پونے پولیس کے غیر قانونی عمل پر کمیشن برائے انسانی حقوق کی مداخلت ، نوٹس بھیج کر افسران سے بازپرس کی، بالآخر کارروائی کی گئی۔
EPAPER
Updated: August 07, 2026, 10:04 AM IST | Pune
پونے پولیس کے غیر قانونی عمل پر کمیشن برائے انسانی حقوق کی مداخلت ، نوٹس بھیج کر افسران سے بازپرس کی، بالآخر کارروائی کی گئی۔
ملک میں ان دنوں جنگل راج کی ایک کے بعد ایک مثالیں سامنے آ رہی ہیں۔ لوگ کسی بھی ملزم کو فوری طور پر سزا دینا چاہتے ہیں۔ عدالت کی سماعت اور فیصلے کا انتظار نہیں کرنا چاہتے ۔ اپنے ہاتھ سے سزا دینا چاہتے ہیں۔ اس کی تازہ مثال پونے میں سامنے آئی جہاں بھارتیہ ودیا پیٹھ تھانے کی حدود میں قتل کیس میں گرفتار نابالغ ملزمین کو پولیس نے کار کے بونیٹ پر باندھ کر گھمایا ۔ اس دوران مقتول کے اہل خانہ نے ان لڑکوں کی چپل سے پٹائی کرنے کی بھی کوشش کی ۔ جب اس کی خبر میڈیا میں آئی تو کمیشن برائے انسانی حقوق حرکت میںآیا اور تفتیش کے بعد لڑکوں کو کار سے باندھ کر گھمانے والے سینئر پولیس انسپکٹر کا تبادلہ کر دیا گیا۔
یہ بھی پڑھئے: ’’ایکناتھ شندے نے ہم سے ڈبل گیم کھیلا ہے‘‘
اطلاع کے مطابق جولائی کے مہینے میں بھارتیہ ودیا پیٹھ تھانے کی حدود میں ایک نوجوان کا بے دردی سے قتل کر دیا گیا تھا۔ پولیس نے اس معاملے میں چار مشتبہ افراد کو حراست میں لیا تھا۔ تاہم قتل کی تفتیش کے دوران پولیس نے قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ان ملزمین کو پولیس کی سرکاری گاڑی کے بونٹ پر بٹھا کر رسیوں سے باندھ دیا اور علاقے میں گھمایا۔ یہی نہیں، ملزمین کو گھٹنوں کے بل چلنے پر مجبور کیا گیا اور مارا پیٹا گیا۔ کہا جاتا ہے کہ اس وقت مقتول کے اہل خانہ بھی وہاں موجود تھے۔ انہوں نے ان ملزمین کو چپل سے مارا۔اس غیر انسانی واقعے کا ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد کئی سوالات اٹھنے لگے۔ ریاستی کمیشن برائے انسانی حقوق نے پونے پولیس کمشنر امیتیش کمار، مقامی ڈی سی پی اور متعلقہ ملازمین کو نوٹس بھیجا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ عدالت میں الزامات ثابت ہونے سے پہلے ملزمین کو یوں کھلے عام گھسیٹنا سراسر غلط ہے اور یہ جنگل راج کی ایک شکل ہے ۔ اس غیر انسانی عمل کے دوران پولیس اسٹیشن کے باہر ایک ڈرامائی اور غیر متوقع واقعہ پیش آیا۔ جب ملزمین کو گاڑی کے بونٹ تک لایا جا رہا تھا تو وہاں موجود مقتول کی ماں نے انہیںچپل سے مارنے کی کوشش کی تاہم پولیس نے مداخلت کرکے حالات کو قابو میں کیا۔
یہ بھی پڑھئے: دال آٹے کا بھاؤ عوام کا مزاج پوچھ رہا ہے
اس واقعے کا ویڈیو وائرل ہونےکے بعد کمیشن برائے انسانی حقوق نے نوٹس لیا اور پونے پولیس کو نوٹس بھیجا۔ جمعرات کو ریاستی انسانی حقوق کمیشن کی ایک ٹیم براہ راست بھارتیہ ودیا پیٹھ تھانے میں داخل ہوئی۔ اس ٹیم نے ڈپٹی کمشنر آف پولیس (ڈی سی پی) اور دیگر متعلقہ پولیس اہلکاروں سے پوچھ تاچھ کی۔پولیس اسٹیشن کے انچارج مان سنگھ پوار کو قصوروار قرار دیا گیا۔ ان کی باقاعدہ تلاشی لی گئی اس کے بعد ان کا فوری طور پر تبادلہ کر دیا گیا۔ مان سنگھ پوار سے دن بھر پوچھ تاچھ کی گئی اس کے بعد حکم نامہ ان کے حوالے کیا گیا۔ سوشل میڈیا پر اس ویڈیو کے وائرل ہونے کے بعد ہر طرف سے تنقیدیں ہو رہی تھیں اور پونے پولیس سے سوالات کئے جا رہے تھے۔