Inquilab Logo Happiest Places to Work

کہانی: انسانیت اور ہمدردی

Updated: July 14, 2026, 4:13 PM IST | Fauzia Abdul Rehman Khan | Mumbai

کسی شہر میں ایک افسر کی فیملی رہتی تھی۔ وہ دن رات اپنے کاموں میں مصروف رہتی تھی۔ روزانہ کی طرح اختر صاحب کا بیٹا اطہر اپنے آفس سے تھکا ہارا گھر آرہا تھا، تو اس نے دیکھا کہ سڑک کے کنارے ایک آدمی کا ایکسیڈنٹ ہوگیا ہے اور وہاں بہت بھیڑ اکٹھا ہے۔

Photo: INN
تصویر: آئی این این

کسی شہر میں ایک افسر کی فیملی رہتی تھی۔ وہ دن رات اپنے کاموں میں مصروف رہتی تھی۔ روزانہ کی طرح اختر صاحب کا بیٹا اطہر اپنے آفس سے تھکا ہارا گھر آرہا تھا، تو اس نے دیکھا کہ سڑک کے کنارے ایک آدمی کا ایکسیڈنٹ ہوگیا ہے اور وہاں بہت بھیڑ اکٹھا ہے۔ اطہر نے دیکھا کہ وہ شخص زندگی اور موت کی کشمش میں مبتلا ہے، اسے اسپتال لے جانے کے بجائے لوگ اس کا ویڈیو بنا رہے تھے، یہاں تک کہ وہاں میڈیا والے بھی جمع ہوگئے انہوں نے بھی اس کا ویڈیو بنایا۔

اطہر یہ سب دیکھ کر بہت حیران ہوا، وہ فوراً اپنی گاڑی سے اتر کر اس آدمی کے پاس پہنچا اور اسے اپنی گاڑی میں اسپتال لے گیا۔ اطہر نے ڈاکٹر کو سب کچھ بتایا۔ ڈاکٹر صاحب نے اس آدمی کو چیک کیا اور بتایا ’’ان کی طبیعت بہت ہی نازک ہے اور انہیں فوراً ایمرجنسی وارڈ میں داخل کرنا پڑے گا جس کیلئے ابھی پچاس ہزار جمع کروانا ہوگا۔‘‘ اطہر کو کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا کہ وہ ارجنٹ پیسے کہاں سے جمع کروائے؟ تھوڑی دیر بعد اطہر نے اپنے والد اختر صاحب کو فون کیا اور ساری تفصیل بتائی۔ اختر صاحب رحم دل شخصیت کے مالک تھے وہ رقم لے کر اسپتال پہنچے اور کاؤنٹر پر جمع کرا دی۔ چند گھنٹوں بعد اس آدمی کو ہوش آیا تو اختر صاحب نے اس آدمی سے پوچھا، ’’آپ کون ہو؟ کیا آپ کا کوئی رشتہ دار ہے یہاں؟‘‘ اس آدمی نے کوئی جواب نہیں دیا۔ ڈاکٹر نے کہا، ’’ابھی آپ ان سے بات نہیں کرسکتے، ان کی حالت بہت نازک ہے۔‘‘ اختر صاحب اور اطہر کمرہ سے باہر نکل آئے۔

یہ بھی پڑھئے: افسانہ: پھپھو کا بیٹا

رات تقریباً ۱۲؍ بجے کے قریب اس آدمی کے موبائل پر ایک فون آتا ہے۔ اختر صاحب نے فون اٹھایا تو فون پر ایک بچہ تھا۔ اختر صاحب نے پوچھا، ’’بیٹا آپ کون ہے؟‘‘ اس بچے نے بڑی معصومیت سے کہا، ’’یہ میرے والد کا نمبر ہے، وہ کہاں ہے؟‘‘ اختر صاحب نے اس بچے کو مختصراً بتایا اور پتہ پوچھا پھر اطہر اس بچے کو لینے کے لئے اس کے گھر کی طرف روانہ ہوا۔ بچہ والد کی طبیعت کے بارے میں سن کر زار و قطار رو رہا تھا۔ تھوری دیر بعد گھر کے دروازے پر کسی نے دستک دی تو بچے نے دیکھا کہ دروازے پر ایک نوجوان کھڑا ہے، وہ سہم گیا اور سہمی ہوئی آواز میں پوچھا، ’’آپ کون ہو؟‘‘ اطہر نے اپنے بارے میں بتایا اور بچے کو اپنے ساتھ چلنے کو کہا۔

اس بچے کے لہجے میں ایک قسم کی ہچکچاہٹ تھی، وہ بچہ ہمت کرکے اطہر کے ساتھ گاڑی میں بیٹھ گیا پھر دونوں اسپتال کی طرف روانہ ہوئے۔ اطہر بچے کی حالت دیکھ کر افسوس کر رہا تھا۔ اطہر نے بچے سے پوچھا ’’بیٹا تمہاری عمر کیا ہے؟ تمہارے ساتھ گھر میں اور کون کون رہتا ہے؟‘‘ اس بچے نے بڑی معصومیت سے کہا ’’میری عمر گیارہ سال ہے، ہمارے گھر میں میرے والد اور میں رہتے ہیں۔‘‘ اتنا کہہ کر اس بچے نے رونا شروع کردیا اور روتے ہوئے پوچھا ’’میرے والد کی طبیعت کیسی ہے؟ وہ کب تک ٹھیک ہو جائیں گے؟‘‘ اطہر نے اس بچے کو سمجھاتے ہوئے کہا ’’آپ کے والد بالکل ٹھیک ہے۔ بس انہیں معمولی چوٹیں آئی ہیں، ایک دو دن میں ٹھیک ہوجائیں گے اور پھر اسپتال سے ڈسچارج ہو تمہارے ساتھ گھر آجائیں گے۔‘‘ اطہر اور بچہ دونوں اسپتال پہنچ گئے۔ اختر صاحب نے جیسے اس بچےکو دیکھا انہیں اس بچے پر بڑا رحم آیا۔ اختر صاحب نے اس بچے سے پوچھا ’’بیٹا! تم نے کچھ کھایا؟‘‘ بچے نے نہایت اداس لہجے میں کہا ’’نہیں، مَیں اور میرے والد ساتھ کھاتے ہیں۔ میں ان ہی کا انتظار کر رہا تھا۔‘‘ اطہر نے سامنے والی ہوٹل سے کھانا لایا اور اس بچے کو دیا۔ بچے نے انکار کر دیا اور کہا ’’مجھے اپنے والد سے ملنا ہے۔‘‘ بچہ اپنے والد سے ملنے کے لئے بے چین تھا۔ اختر صاحب نے اسے سمجھایا ’’بیٹا! ہم آپ کے والد سے کل ہی مل سکتے ہیں، ابھی تم کھانا کھا لو... کافی دیر ہوچکی ہے۔‘‘ اختر صاحب کے بہت اصرار کرنے پر بچے نے تھوڑا سا کھا لیا۔

اطہر اس بچے کو اپنے ساتھ گھر لے گیا، اختر صاحب اسپتال میں ہی رک گئے تھے۔ اطہر کے گھر والے سب سو چکے تھے۔ اطہر اس بچے کو اپنے ساتھ کمرے میں لے گیا، وہ بچہ رات بھر سو نہ سکا، فجر کی نماز ادا کی اور اپنے والد کی صحت یابی کے لئے بہت رو کر دعا کی، اس بچے کی رونے کی سسکیوں سے اطہر کی آنکھ کھل گی۔ اطہر کو اس بچے پر کافی ترس آیا۔

یہ بھی پڑھئے: کہانی: خود سے خود کی پہچان

اطہر نے اس بچے کو اپنے گھر والوں سے ملوایا۔ سب کو اطہر کی طرح اس بچے پر کافی ترس آیا، انہوں نے اس بچے کو ناشتہ کروایا پھر دونوں اسپتال چلے گئے۔ اسپتال پہنچے تو اختر صاحب نے بتایا کہ انہیں تھوڑا تھوڑا ہوش آرہا تھا اور بار بار ایک ہی نام لے رہے تھے۔ اس بچے بہت نے بے تابی سے پوچھا ’’بتاؤ.... جلدی بتاؤ.... کیا نام لے رہے تھے؟‘‘ اختر صاحب نے کہا، ’’علی....‘‘ اس بچے نے بڑی معصومیت سے کہا ’’مَیں ہی علی ہوں۔ علی نے کہا، ’’مہربانی کرکے مجھے میرے والد سے ملوا دو، وہ مجھے یاد کر رہے ہیں۔‘‘

اختر صاحب علی کو ملوانے کیلئے کمرے میں لے گئے، جیسے ہی علی کمرہ میں داخل ہوا فوراً دوڑتا ہوا اپنے والد کے پاس پہنچ گیا، اس کی آنکھوں میں آنسو تھے۔ علی نے لڑکھڑاتی ہوئی آواز میں کہا ’’بابا جان، بابا جان!‘‘ جیسے ہی علی کی آواز اسکے والد نے سنا فوراً اسے گلے لگا لیا اور دونوں زار و قطار رونے لگے اور یہ سب دیکھ کر اختر صاحب اور اطہر کے آنکھوں سے بھی آنسو رواں ہوگئے۔

علی کے والد نے اختر صاحب سے پوچھا ’’کون لوگ ہیں آپ؟ اور علی آپ کے ساتھ کیسے؟‘‘ اختر صاحب نے مختصراً سب بتایا۔ یہ سب سن کر علی کے والد نے کہا ’’آپ نے مجھ پر اور میرے بیٹے پر بہت بڑا احسان کیا ہے، یہ احسان مَیں کبھی نہیں بھولوں گا۔‘‘ اختر صاحب نے کہا ’’آپ کے لئے زیادہ بات کرنا ٹھیک نہیں ہے اور ہم نے کوئی احسان نہیں کیا ہے، یہ تو ہمارا فرض تھا۔‘‘ تھوڑی دیر بعد اختر صاحب نے ڈاکٹر سے کھانا کھلانے کی اجازت لی اور علی نے اپنے ہاتھوں سے والد کو کھانا کھلایا۔

اسی طرح دو سے تین دن گزر گئے۔ اب علی کے والد کی طبیعت کافی بہتر تھی۔ اس لئے ڈاکٹر نے انہیں گھر جانے کی اجازت دے دی۔ اختر صاحب نے دونوں کو ان کے گھر چھوڑ دیا اور کچھ پیسے علی کو دیئے۔ علی اور اس کے والد نے بہت انکار کیا مگر اختر صاحب نے ایک نہ سنی۔

یہ بھی پڑھئے: افسانہ: قربِ الٰہی

تقریباً ایک ہفتے کے بعد اختر صاحب، علی کے گھرآئے اور ساتھ میں کچھ کھانے کا سامان اور کھلونے بھی لائے۔ علی بہت خوش ہوا، اختر صاحب نے علی کے والد کو ایک خوشخبری سنائی ’’آپ ٹھیک ہونے کے بعد ہماری کمپنی میں کام کرسکتے ہیں۔ ساتھ میں علی کی تعلیم کا خرچ ہماری کمپنی اٹھائے گی۔‘‘ یہ سب سن کر علی کے والد بہت حیران ہوئے اور کہا ’’مجھے سمجھ نہیں آرہا مَیں آپ کا شکریہ کیسے ادا کروں؟ اور مَیں آپ کے کن کن احسان کا بدلہ چکاؤں گا۔‘‘ اختر صاحب نے کہا ’’یہ سب کہہ کر آپ مجھے شرمندہ کر رہے ہیں، مہربانی کرکے آپ ایسی باتیں نہ کریں۔‘‘

علی نے اور اس کے والد نے خدا کا شکر ادا کیا اور اختر صاحب کو اور ان کی فیملی کو بہت ساری دعائیں دیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK