سرکار کے ’’پرائس مانیٹرنگ سسٹم ‘‘کی رپورٹ ، راشن سے لیکر ایندھن تک سب مہنگا ہوگیا ،تیل ،دال ،دودھ، چینی کے دام آسمان چھورہے ہیں۔
EPAPER
Updated: August 07, 2026, 9:25 AM IST | New Delhi
سرکار کے ’’پرائس مانیٹرنگ سسٹم ‘‘کی رپورٹ ، راشن سے لیکر ایندھن تک سب مہنگا ہوگیا ،تیل ،دال ،دودھ، چینی کے دام آسمان چھورہے ہیں۔
۲۰۲۶ء کے دوسرے مہینے میں ہی دنیا نے ایک ایسی تباہی دیکھی جس کے اثرات اب تک محسوس کئے جا رہے ہیں۔ فروری میں ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ چھڑ گئی جس کے اثرات پوری دنیا نے محسوس کئے۔ خاص طور پر ہندوستان میں ہر چیز کی قیمتیں بڑھ گئیں۔ گزشتہ پانچ ماہ سے عوام اس جنگ کی وجہ سے مہنگائی کا عذاب جھیل رہے ہیں۔ گزشتہ پانچ مہینوں میں راشن کی ۹۹؍ فیصد اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ ہوگیا ہے۔ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ ۲۸؍ فروری کو شروع ہوئی تھی اور تب سے ۳؍ اگست تک کی رپورٹ ہے کہ ملک میں فروخت ہونے والی تقریباً ہر شے کے دام میں اضافہ ہوا ہے۔ خصوصی طور پر اشیائے خوردونوش کے دام کافی بڑھے ہیں۔ حکومت کے کنزیومر افیئرس ڈپارٹمنٹ کے’’ پرائس مانیٹرنگ سسٹم‘‘ کی حالیہ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ راشن کے تقریباً تمام سامان کی قیمتوں میں زبردست اضافہ ہوا ہے۔
بات یہیں ختم نہیں ہوتی بلکہ پیٹرول ، ڈیزل اور رسوئی گیس بھی مہنگی ہوئی ہے۔اس رپورٹ کے مطابق کھانے پینے کی ۳۶؍ اہم اشیاء میں سے ۳۵؍کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔ ان میں تیل اور دالوںکی قیمتوں میں سب سے تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ دالوں کی قیمتوں میں اضافے کی بنیادی وجہ اس سال کمزور مانسون ہے۔ جولائی کے آخر تک، خریف کی دالوں کی فصل گزشتہ سال کے مقابلے میں تقریباً ۷؍فیصد کم تھی۔اگست کے مہینے میں تہواروں کا سلسلہ شروع ہونے کے ساتھ ہی مہنگائی میں مزید اضافہ متوقع ہے۔ راکھی، تیج، جنم اشٹمی، گنیش چترتھی، نوراتری، دسہرہ اور دیوالی تھوڑے تھوڑے عرصے میں آئیں گے۔ نتیجتاً، تہوار کے موسم میں تمام اشیائے خوردونوش کی مانگ بڑھے گی اور مہنگائی بھی بڑھنے کا اندیشہ ہے۔
کن کن چیزوں کے دام میں اضافہ ہوا ہے ؟
اعداد و شمار کے مطابق چنا دال کی قیمت میں فی کلو۵؍ روپے، ارہر (تور) دال میں۶؍ روپے، اُڑد دال میں۵ء۷۱؍ روپے، مونگ دال میں۴ء۵۵؍ روپے اور چینی کی قیمت میں۲ء۲۵؍ روپے فی کلو اضافہ ہوا۔ اسی طرح دودھ کی قیمت میں فی لیٹر ۳؍ روپے اور سرسوں کے تیل کی قیمت میں۷ء۶۵؍ روپے فی لیٹر کا اضافہ درج کیا گیا۔رپورٹ کے مطابق چاول کی قیمت فی کلو۲؍ روپے اور نمک کی قیمت ایک روپے بڑھ گئی، جبکہ آٹے کی قیمت میں ۲۲؍ پیسے فی کلو کا معمولی اضافہ ہواہے لیکن گیہوں کی قیمت ۲؍ روپے تک بڑھی ہے۔
پرائس مانیٹرنگ سسٹم کیسے کام کرتا ہے ؟
ملک کا پرائس مانیٹرنگ سسٹم محکمہ امورِ صارفین کے تحت قائم ایک نظام ہے جس کا مقصد ملک بھر میں ضروری غذائی اشیاء کی روزانہ کی تھوک اور خوردہ قیمتوں پر مسلسل نظر رکھنا ہے۔ اس نظام کے ذریعے حکومت قیمتوں میں ہونے والی تبدیلیوں، قلت یا غیر معمولی اضافے کی بروقت نشاندہی کرتی ہے ۔ ملک کی مختلف ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں قائم ۵۵۰؍ سے ۵۷۵؍ مقامی قیمت رپورٹنگ مراکز سے روزانہ قیمتوں کا ڈیٹا جمع کیا جاتا ہے، جس سے مختلف علاقوں میں اشیائے ضروریہ کی قیمتوں کا موازنہ اور تجزیہ ممکن ہوتا ہے۔