ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ ایران نے جنگ اور سفارت کاری دونوں میں کامیابی حاصل کی ہے، انہوں نے کہا کہ اس تنازع نے ایران کی کمزوری کے عالمی تصور کو مکمل طور پر ختم کر دیا۔
EPAPER
Updated: August 18, 2026, 10:04 PM IST | Tehran
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ ایران نے جنگ اور سفارت کاری دونوں میں کامیابی حاصل کی ہے، انہوں نے کہا کہ اس تنازع نے ایران کی کمزوری کے عالمی تصور کو مکمل طور پر ختم کر دیا۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے منگل کو کہا کہ امریکہ و اسرائیل کی جارحانہ جنگ نے ایران کی لچک کو ظاہر کیا اور دنیا بھر میں ایران کو کمزور سمجھنے کا خیال یکسر مٹا دیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ جنگ کے بعد ایران کی خارجہ پالیسی جنگ سے پہلے کے دور سے بنیادی طور پر مختلف ہوگی۔ایرانی سرکاری ٹی وی پر نشر ہونے والے ایک انٹرویو میں عراقچی نے کہا کہ جنگ نے ایران کے بارے میں بین الاقوامی تصورات کو یکسر تبدیل کر دیا اور دلیل دی کہ مسلسل دباؤ کے باوجود ایران نے لچک کا مظاہرہ کیا۔ انہوں نے کہا، ’’میرے خیال میں جنگ کے بعد کے دور میں ایران کی خارجہ پالیسی جنگ سے پہلے کے دور سے مکمل طور پر مختلف ہوگی۔ ایران کی کمزوری کا تاثر مکمل طور پر ختم ہو چکا ہے۔‘‘ عراقچی نے کہا کہ امریکہ نے ابتدا میں ایران سے غیر مشروط ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا تھا لیکن بعد میں اس نے اپنے اہداف تبدیل کر لیے۔انہوں نے کہا، ’’جنگ کا دوسرا یا تیسرا دن تھا جب ٹرمپ نے دو الفاظ پر مشتمل ایک ٹویٹ پوسٹ کیا تھا، ’’غیر مشروط ہتھیار ڈالو۔ ‘‘اور وہ ہتھیار ڈالنے کے خواہاں تھے،وہ مایوس ہو گئے، پھر انہوں نے حکومت کی تبدیلی کی کوشش کی، وہ مایوس ہو گئے، پھر انہوں نے ایران کو تقسیم کرنے کی کوشش کی، وہ مایوس ہو گئے، پھر انہوں نے داخلی بدامنی کی کوشش کی ، ساتھ ہی ہر منصوبہ جو وہ کر سکتے تھے، انہوں نے کیا، اور وہ اس جنگ کو تیزی سے ختم کرنے میں ناکام رہے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: اسرائیلی وزیراعظم اور ٹرمپ کے مشیر کے درمیان غزہ ہدفی قتل پرنااتفاقی: رپورٹ
بعد ازاں امریکہ کے ساتھ مذاکرات کے بارے میں عراقچی نے کہا کہ’’ صدر مسعود پزشکیان نے واشنگٹن کی مذاکرات کی درخواست کو جنگ ختم کرنے کی راہ تلاش کرنے کے ممکنہ ذریعہ کے طور پر دیکھنے کی حمایت کی تھی۔‘‘عراقچی نے کہا کہ’’ ایران نے جنگ اور سفارت کاری دونوں میں کامیابی حاصل کی۔ ‘‘ہم نے جنگ جیتی اور سفارت کاری میں بھی جیتے، اور ہم نے دشمن کو اپنی شرائط قبول کرنے پر مجبور کیا۔‘‘
انہوں نے مزید کہا کہ’’ ایران کی فوجی صلاحیتوں نے مذاکرات میں اس کی سفارت کاری کو طاقت بخشی ۔عراقچی نے کہا کہ’’ ایران نے دنیا کی سب سے بڑی نام نہاد ظاہری فوج اور ایک اور فوج جو فوجی طاقت کا دعویٰ کرتی ہے، کے خلاف مہینوں تک مزاحمت کی۔‘‘ انہوں نے کہا کہ’’ امریکہ کے ساتھ دستخط کی گئی مفاہمت کی یادداشت میں ہمارے حق میں۱۳؍ دفعات اور امریکہ کے حق میں ایک شق شامل تھی۔‘‘ مزید یہ کہ ،’’امریکہ اب ہماری شرائط کے مطابق ہم سے مذاکرات کرنے کی التجا کر رہا ہے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: جیرڈ کشنرکی حماس کے وفد سے ملاقات، اسرائیل کے انخلا کا وعدہ
مزید برآں عراقچی نے اسرائیل پر سفارت کاری کو سبوتاژ کرنے کا الزام لگایا اور اسے امریکہ کے ساتھ جنگ بندی کی مفاہمت کے نفاذ کا سب سے بڑا مخالف اور رکاوٹ قرار دیا۔عراقچی نے کہا، ’’مفاہمت کی یادداشت کے نفاذ کا سب سے بڑا مخالف اور رکاوٹ صہیونی حکومت( اسرائیل) تھی اور ہے،‘‘ انہوں نے مزید کہا، ’’اسرائیل نے ایسی مفاہمت کو ہونے سے روکنے کی پوری کوشش کی، اسرائیلنے اس مفاہمت کو ناکام بنانے کی پوری کوشش کی، اور اسے نافذ ہونے سے روکنے کی پوری کوشش کی، اور وہ ابھی تک اس کوشش کو جاری رکھے ہوئے ہے۔‘‘ ساتھ ہی عراقچی نے دعویٰ کیا کہ متعدد سفیروں نے انہیں بتایا کہ مفاہمت کی یادداشت کی تقریباً تمام شقیں ایران کے حق میں تھیں۔عراقچی نے کہا، ’’ہم نے اختیار کے ساتھ جنگ لڑی اور اختیار کے ساتھ مذاکرات کیے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: ’’جنگ بندی کی امریکی کوشش جنگ کے نئے مرحلہ کی تیاری ہے‘‘
واضح رہے کہ عراقچی کا یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے داماد اور ایلچی جیرڈ کشنر نے ایران پر امریکہ کے سخت موقف کا اعادہ کیا ہے اور کہا ہے کہ امریکی سربراہ اس بارے میں واضح ہیں کہ ایران کو ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔دریں اثنا، ایران کے اعلیٰ مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے منگل کو کہا کہ’’ آبنائے ہرمز اس وقت تک نہیں کھولی جائے گی جب تک کہ امریکہ تہران کے مطالبات، بشمول بحری ناکہ بندی ہٹانےپر پوری طرح تیار نہیں ہوجاتا۔قالیباف نے سرکاری ٹیلی ویژن پر نشر ہونے والی ایک تقریر میں کہا، ’’میں واضح طور پر کہنا چاہتا ہوں کہ آبنائے ہرمز اس وقت تک نہیں کھولی جائے گی جب تک کہ مفاہمت کی یادداشت میں طے شدہ امریکی وعدے پورے نہیں کر لیے جاتے۔‘‘