی ہے۔ آسام میں ۵۰؍ ہزارمسلم خاندانوں  کو بے گھر کردیا گیا۔ اس معاملہ کو ایک بار پھر سپریم کورٹ لے جانے کا اعلان کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آسام کے مسلمانوں  کو بے گھر کرکے انہیں ریاست سے باہر کرنے کی ہر سازش کو ناکام بنایا جائےگا۔ 
مولانا مدنی نے کہا کہ مسلمانوں کے سامنے مسائل کا انبارلگادیا گیا، ایک تنازعہ ختم نہیں  ہوتا کہ دوسراکھڑاکردیا جاتا ہے۔ مسلمانوں پر یہ چہارسو حملہ منصوبہ بندہے اور لگتا ہےکہ حکومت اور فرقہ پرستوں  کے پاس ہندو مسلم کے علاوہ کوئی دوسرامسئلہ ہی نہیں۔ مولانا مدنی نے مزید کہا کہ تاریخ شاہد ہے کہ جو قوم اپنی شناخت، تہذہب اورمذہب کے ساتھ زندہ رہنا چاہتی ہے اسے قربانی دینی پڑتی ہے۔ فرقہ واریت کی آگ میں صرف مسلمان ہی نہیں بلکہ ملک کاوجودجھلس رہاہے۔ آزادی کے بعدہی سے فرقہ پرست ذہنیت کو کھلامیدان مل گیا۔ اس فرقہ وارانہ ذہنیت کو ختم کرنے کے لئے کبھی کوئی مؤثرکارروائی نہیں کی گئی۔ انہوں نے اس کا اعادہ کیا کہ جمعیۃعلماء ہند واحدایک ایسی سیکولرجماعت تھی جو ہر سطح پر فرقہ وارانہ ذہنیت کا مقابلہ کررہی تھی۔ انہوں نےکہاکہ ان کی لڑائی کسی فرد یا تنظیم سے نہیں بلکہ حکومت سے ہے، کیونکہ حکومت ہی اس طرح کے مسائل کیلئے ذمہ دار ہے اورجمعیۃ علماءہند نے ناانصافی کے خلاف ہمیشہ قانونی جدوجہد کا سہارا لیا۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK