Inquilab Logo Happiest Places to Work

’’ایکناتھ شندے نے ہم سے ڈبل گیم کھیلا ہے‘‘

Updated: August 07, 2026, 9:31 AM IST | Jalna

کنبی سرٹیفکیٹ منسوخ ہونے پر منوج جرنگے برہم، کہا ’’آپ کے ماتھے سے غداری کا داغ ہم نےدھویا لیکن آپ نے ہمیں دھوکا دیا‘‘۔

Manoj Jarange hinted at teaching both parties a lesson in the upcoming elections. Photo: INN
منوج جرنگے نے آئندہ الیکشن میں دونوں پارٹیوں کو سبق سکھانے کا عندیہ دیا۔ تصویر: آئی این این

مراٹھا سماجی کارکن منوج جرنگے مہایوتی حکومت پر سخت برہم ہیں ۔ انہوں نے نہ صرف نائب وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے پر مراٹھا سماج کے ساتھ ’ڈبل گیم‘ کھیلنے کا الزام لگایا بلکہ آئندہ الیکشن میں دیویندر فرنویس کی پارٹی ( بی جے پی) کے ۱۵؍ تا ۲۰؍ اراکین اسمبلی کو شکست دینے کا چیلنج بھی کر دیا۔ حال ہی میں مراٹھا سماج کی ایک خاتون کا کنبی سرٹیفکیٹ منسوخ ہونے کے بعد منوج جرنگے سخت ناراض ہیں۔ جمعرات کو وہ جالنہ میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔ 

منوج جرنگے نے کہا ایکناتھ شندے کے ماتھے پر لگا غداری کا داغ ہمارے وجہ سے پونچھا گیا لیکن انہوں نے مراٹھا سماج کے ساتھ دغا کی۔ مراٹھا سماج کی وجہ سے مہایوتی حکومت دوبارہ قائم ہوئی اور اب وہ ہم سے ڈبل گیم کھیل رہے ہیں۔‘‘ مراٹھا کارکن نے کہا ’’ آپ کے مقابلے میں ادھو ٹھاکرے بہتر ہیں، یہ کہنے کی نوبت مت آنے دیجئے۔ ۲۰۲۹ء کے الیکشن میں ہم آپ کو بتا دیں گے۔ آپ کی پارٹی کے ۱۵؍ تا ۲۰؍ امیدواروں کو شکست نہ دی تو کہہ دینا۔ ‘‘ انہوں نے کہا ’’ گزشتہ ۳؍ سال میں پہلی بار میں نے ایکناتھ شندے کا نام لیا ہے۔ یہ حکومت مراٹھا سماج کو کس طرح تباہ کرنے کے درپے ہے یہ اب میں ثابت کرکے رہوں گا۔ ‘‘ انہوں نے کہا ۲۰۲۹ء (الیکشن) میں ، دیکھ لینا میں اتنا بڑا بدلہ لوگوں کا آپ نے زندگی میں کبھی سوچا نہیں ہوگا۔ آئندہ آپ کے انگلیوں پر گننے لائق امیدوار بھی جیت کر نہیں آئیں گے۔ یاد رہے کہ منوج جرنگے نے گزشتہ ۳؍ سال کے دوران اپنی تقاریر میں صرف دیویندر فرنویس ہی کو نشانہ بنایا ہے۔ ایکناتھ شندے کے تئیں ان کا رویہ نرم رہا ہے۔ یہ پہلا موقع ہے جب انہوں نے ایکناتھ شندے کو نشانہ بنایا ہے۔ 

جرنگے نے اسی وقت دیویندر فرنویس کو بھی آڑے ہاتھوں لیا۔ انہوں نے کہا ’’ دیویندر فرنویس مجھے اکیلا کرنے کیلئے میرے خلاف سازش رچ رہے ہیں۔ فرنویس مجھے بتائیں کہ جیوتی شندے کا کنبی سرٹیفکیٹ کس کے کہنے پر منسوخ کیا گیا؟ اسی طرح یشونتا دہی ہنڈے کا سرٹیفکیٹ صرف اس لئے منسوخ کر دیا گیا کہ وہ اردو میں درج تھا۔ ‘‘ انہوں نے کہا ’’ درحقیقت ان لوگوں کے سرٹیفکیٹ چندر شیکھر باونکولے ( وزیر محصول) کے کہنے پر منسوخ کئے گئے ہیں۔ جن علاقوں میں مہایوتی کا امیدوار نہیں جیتا وہاں مراٹھا سماج کو دیا گیا کنبی سرٹیفکیٹ منسوخ کیا جا رہا ہے۔ ‘‘ منوج جرنگے نے کنبی سرٹیفکیٹ کی منظوری کیلئے ۱۵؍ لاکھ روپے کے مطالبے کا الزام بھی افسران پر لگایا۔ انہوں نے سوال کیا کہ ’’ باونکولے کیا آپ کا مالک ہے ؟ وہ فون کرکے کہہ دیتا ہے کہ سرٹیفکیٹ منسوخ کر دو تو منسوخ کر دیا جاتا ہے؟ آپ سب کی ملی بھگت ہے۔ آپ مراٹھا سماج کو تنہا کر دینا چاہتے ہیں لیکن میں پھر کہہ رہا ہوں کہ آپ مجھے بلاوجہ اکسانے کی کوشش نہ کریں۔منوج جرنگے نے فرنویس کو انتباہ دیا کہ ’’ آپ بلاوجہ مراٹھا سماج سے مخاصمت مول لے رہے ہیں۔ آئندہ الیکشن میں آپ کی پارٹی کے ۱۵؍ تا ۲۰؍ اراکین کی شکست لازمی ہے۔‘‘

اس موقع پر منوج جرنگے کچھ کاغذات میڈیا کو دکھاتے ہوئے کہا کہ جتنے ثبوت میں نے مراٹھا سماج کے کنبی ہونے کے دیئے ہیں اتنےکسی کے پاس نہیں ہوں گے لیکن حکومت انہیں نظر انداز کر رہی ہے۔ یہ خود ہی سرٹیفکیٹ جاری کرتے ہیں اور خود ہی اسے منسوخ بھی کر دیتے ہیں۔ منوج جرنگے کے بیان سے ایک بار پھر مہاراشٹر کی سیاست میں ہلچل مچ گئی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK