Inquilab Logo Happiest Places to Work

ال نینو کا بڑا الرٹ! ہندوستان میں خشک سالی کا خطرہ ۷۰؍ فیصد تک بڑھ گیا

Updated: August 18, 2026, 10:04 PM IST | New Delhi

ہندوستان میں رواں مانسون سیزن کے دوران بارش کی صورتحال تشویشناک ہوتی جا رہی ہے۔ نجی موسمیاتی ادارے اسکائی میٹ ویدر سروسیز نے ملک میں اس سال خشک سالی کے امکانات ۷۰؍ فیصد تک بڑھا دیے ہیں۔ جون سے جاری بارش کی کمی کا سلسلہ ستمبر تک برقرار رہ سکتا ہے جس کی بڑی وجہ مضبوط ال نینو اثرات ہیں۔

El Nino.Photo:INN
ایل نینو۔ تصویر:آئی این این

ہندوستان میں رواں مانسون سیزن کے دوران بارش کی صورتحال تشویشناک ہوتی جا رہی ہے۔ نجی موسمیاتی ادارے اسکائی میٹ ویدر سروسیز نے ملک میں اس سال  خشک سالی کے امکانات ۷۰؍ فیصد  تک بڑھا دیے ہیں۔ ادارے کے بانی اور چیئرمین جتن سنگھ  کے مطابق جون سے جاری بارش کی کمی کا سلسلہ ستمبر تک برقرار رہ سکتا ہے، جس کی بڑی وجہ مضبوط  ال نینو  اثرات ہیں۔

یہ بھی پڑھئے:’’گیتو موہن داس کی منتخب کردہ طاقتور خواتین کے ساتھ کام کرنا خوش قسمتی ہے: اکشے اوبرائے

جتن سنگھ نے ایک انٹرویو میں مانسون، مختلف ریاستوں پر اس کے اثرات اور ہندوستانی معیشت پر ممکنہ دباؤ کے بارے میں تفصیل سے بات کی۔  جتن سنگھ کے مطابق پہلے اسکائی میٹ  نے رواں سیزن میں خشک سالی کے امکانات  ۶۰؍ فیصد  بتائے تھے، لیکن اب یہ شرح بڑھ کر۷۰؍ فیصد ہو گئی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس وقت سب سے بہتر ممکنہ صورتحال بھی بارش کے معمول کے۹۰؍ سے ۹۵؍ فیصد تک رہنے کی ہے، جبکہ موجودہ رجحانات میں ۹۰؍ فیصد سے کم بارش کا امکان زیادہ نظر آ رہا ہے۔
 اگست کے پہلے نصف میں تقریباً ہر روز ہونے والی بارش ماہانہ اوسط سے کم رہی۔ اس کے نتیجے میں اگست کی بارش کا خسارہ مہینے کے آغاز کے تقریباً۱۱؍ فیصد سے بڑھ کر۱۳؍ فیصد  ہوگیا ہے۔ جون میں پیدا ہونے والے خسارے اور اگست میں جاری کمی کو دیکھتے ہوئےاسکائی میٹ  کا کہنا ہے کہ رواں مانسون کا دوبارہ معمول کی سطح پر آنا اب  انتہائی مشکل دکھائی دیتا ہے۔  اسکائی میٹ  کے مطابق جنوبی بحرالکاہل میں  ال نینو  کے حالات بننے کے وقت ہی دسمبر ۲۰۲۲ء میں معمول سے کم مانسون کے خطرے کی نشاندہی کر دی گئی تھی۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے تاریخی اعداد و شمار کے مطابق ال نینو والے برسوں میں ہندوستان میں معمول سے کم بارش ہونے کا امکان کافی زیادہ ہوتا ہے اور خشک سالی کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے۔
 ال نینو کے منفی اثر کو متوازن کرنے والا ایک اہم موسمی عنصر Indian Ocean Dipole   تھا۔ اگرچہ  آئی او ڈی مثبت رہا، لیکن جتن سنگھ کے مطابق یہ اتنا مضبوط نہیں تھا کہ ال نینو کے باعث پیدا ہونے والی بارش کی کمی کو مکمل طور پر پورا کر سکے۔  جتن سنگھ نے تاریخی اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ گزشتہ ۶۰؍سے ۷۰؍ سال  کے رجحانات میں خشک سالی والے برسوں کے دوران ہندوستان کی جی ڈی پی میں عموماً تقریباً  ایک  فیصد تک کمی یا نقصان دیکھا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھئے:جوڈار چوتھے راؤنڈ میں؛ الکاراز اور شیلٹن کی برابری کی

 حکومت کے پاس موجود غذائی ذخائر اور ان کی مناسب تقسیم کی وجہ سے فی الحال خوراک کی قیمتوں پر بہت زیادہ دباؤ نظر نہیں آیا، لیکن طویل خشک سالی کی صورت میں مہنگائی کا دباؤ دوبارہ بڑھ سکتا ہے۔  اس سال مانسون کے  معمول سے پہلے واپس جانے  کا خدشہ بھی ظاہر کیا گیا ہے۔ جتن سنگھ نے ۲۰۰۹ء کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ اس وقت اگست کے بعد بارش دوبارہ نہیں لوٹی تھی۔ تاہم ان کے مطابق موجودہ صورتحال میں مانسون کی قبل از وقت واپسی کے بارے میں حتمی پیش گوئی کرنا ابھی مشکل ہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ مسلسل دو برس تک ال نینو اور مسلسل دو خشک سالی کے واقعات تاریخی اعتبار سے بہت نایاب ہیں۔ ماضی میں ایسی صورتحال ۶۷۔۱۹۶۶ء اور ۱۵۔۲۰۱۴ء میں دیکھی گئی تھی۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK