Inquilab Logo Happiest Places to Work

اسرائیلی حقوق گروپ کا گرفتارغزہ کےاسپتال ڈائریکٹر کا آزاد طبی معائنے کا مطالبہ

Updated: August 06, 2026, 10:00 PM IST | Tel Aviv

اسرائیلی حقوق گروپ نے گرفتار غزہ کے اسپتال کے ڈائریکٹر کا آزاد طبی معائنے کا مطالبہ کیا، فزیشنز فار ہیومن رائٹس اسرائیل (پی ایچ آر آئی) نے ڈاکٹر حسام ابو صفیہکی بگڑتی ہوئی صحت اور حراست میں مبینہ زیادتی کا حوالہ دیتے ہوئے عدالت میں درخواست دائر کی کہ ان کا آزاد ڈاکٹر کے ذریعے معائنہ کیا جائے۔

Dr. Hussam Abu Safia before and during arrest (left)
ڈاکٹر حسام ابو صفیہ گرفتاری سے قبل(بائیں) اور دوران حراست ( دائیں)۔ تصویر: ایکس

اسرائیلی حقوق گروپ نے بدھ کو کہا کہ اس نے انتظامی عدالت میں درخواست دائر کی ہے تاکہ اسرائیل جیل سروس کو مجبور کیا جا سکے کہ وہ ڈاکٹر حسام ابو صفیہ کا معائنہ کرنے کیلئے ایک آزاد معالج کو اجازت دے۔ واضح رہے کہ ڈاکٹر ابو صفیہ شمالی غزہ کے کمال عدوان اسپتال کے ڈائریکٹر ہیں، جنہیں اسرائیلی افواج نے۲۰۲۴ء میں گرفتار کرنے کے بعد سے بغیر کسی رسمی الزام یا مقدمے کے حراست میں رکھا ہے۔فزیشنز فار ہیومن رائٹس اسرائیل (پی ایچ آر آئی) نے ایک بیان میں کہا کہ اس نے ابو صفیہ کی صحت میں بگاڑ کے پیش نظر یہ درخواست دائر کی ہے۔ ان کی گرفتاری اس وقت عمل میں آئی جب اسرائیلی افواج نےغزہ نسل کشی کے دوران مریضوں اور طبی عملے کو اسپتال سے نکالنے پر مجبور کیا اور اسے تباہ کر دیا۔پی ایچ آر آئی نے کہا کہ اسرائیل جیل سروس سے حاصل کی گئی سرکاری طبی فائل میں ابو صفیہ کی بائیں آنکھ کی چوٹ کے ساتھ ان کی جیل کے طبی عملے سے سر کی چوٹوں اور سینے کے صدمے کے بارے میں شکایات درج ہیں، جس کی وجہ سے انہیں پسلیوں میں مسلسل درد رہتا ہے۔گروپ نے کہا کہ چوٹ کی اطلاع دینے کے بعد ابو صفیہ کو سینے کا ایکس رے کرانے کے لیے بھیجا گیا تھا، لیکن نتائج اس طبی فائل میں شامل نہیں تھے جو انہیں موصول ہوئی۔

یہ بھی پڑھئے: اسرائیل بچوں کو شوقیہ قتل کرتا ہے، مسئلہ پورا اسرائیلی معاشرہ ہے: نارمن فنکلسٹین

یہ درخواست جیل سروس کی جانب سے۵؍ جولائی کو پی ایچ آر آئی کی اس درخواست کو مسترد کرنے کے بعد سامنے آئی ہے جس میں ایک آزاد معالج کو ابو صفیہ سے ملنے کی اجازت مانگی گئی تھی۔یہ اس وقت بھی سامنے آئی ہے جب گروپ نے گزشتہ ماہ رپورٹس شائع کیں جن میں کہا گیا تھا کہ ابو صفیہ کو حراست میں شدید جسمانی تشددکا نشانہ بنایا گیا ہے اور جیل سروس نے تنظیم کو ان کے سرکاری طبی ریکارڈ فراہم کیے تھے۔پی ایچ آر آئی کے مطابق، ابو صفیہ کے وکیل، ناصر عودہ نے گزشتہ ماہ ان سے ملاقات کے بعد رپورٹ کیا کہ انہیں سر، چہرے، کانوں اور گردن پر چوٹیں آئی ہیں، اس کے علاوہ سانس لینے میں دشواری اور بغیر سہارے بیٹھنے سے قاصر ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: برطانیہ: وزیراعظم کوچیف آف اسٹاف کی تعیناتی پر فلسطین حامیوں کی مخالفت کا سامنا

بعد ازاں تنظیم نے عدالت سے فوری سماعت کا حکم دینے اور جیل حکام کو بلا تاخیر معائنے کی اجازت دینے کا حکم دینے کی استدعا کی، اور کہا کہ آزاد طبی تشخیص ہی ابو صفیہ کی حالت کا پیشہ ورانہ اور غیر جانبدارانہ انداز میں جائزہ لینے کا واحد راستہ ہے۔دریں اثناء یہ درخواست اسرائیل کی سپریم کورٹ میں جاری علیحدہ کارروائیوں کے ساتھ سامنے آئی ہے، جس میں پی ایچ آر آئی غزہ سے تعلق رکھنے والے۱۴؍ فلسطینی ڈاکٹروں کی رہائی کے لیے کوشاں ہے، جن میں ابو صفیہ بھی شامل ہیں، اور گروپ کا کہنا ہے کہ انہیں بغیر کسی الزام یا مقدمے کے حراست میں رکھا گیا ہے۔المیزان سینٹر فار ہیومن رائٹس نے کہا کہ۱۲؍ فروری۲۰۲۵ء کو اسرائیلی فوج کےجنوبی کمانڈ کے اس وقت کے سربراہ، میجر جنرل یارون فنکلمین نے اسرائیل کے غیرقانونی جنگجوؤں کے قانون کے تحت ابو صفیہ کی حراست کا حکم دیا تھا۔اسرائیل ابو صفیہ کو حراست میں رکھے ہوئے ہے۔ تاہم حقوق گروپوں کا کہنا ہے کہ ابو صفیہ کی صحت حراست میں بگڑ گئی ہے۔ وہ دائمی دل کی بیماری اور ہائی بلڈ پریشر میں مبتلا ہیں اور انہیں مناسب طبی دیکھ بھال سے محروم رکھا گیا ہے۔پچھلے قانونی دوروں اور حقوقی رپورٹس کے مطابق انہیں خراب حراستی حالات کی وجہ سے خارش ہو گئی تھی اور ناکافی خوراک اور طبی غفلت کے باعث ان کا وزن تقریباً  ۲۵؍کلوگرام کم ہو گیا تھا۔

یہ بھی پڑھئے: مشی گن سینیٹ پرائمری میں عبدل السید کی کامیابی، اے آئی پیک کی مہم کو بڑا دھچکا

فلسطینی اور اسرائیلی انسانی حقوق گروپوں کے مطابق، اس وقت اسرائیلی جیلوں میں تقریباً۹۵۰۰؍ فلسطینی قید ہیں جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں، اور بھوک، تشدد اور طبی غفلت کے ناقابلِ برداشت حالات کے باعث درجنوں قیدی ہلاک ہو چکے ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK