Updated: July 14, 2026, 4:35 PM IST
قومی سطح پر مبینہ امتحانی بے ضابطگیوں، پیپر لیک اور تعلیمی نظام میں اصلاحات کے مطالبات کے متعلق جنتر منتر پر جاری کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کا احتجاج اب ایک نئے مرحلے میں داخل ہو گیا ہے۔ تحریک کے ساتھ یکجہتی کا دائرہ مسلسل وسیع ہو رہا ہے اور مختلف سیاسی لیڈروں، فلمی شخصیات، ادیبوں اور سماجی کارکنوں نے کھل کر اپنی حمایت کا اظہار کیا ہے۔
قومی سطح پر مبینہ امتحانی بے ضابطگیوں، پیپر لیک اور تعلیمی نظام میں اصلاحات کے مطالبات کے متعلق جنتر منتر پر جاری کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کا احتجاج اب ایک نئے مرحلے میں داخل ہو گیا ہے۔ تحریک کے ساتھ یکجہتی کا دائرہ مسلسل وسیع ہو رہا ہے اور مختلف سیاسی لیڈروں، فلمی شخصیات، ادیبوں اور سماجی کارکنوں نے کھل کر اپنی حمایت کا اظہار کیا ہے۔ دوسری جانب بھوک ہڑتال پر بیٹھے معروف ماہر تعلیم اور سماجی کارکن سونم وانگ چک کی صحت مسلسل بگڑنے کی اطلاعات سامنے آنے کے بعد ان کے حامیوں میں تشویش بڑھ گئی ہے۔ تازہ اطلاعات کے مطابق سونم وانگ چک کی غیر معینہ مدت کی بھوک ہڑتال سترہویں روز میں داخل ہو چکی ہے۔ احتجاج سے وابستہ افراد کا دعویٰ ہے کہ اس دوران ان کے جسمانی وزن میں تقریباً آٹھ اعشاریہ پانچ کلوگرام کی کمی آ چکی ہے، جبکہ مسلسل کمزوری کے باوجود انہوں نے اپنا احتجاج ختم کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ احتجاجی کیمپ میں موجود طبی رضاکار ان کی صحت پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں اور ایک دوسرے نوجوان مظاہرہ کرنے والے کو طبیعت خراب ہونے کے بعد اسپتال منتقل کیے جانے کی بھی اطلاعات ہیں۔
یہ احتجاج نوجوانوں کی قائم کردہ کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کی قیادت میں جاری ہے، جس کے بانی ابھیجیت دپکے ہیں۔ تنظیم کا مؤقف ہے کہ ملک کے امتحانی نظام میں شفافیت، جوابدہی اور بنیادی اصلاحات ناگزیر ہیں۔ احتجاج کرنے والوں کا کہنا ہے کہ مختلف قومی امتحانات سے متعلق سامنے آنے والے تنازعات نے لاکھوں طلبہ اور ان کے خاندانوں کا اعتماد مجروح کیا ہے، اسی لیے وہ اس مسئلے کو محض ایک امتحان تک محدود نہیں بلکہ پورے تعلیمی نظام کی ساکھ سے جوڑ کر دیکھ رہے ہیں۔ احتجاجی قیادت نے اعلان کیا ہے کہ اگر حکومت نے مطالبات پر سنجیدگی سے غور نہ کیا تو ۲۰؍ جولائی کو پارلیمنٹ کی جانب مارچ کیا جائے گا۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ احتجاج مکمل طور پر پرامن رہے گا اور اس کا مقصد حکومت کو نوجوانوں کے مستقبل سے متعلق خدشات سے آگاہ کرنا ہے۔ دوسری جانب خبر لکھے جانے تک مرکزی حکومت یا وزارتِ تعلیم کی جانب سے ان مطالبات پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا تھا۔
سونم وانگ چک کی صحت بگڑنے کے باوجود ان کے عزم میں کمی نہیں آئی ہے۔ ان کے قریبی ساتھیوں کا کہنا ہے کہ وہ مسلسل یہی پیغام دے رہے ہیں کہ یہ تحریک کسی ایک فرد کی نہیں بلکہ ملک کے لاکھوں طلبہ کے مستقبل کی لڑائی ہے۔ اسی دوران سوشل میڈیا پر بھی ان کی حمایت میں مختلف ہیش ٹیگز تیزی سے مقبول ہو رہے ہیں اور متعدد عوامی شخصیات نے اپنے اپنے پلیٹ فارم سے اس معاملے پر توجہ دلانے کی کوشش کی ہے۔ جنتر منتر پر احتجاج کے ابتدائی دنوں کے مقابلے میں اب ماحول خاصا مختلف دکھائی دے رہا ہے۔ جہاں پہلے یہ تحریک زیادہ تر طلبہ اور نوجوان کارکنوں تک محدود تھی، وہیں اب مختلف سیاسی جماعتوں کے لیڈر، فلمی دنیا سے وابستہ شخصیات اور ممتاز ادیب بھی اس معاملے پر اپنے خیالات کا اظہار کر رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ احتجاج نے صرف تعلیمی حلقوں ہی نہیں بلکہ قومی سیاسی مباحث میں بھی نمایاں جگہ بنا لی ہے۔
ادھر احتجاج کے منتظمین کا کہنا ہے کہ انہیں ملک کے مختلف حصوں سے مسلسل یکجہتی کے پیغامات موصول ہو رہے ہیں، جبکہ کئی معروف شخصیات نے ویڈیو پیغامات جاری کرکے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ سونم وانگ چک اور احتجاج میں شریک نوجوانوں کی آواز کو سنیں۔ انہی ویڈیو پیغامات اور سیاسی بیانات نے گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران اس تحریک کو نئی رفتار دی ہے، جس کی تفصیل اگلے حصے میں پیش کی جائے گی۔ جنتر منتر کے احتجاج نے اس وقت نئی سیاسی اور سماجی اہمیت اختیار کر لی جب مختلف سیاسی لیڈروں، فلمی شخصیات، ادیبوں اور سماجی کارکنوں نے سونم وانگ چک اور کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کی تحریک کے حق میں آواز بلند کرنا شروع کی۔ گزشتہ چند دنوں کے دوران سامنے آنے والے بیانات اور ویڈیو پیغامات نے اس احتجاج کو ملک گیر بحث کا موضوع بنا دیا ہے۔
ادھو ٹھاکرے
شیو سینا (یو بی ٹی) کے سربراہ ادھو ٹھاکرے نے ممبئی میں پریس کانفرنس کے دوران احتجاج کی کھل کر حمایت کرتے ہوئے کہا کہ ’’ابھیجیت دپکے اور سونم وانگ چک کو میری مکمل حمایت ہے۔‘‘ انہوں نے زور دیا کہ نوجوانوں کے مستقبل سے جڑا یہ معاملہ محض کسی ایک جماعت یا نظریے کا مسئلہ نہیں بلکہ پورے ملک کا سوال ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ تمام اپوزیشن جماعتوں کو سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو کر اس تحریک کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے۔ ساتھ ہی انہوں نے سونم وانگ چک سے اپیل کی کہ وہ اپنی بھوک ہڑتال ختم کریں کیونکہ ’’ہمیں سونم وانگ چک جیسے لوگوں کی ضرورت ہے۔‘‘ ادھو ٹھاکرے نے یہ بھی کہا کہ اگر حکومت نوجوانوں کے خدشات کو سنجیدگی سے نہیں سنے گی تو بے چینی مزید بڑھے گی۔ انہوں نے اعلان کیا کہ ان کی جماعت اس تحریک کے ساتھ یکجہتی کا اظہار جاری رکھے گی اور دیگر سیاسی قوتوں سے بھی اپیل کی کہ وہ احتجاج کرنے والے نوجوانوں کی آواز کو نظر انداز نہ کریں۔
آتشی مرلینا
عام آدمی پارٹی کی سینئر لیڈر اور دہلی اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف آتشی بھی جنتر منتر پہنچیں، جہاں انہوں نے احتجاجی کیمپ میں سونم وانگ چک اور دیگر مظاہرین سے ملاقات کی۔ اس موقع پر انہوں نے مختصر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’’سونم اور نوجوانوں کو مزید طاقت حاصل ہو۔‘‘ انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کے مستقبل سے وابستہ سوالات کا جواب طاقت کے ذریعے نہیں بلکہ مکالمے اور شفاف فیصلوں سے دیا جانا چاہیے۔ آتشی کے ساتھ عام آدمی پارٹی کے رکن اسمبلی کلدیپ کمار اور دہلی کی سابق میئر شیلی اوبرائے نے بھی احتجاج میں شرکت کر کے یکجہتی کا اظہار کیا۔
اومی ویدیہ
بالی ووڈ فلم ’’تھری ایڈیٹس‘‘ میں ’’چتور رام لنگم‘‘ کا کردار ادا کرنے والے اداکار اومی ویدیہ کی ویڈیو اپیل نے بھی سوشل میڈیا پر خاصی توجہ حاصل کی۔ انہوں نے اپنے پیغام میں کہا کہ ’’مَیں نہیں چاہتا کہ فنسکھ وانگڈو کی موت ہو۔‘‘ اومی ویدیہ نے یاد دلایا کہ فلم کا کردار ’’فنسکھ وانگڈو‘‘ حقیقی زندگی کے سونم وانگ چک سے متاثر تھا، اس لیے وہ عوام سے اپیل کر رہے ہیں کہ وہ صرف ایک معروف شخصیت نہیں بلکہ تعلیم اور نوجوانوں کے مستقبل کے لیے جدوجہد کرنے والے انسان کی آواز سنیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ’’حقیقی وانگڈو کو ہماری حمایت کی ضرورت ہے۔‘‘
اومی ویدیہ کے اس ویڈیو پیغام کے بعد سوشل میڈیا پر ان کے بیان کو بڑے پیمانے پر شیئر کیا گیا۔ متعدد صارفین نے ان کے مؤقف کی حمایت کی، جبکہ کئی افراد نے دیگر فلمی شخصیات سے بھی اس معاملے پر اپنی رائے ظاہر کرنے کا مطالبہ کیا۔
اروندھتی رائے، نصیرالدین شاہ اور دیگر ممتاز شخصیات
ادھر معروف ادیبہ اروندھتی رائے، سینئر اداکار نصیرالدین شاہ اور دیگر ممتاز شخصیات نے بھی ایک مشترکہ اپیل کے ذریعے سونم وانگ چک کی بگڑتی صحت پر تشویش ظاہر کی۔ انہوں نے کہا کہ احتجاج کے مقاصد اپنی جگہ اہم ہیں، لیکن سونم وانگ چک کی صحت بھی اتنی ہی اہم ہے کیونکہ آگے کی جدوجہد طویل اور مشکل ہو سکتی ہے۔ ان شخصیات نے مطالبات کی اہمیت کو تسلیم کرتے ہوئے وانگ چک سے اپیل کی کہ وہ اپنی جان کو خطرے میں نہ ڈالیں تاکہ مستقبل میں بھی اس تحریک کی قیادت کرتے رہیں۔ احتجاج کے دوران جاری ہونے والی ایک مشترکہ اپیل میں معروف ادیبہ اروندھتی رائے، سینئر اداکار نصیرالدین شاہ، اداکارہ رتنا پاٹھک شاہ اور متعدد دیگر ممتاز شخصیات نے کہا کہ وہ احتجاج کرنے والوں کے مقاصد اور خدشات کو اہم سمجھتے ہیں، تاہم انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ سونم وانگ چک اور دیگر بھوک ہڑتالی مظاہرین کی جان کو خطرے میں نہیں پڑنا چاہیے۔ ان شخصیات کے مطابق تحریک کی کامیابی کے لیے اس کی قیادت کا محفوظ اور صحت مند رہنا بھی اتنا ہی ضروری ہے جتنا کہ اس کے مطالبات کا پورا ہونا۔
دوسری جانب احتجاج کے منتظمین کا کہنا ہے کہ مختلف ریاستوں سے مسلسل حمایت کے پیغامات موصول ہو رہے ہیں اور کئی سماجی تنظیمیں آئندہ دنوں میں جنتر منتر پہنچ کر احتجاج میں شرکت کریں گی۔ ان کے مطابق عوامی شخصیات کی جانب سے سامنے آنے والی حمایت نے اس تحریک کو نئی توانائی دی ہے اور نوجوانوں میں یہ احساس مزید مضبوط ہوا ہے کہ ان کے مطالبات اب قومی سطح پر سنے جا رہے ہیں۔
احتجاج کی شدت میں اضافے کے ساتھ ہی مختلف سیاسی جماعتوں اور سماجی حلقوں کی جانب سے حکومت سے فوری مذاکرات شروع کرنے کا مطالبہ بھی زور پکڑنے لگا ہے۔ اپوزیشن جماعتوں کا کہنا ہے کہ نوجوانوں کے خدشات کو محض احتجاج تک محدود سمجھنے کے بجائے ان پر سنجیدگی سے غور کیا جانا چاہیے، جبکہ احتجاجی قیادت کا اصرار ہے کہ ان کی تحریک کسی سیاسی جماعت کے خلاف نہیں بلکہ امتحانی نظام میں شفافیت، جوابدہی اور اصلاحات کے مطالبات پر مبنی ہے۔
اکھلیش یادو
اسی دوران سماجوادی پارٹی کے صدر اکھلیش یادو نے سونم وانگ چک کی صحت پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ان سے بھوک ہڑتال ختم کرنے کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ ’’ان کی زندگی بہت اہم ہے۔‘‘ ان کا کہنا تھا کہ وانگ چک کی زندگی ملک کے لیے قیمتی ہے اور حکومت کو چاہیے کہ وہ ان کے مطالبات پر بامعنی بات چیت شروع کرے تاکہ احتجاج کا پرامن حل نکل سکے۔
ابھیجیت دپکے کا بیان
دوسری جانب احتجاجی تنظیم کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کے بانی ابھیجیت دپکے نے کہا ہے کہ نوجوانوں کی یہ تحریک پرامن اور آئینی دائرے میں جاری رہے گی۔ انہوں نے حامیوں سے اپیل کی کہ وہ احتجاج کے دوران نظم و ضبط برقرار رکھیں اور کسی بھی اشتعال انگیزی سے گریز کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ مقصد عوامی دباؤ کے ذریعے حکومت کی توجہ تعلیمی نظام سے متعلق مسائل کی جانب مبذول کرانا ہے، نہ کہ تصادم پیدا کرنا۔ احتجاجی قیادت کے مطابق اگر حکومت کی جانب سے مثبت پیش رفت نہ ہوئی تو ۲۰؍ جولائی کو پارلیمنٹ کی جانب مارچ کا منصوبہ برقرار رہے گا۔ منتظمین کا کہنا ہے کہ اس مارچ میں مختلف ریاستوں سے طلبہ، نوجوان، سماجی کارکن اور حامی شریک ہونے کی تیاری کر رہے ہیں۔ تاہم خبر لکھے جانے تک حکومت کی جانب سے اس مجوزہ مارچ یا احتجاجی مطالبات پر کوئی جامع باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا تھا۔