Inquilab Logo Happiest Places to Work

جین زی کے بعد جنتر منتر پراب پنشن یافتگان کیتحریک

Updated: August 07, 2026, 9:38 AM IST | New Delhi

۱۹۹۵ء کی ایمپلائز پنشن اسکیم کے تحت دی جانے والی کم از کم پنشن ایک ہزار سے بڑھاکر ۷۵۰۰؍ کرنے کا مطالبہ، نہ ماننے کی صورت میں بھوک ہڑتال اورخودسوزی کی دھمکی

EPS 95 National Agitation Committee members during the press conference
ای پی ایس ۹۵؍نیشنل ایجی ٹیشن کمیٹی کے اراکین پریس کانفرنس کےد وران

جین زی کےبعد اب پنشن یافتگان نے مودی حکومت کےخلاف تحریک چھیڑ دی ہے۔جنترمنتر پرجو ابھی گزشتہ دنوںہی سی جے پی اور جین زی کے مظاہروںسے خالی ہوا تھا ، اب پنشن یافتگان خیمہ زن ہورہے ہیںاور۱۹۹۵ء کی ایمپلائز پنشن اسکیم (ای پی ایس- ۹۵)کے تحت دی جانے والی پنشن میںاضافہ کا مطالبہ کررہے ہیں۔مظاہرین کا کہنا ہےکہ اس اسکیم کےتحت دی جانے وا لی پنشن میںاضافہ کا وعدہ بی جے پی نے ۲۰۱۴ء میںمودی کے وزیراعظم بننے سے پہلے کیا تھا۔ای پی ایس ۹۵؍ کے تحت ملک بھرمیں سرکای اورنجی سیکٹروں سےتقریباً۸۱؍ لاکھ پنشن یافتگان ہیں۔
 ای پی ایس ۹۵؍نیشنل ایجی ٹیشن کمیٹی (این اے سی) نے جو اس مطالبہ کیلئےتحریک کی قیادت کررہی ہے،متنبہ کیا ہےکہ اگر حکومت نے کم از کم ماہانہ پنشن ایک ہزار سے بڑھاکر ۷۵۰۰؍ نہیںکی ،ڈیئرنیس الاؤنس شامل نہیںکیا،میڈیکل کے فوائد نہیںدئیے تواسےملک گیر احتجاج کا سامنا کرنے کیلئے تیار رہنا ہوگا ۔این اے سی نے متنبہ کیا ہےکہ ان کے مطالبات تسلیم نہیں کئے گئے توملک بھر میںای پی ایف او کے دفاتر کا گھیراؤ کیا جائے گا اورجیل بھروآندولن شروع کیاجائےگا ۔این اے سی کے کچھ لیڈروںنے غیر معینہ بھوک ہڑتال اورپارلیمنٹ کے سامنے خودسوزی کی بھی دھمکی دی ۔ 
 این اےسی کی بنگال یونٹ کے صدر ۷۲؍سالہ تپن دتہ نے دی ٹیلی گراف سے گفتگو کے دوران کہا ’’ہم ۱۰؍سال سے جنتر منتر اوررام لیلا میدان پرجارہے ہیں۔ جب بھی پارلیمنٹ کا اجلاس ہوتا ہے ، ہم دہلی آتے ہیں۔متعدد وزرائے محنت سے ہم نے ملاقاتیں کی ہیںاور ہرمرتبہ ہمیں یقین دلایاجاتا ہے کہ ہمارا مطالبہ حق بجانب ہے ، اس معاملے پر غور کیاجارہا ہے اورجلد ہی کچھ کیاجائے گا ،لیکن ۱۲؍ سال میںکچھ نہیںہوا ۔‘‘
پنشن یافتگان ناراض کیوں ہیں؟
 ۱۴؍ جنوری ۲۰۱۴ء کو بی جے پی نے ایک بیان جاری کیا تھا جس میں ای پی ایس ۹۵؍ پنشن اسکیم کےتحت کم از کم رقم ایک ہزار کی بجائے۳؍ہزار روپے کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔بی جےپی  نے اس وقت  ایک ہزار روپے کی پنشن کی تجویز کو بہت کم  اورملازمین طبقے کی حق تلفی قرار دیا تھا۔ تپن دتہ نے کہا’’اسی لیے ہم نے انہیں ووٹ دیا، اس امید پر کہ وہ ہمارے لیے کھڑے ہوں گے، لیکن آخر کار یہ یکم ستمبر۲۰۱۴ء کو ایک ہزار روپے ہی مقرر کی گئی۔ اس میںآج تک تبدیلی نہیںکی گئی ۔ہمیں احساس ہورہا ہےکہ ہمارے ساتھ دھوکہ ہوا ہے۔‘‘
 ۱۵؍ جنوری ۲۰۱۴ء کواس وقت بی جے پی کے قومی ترجمان پرکاش جاوڈیکر نے کہا تھا کہ بی جے پی اس اسکیم کے تحت۴۱؍لاکھ پنشن یافتگان اور۵۰؍ ملین موجودہ ملازمین کی پنشن بڑھانے کیلئے مسلسل مہم چلا رہی ہے جو ہر ماہ اپنا حصہ ڈال رہے ہیں۔‘‘جاوڈیکر نے مزیدکہا تھا کہ پارٹی ملازم طبقے  کے ساتھ نوکری اور اجرت کے سماجی تحفظ کی شکل میں ایک نیا سودا  کرنے کیلئے پُرعزم ہے۔‘‘
حکومت کا تعاون بھی بڑھانے کا مطالبہ 
  انہو ںنےپنشن کی رقم کو مہنگائی کی مناسبت سےمقرر کرنے پر زور دیتے ہوئے مطالبہ کیا کہ حکومت کا تعاون  ۱ء۱۶؍ فیصد سے بڑھا کر۸ء۳۳؍فیصد کیا جائے تاکہ کم از کم۳؍ ہزارروپے پنشن تک پہنچا جا سکے۔ انہوں نے بھگت سنگھ کوشیاری کمیٹی کی رپورٹ کا بھی حوالہ دیا جو۳؍ ستمبر۲۰۱۳ء  کو راجیہ سبھا میں پیش کی گئی تھی۔ایک دہائی بعد، جب حکومت سے پوچھا گیا کہ اس نے ان سفارشات پر کتنا عمل کیاتو وزارت محنت نے ۲۳؍ مارچ ۲۰۲۳ء کو راجیہ سبھا  میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ کوشیاری کمیٹی کی سفارشات پر غور کیا گیا ہے اور انہیںانتظامی اور مالی امکانات کی حد تک نافذ کیا گیا ہے۔ مرکزی مطالبہ پر حکومت نے ’مالی عمل آوری میں رکاوٹوں ‘کا حوالہ دیا اورکہا کہ ستمبر ۲۰۱۴ء میںجو ایک ہزار کی کم از کم پنشن رقم طے کی گئی تھی وہ بجٹ سےملنے والی مدد کی بنیاد پر طے کی گئی تھی ۔این اے سی کے قومی صدر کمانڈر اشوک راوت نے کہا کہ تقریباً۸۱؍ لاکھ ای پی ایس ۹۵؍ پنشنرز متاثر ہیں اور روزمرہ کے بڑھتے ہوئے اخراجات معمر افرادکیلئےتکلیف کا باعث بن رہے ہیں۔تنظیم نے کہا کہ بہت سے لوگوں کو ماہانہ صرف ۵۰۰؍ روپےپنشن ملتی ہے جوآج کے معاشی حالات میں بالکل ناکافی ہے۔

new delhi Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK