جاپان میں پڑھ سکنے اور رنگوں کی پہچان کرنے والی چمپینزی کا ۴۹؍ سال کی عمر میں انتقال ہوگیا، اپنی موت کے وقت، وہ کیوٹو یونیورسٹی کے سینٹر فار دی ایولوشنری اوریجنز آف ہیومن بیہیویئر کے عملے کے اراکین سے گھری ہوئی تھی۔
EPAPER
Updated: January 13, 2026, 8:02 PM IST | Tokyo
جاپان میں پڑھ سکنے اور رنگوں کی پہچان کرنے والی چمپینزی کا ۴۹؍ سال کی عمر میں انتقال ہوگیا، اپنی موت کے وقت، وہ کیوٹو یونیورسٹی کے سینٹر فار دی ایولوشنری اوریجنز آف ہیومن بیہیویئر کے عملے کے اراکین سے گھری ہوئی تھی۔
ایک مادہ چمپینزی ’’ای‘‘ جو اپنی علمی صلاحیتوں کے لیے مشہور تھی، ۴۹ کی عمر میں انتقال کر گئی۔’’ ای‘‘ کی موت کا اعلان جاپانی ادارے نے کیا جہاں وہ رہتی تھی۔ وہ جمعہ۹؍ جنوری کو بڑھاپے سے متعلق اعضاء کی ناکامی کی وجہ سے انتقال کر گئی۔ اپنی موت کے وقت، وہ کیوٹو یونیورسٹی کے سینٹر فار دی ایولوشنری اوریجنز آف ہیومن بیہیویئر کے عملے کے اراکین سے گھری ہوئی تھی۔ واضح رہے کہ ’’ای ‘‘کا جاپانی میں مطلب ہے محبت۔ یہ چمپینزی ۱۹۷۷ء میں جاپانی ادارے میں لائی گئی تھی، حالانکہ اس کی پیدائش مغربی افریقہ میں ہوئی تھی۔ وہ ایک طویل مدتی تحقیق پروگرام جسے’’ ای‘‘ پروجیکٹ کہا جاتا ہے کا حصہ بنی، جو چمپینزی کے ذہن کو سمجھنے کے لیے وقف تھا۔بعد ازاں اس تحقیق کے دوران، یہ بات سامنے آئی کہ ’’ای‘‘ رنگوں کی پہچان کر سکتی تھی اور اعداد استعمال کرنے کی صلاحیت رکھتی تھی۔یہ ادارے کے ریکارڈ میں شامل قابل ذکر دریافتوں میں سے تھیں۔
خبر ایجنسی اے ایف پی نے رپورٹ کیا ہے کہ ’’ای‘‘ ۱۰۰؍ سے زیادہ چینی حروف اور انگریزی حروف تہجی پہچان سکتی تھی۔ پرائمیٹولوجسٹ ٹیٹسورو ماتسوزاوا نے۲۰۱۴ء میں کہاکہ ’’ ای‘‘ چینی حروف اور حروف تہجی میں مہارت کے علاوہ، صفر سے نو تک عربی اعداد اور ۱۱؍ رنگ پہچان سکتی تھی ۔’’ای‘‘ بہت تجسس رکھتی تھی اور ان مطالعات میں فعال طور پر حصہ لیتی تھی، جس سے چمپینزی کے ذہن کے مختلف پہلو پہلی بار سامنے آئے۔
یہ بھی پڑھئے: فلسطین حامی موقف پر پیرا ماؤنٹ اسٹوڈیوز نے ہاویئر بارڈیم کو بلیک لسٹ کیا: رپورٹ
بعد ازاں ان مطالعات نے چمپینزی کے ذہن کو سمجھنے کے لیے ایک تجرباتی فریم ورک قائم کرنے میں مدد کی، جو انسانی ذہن کے ارتقاء پر غور کرنے کے لیے ایک اہم بنیاد فراہم کرتا ہے۔ سینٹر نےمزید کہا کہ ۲۰۰۰ء میں،’’ ای‘‘ نے ایک بیٹے کو جنم دیا، جس کا نام’’ ایومو ر‘‘کھا گیا،۔جاپان کے خبروں کے ادارے ’’کیوڈو نیوز‘‘ نے تبصرہ کیاکہ ’’ ایومو ر‘‘ کی صلاحیتوں نے والد اور بچے کے علم کی منتقلی کے مطالعات کی طرف توجہ مبذول کرائی۔