• Mon, 01 September, 2025
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

ایس سی او اجلاس سے قبل پوتن کی مغربی اقتصادی دباؤ کے مقابلے کیلئے برکس کی حمایت

Updated: August 31, 2025, 8:05 PM IST | Shanghai

ایس سی او اجلاس سے قبل پوتن نے ایک بیان میں مغربی اقتصادی دباؤ کے مقابلے کیلئے برکس کی حمایت کا اعلان کیا، انہوں نے یہ دلیل دیتے ہوئے کہ موجودہ نظام ترقی یافتہ مغربی معیشتوں کے حق میں ہے، بین الاقوامی مالیاتی اداروں میں اصلاحات کیلئے روس کی حمایت کا اعلان کیا۔

Russian President Vladimir Putin. Photo: INN
 روسی صدر ولادیمیر پوتن۔ تصویر: آئی این این

 روسی صدر ولادیمیر پوتن نے اعلان کیا ہے کہ ماسکو اور بیجنگ برکس کومضبوط بنانے میں متحد ہیں، اور اسے مغربی اقتصادی اثر و رسوخ کے مقابلے میں ایک توازن کے طور پر پیش کر رہے ہیں۔ چین کی خبر رساں ایجنسی سنہوا کو تیانجن میں شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہی اجلاس سے قبل ایک انٹرویو میں، روسی لیڈر نے کہا کہ ’’یہ اتحادعالمی نظام کا ایک اہم ستون بن رہا ہے۔‘‘پوتن نے کہا، ’’ہم برکس کے اندر چین کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں تاکہ عالمی نظام کے ایک اہم ستون کے طور پر اس کے کردار کو وسعت دی جا سکے۔ ہم مل کر ایسے اقدامات کو آگے بڑھا رہے ہیں جن کا مقصد رکن ممالک کے لیے اقتصادی مواقع کو بڑھانا ہے، جس میں اسٹریٹجک شعبوں میں شراکت داری کے لیے مشترکہ پلیٹ فارم کی تشکیل بھی شامل ہے۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: شمالی کوریا: صدر کایوکرین جنگ میں ہلاک فوجیوں کے اعزاز میں سڑک کی تعمیر کا اعلان

انہوں نے دلیل دی کہ برکس ممالک اجتماعی طور پر مغربی طاقتوں کی طرف سے لگائی گئی امتیازی پابندیوں کا مقابلہ کر رہے ہیں، جن کے بارے میں ان کا دعویٰ ہے کہ یہ پابندیاں ابھرتی ہوئی معیشتوں کی سماجی و اقتصادی ترقی کو سست کر رہی ہیں۔یہ بیان ہندوستان سمیت کئی ممالک پر امریکی پابندیوں اور جوابی ٹیرف کے تناظر میں سامنے آیا ہے۔
عالمی مالیاتی اداروں میں اصلاحات
 پوتن کے بیانات کا ایک بڑا مرکز عالمی مالیاتی نظم و نسق پر تھا۔ انہوں نے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ اور ورلڈ بینک جیسے اداروں میں اصلاحات کے لیے ماسکو کی حمایت کا اعادہ کیا، یہ دلیل دیتے ہوئے کہ موجودہ نظام ترقی یافتہ مغربی معیشتوں کے حق میں ہے۔انہوں نے کہا، ’’اپنے چینی شراکت داروں کے ساتھ، ہم بین الاقوامی مالیاتی فنڈ اور ورلڈ بینک میں اصلاحات کی حمایت کرتے ہیں۔ ہم اس نظریے پرمتحد ہیں کہ ایک نیا مالیاتی نظام کھلے پن اور حقیقی مساوات پر مبنی ہونا چاہیے، جو تمام ممالک کو  یکساں اور غیر امتیازی رسائی فراہم کرے۔‘‘مالیات کو "نوآبادیاتی نظام کے ایک آلے" کے طور پر استعمال کرنے کے خلاف خبردار کرتے ہوئے، پوتن نے ایک نئے نظام پر زور دیا جو ابھرتی ہوئی معیشتوں کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کی عکاسی کرے۔

یہ بھی پڑھئے: ٹرمپ کےبیشتر ٹیرف غیر قانونی، اختیارات کا غیر ضروری استعمال: اپیل کورٹ؛ ٹیرف ہنوز نافذ رہیں گے: ٹرمپ

قابل ذکر بات یہ ہے کہ برکس عالمی تجارت اور مالیات میں انحصار کو کم کرنے کے لیے اقدامات کو آگے بڑھا کر امریکی ڈالر کے غلبے کو حکمت عملی کے تحت چیلنج کر رہا ہے۔ رکن ممالک باہمی لین دین کے لیے متبادل میکانزم تلاش کر رہے ہیں۔ ایک قابل ذکر منصوبہ `برکس پے (BRICS Pay) ہے، جو ایک بلاک چین پر مبنی ادائیگی کا نظام ہے جسے ڈالر کے بغیر ہموار تجارت کو آسان بنانے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ، یہ بلاک ایک مشترکہ کرنسی بنانے پر بھی غور کر رہا ہے، جسے کبھی کبھی ’’برکس یونٹ‘‘ کہا جاتا ہے۔ یہ اقدامات مالیاتی خود مختاری کو بڑھانے، اقتصادی تعاون کو مضبوط بنانے اور ایک کثیر قطبی عالمی مالیاتی فریم ورک بنانے کی طویل مدتی حکمت عملی کی عکاسی کرتے ہیں۔ پوتن نے جی۲۰؍ میں چین کے قائدانہ کردار کی بھی تعریف کی اور گلوبل ساؤتھ کے وسیع تر مفادات کے ساتھ برکس کو ہم آہنگ کرنے کی کوششوں پر زور دیا۔
روسی صدر کے یہ تبصرے۲۵؍ ویں شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہی اجلاس سے قبل سامنے آئے ہیں، جس کی میزبانی۳۱؍ اگست سےایک ستمبر تک تیانجن میں کی جا رہی ہے۔ اس سربراہی اجلاس میں چین کے صدر شی جن پنگ اور ہندوستان کے وزیر اعظم نریندر مودی سمیت اہم یوریشیائی طاقتوں کے لیڈرجمع ہوں گے۔پوتن اتوار کی صبح شمالی چینی شہر تیانجن پہنچے تاکہ ہم منصب شی جن پنگ اور تقریباً ۲۰؍دیگر عالمی لیڈروں کے ساتھ ایس سی او کے سربراہی اجلاس میں شرکت کر سکیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK