Updated: January 12, 2026, 9:54 PM IST
| Mumbai
ہالی ووڈ کے آسکر یافتہ ہسپانوی اداکار ہاویئر بارڈیم نے تصدیق کی ہے کہ انہیں مبینہ طور پر عالمی فلم اسٹوڈیو پیرا ماؤنٹ کی بلیک لسٹ میں شامل کیا گیا ہے۔ اس کی وجہ ان کا فلسطین حامی موقف اور اسرائیل کے خلاف ان کے بیانات بتائے جا رہے ہیں، جس نے فلم انڈسٹری میں آزادی اظہار اور سیاسی تاثرات کے بارے میں نئی بحثیں چھیڑ دیں ہیں۔
ہاویئر بارڈیم۔ تصویر: آئی این این
ہالی ووڈ کے معروف اور آسکر یافتہ ہسپانوی اداکار ہاویئر بارڈیم نے بتایا ہے کہ مشہور فلم اسٹوڈیو پیرا ماؤنٹ پکچرز نے انہیں بلیک لسٹ کیا ہے جس کی وجہ ان کے فلسطین کی حمایت میں بیانات اور احتجاجی موقف ہیں۔ یہ انکشاف ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ہالی ووڈ میں سیاسی اظہار اور فنکارانہ آزادی کے حقوق پر بحثیں جاری ہے۔ بارڈیم نے اس معاملے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ’’مجھے پیرا ماؤنٹ کی جانب سے بلیک لسٹ ہونے پر حیرت نہیں ہے۔ لیکن یہ بات سمجھنے کی ہے کہ ہم کسی قوم یا مذہب کے خلاف نہیں ہیں؛ ہماری جدوجہد اُن لوگوں کے خلاف ہے جو عام شہریوں پرجرائم کی حمایت کرتے ہیں۔‘‘ واضح رہے کہ وہ وہ کئی برسوں سے اپنے اسی موقف پر قائم ہیں۔
یہ بھی پڑھئے:ایران میں مظاہروں پر ردِعمل کے معاملے میں امریکی حکام میں اختلاف: رپورٹ
یہ معاملہ ایک بڑے عوامی تنازعے کا حصہ ہے، جس میں متعدد ہالی ووڈ فنکار اسرائیل اور فلسطین کے تنازع کے بارے میں کھل کر اپنے خیالات کا اظہار کر رہے ہیں۔ ۲۰۲۵ء میں ’’فلم ورکرز فار فلسطین‘‘ نامی عالمی فلم کارکنان کے گروپ نے ایک کھلا خط شائع کیا تھا، جس میں سیکڑوں معروف اداکاروں، ہدایتکاروں اور فنکاروں نے اسرائیلی فلم اداروں کے خلاف بائیکاٹ کا اعلان کیا تھا۔ اس خط پر ہاویئر بارڈیم، مارک رفالو، ایما اسٹون، ہواکین فینکس جیسے نام شامل تھے جنہوں نے کہا کہ وہ ایسے اداروں کے ساتھ کام نہیں کریں گے جن کے بارے میں وہ سمجھتے ہیں کہ وہ ’’نسل کشی‘‘جیسی پالیسیوں کے ذمے دار ہیں۔ یاد رہے کہ اس خط پر تقریباً ۵؍ ہزار سے زائد فلم ارکان نے دستخط کئے تھے۔ اس بیان میں کہا گیا کہ یہ بائیکاٹ ’’فلسطینی عوام کے خلاف نسل کشی اور انسانی حقوق کے خلاف مبینہ اقدامات کے ذمہ دار فلم اداروں کے خلاف‘‘ ہے، اور اس کا مقصد صرف سیاسی اظہار ہے نہ کہ اقلیت یا مذہب کے خلاف کوئی بات۔
یہ بھی پڑھئے:ہندوستان میں خردہ مہنگائی دسمبر میں ۳۳ء۱؍فیصد رہی
اس وقت پیرا ماؤنٹ اسٹوڈیوز نے اس بائیکاٹ پر کہا تھا کہ ’’انفرادی فنکاروں کی آواز کو دبانا یا ان کے خیالات کے باعث ان کے پیشہ ورانہ تعلقات میں رکاوٹ ڈالنا غلط ہے۔‘‘ تاہم، متعدد رپورٹس میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ نئے مینجمنٹ کے تحت اسٹوڈیو ایک ’’اندرونی بلیک لسٹ‘‘ تیار کر رہا ہے جس میں ایسے فنکار شامل کئے جا رہے ہیں جنہیں وہ ’’انتہائی سیاسی اور متنازع خیالات رکھنے والے‘‘ تصور کرتے ہیں۔ اس بلیک لسٹ کے متعلق بہت سے ناقدین کا کہنا ہے کہ فنکاروں کی سیاسی رائے ان کے کام یا پیشہ ورانہ تعلقات پر اثر انداز نہیں ہونی چاہئے۔ بعض رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ اسٹوڈیو کے نئے سی ای او ڈیوڈ ایلیسن کی قیادت میں یہ تبدیلیاں آ رہی ہیں، جن کا کہنا ہے کہ وہ اسٹوڈیو کو ’’سب کے لیے کھلا‘‘ رکھنے اور سیاسی اختلافات کو فلم سازی سے دور رکھنے کے لئے کوشاں ہیں۔
دریں اثناء، بارڈیم کے بیانات نے اس بحث کو مزید ہوا دی ہے کہ کیا بڑے فلم اسٹوڈیوز فنکاروں کی رائے کی وجہ سے ان کے کریئر کو نقصان پہنچا سکتے ہیں؟ بارڈیم نے واضح کیا ہے کہ ان کا احتجاج کسی بھی قوم یا مذہب کے خلاف نہیں ہے، بلکہ وہ ’’ان اداروں کے خلاف ہیں جو شہریوں کے خلاف جرائم کی حمایت کرتے ہیں۔‘‘ یہ تنازع ہالی ووڈ میں سیاسی اظہار، انسانی حقوق، اور فنکارانہ آزادی کے درمیان باریکیوں کو سامنے لاتا ہے۔ بارڈیم کی بلیک لسٹنگ کے الزامات مزید سوالات اٹھاتے ہیں کہ فلم انڈسٹری میں سیاسی موقف رکھنے والے فنکاروں کو کس حد تک مواقع دیے جاتے ہیں۔ یہ واقعہ عالمی سطح پر بھی بحث کا موضوع بنا ہوا ہے، جہاں فن، سیاست اور اخلاقیات ایک ہی فریم میں نظر آ رہے ہیں۔