جاپان کے ۳۱؍ سالہ بھکشو سوگاکو تاگوچی نے سخت مذہبی تربیت کے تحت ۱۲؍ سالہ خلوت اختیار کرلی ہے۔ وہ ۱۱؍ ستمبر ۲۰۳۸ء تک نہ کسی شخص سے ملاقات کریں گے، نہ بیرونی دنیا سے رابطہ رکھیں گے اور نہ ہی مندر سے باہر جائیں گے۔
EPAPER
Updated: October 01, 2026, 1:07 PM IST | Tokyo
جاپان کے ۳۱؍ سالہ بھکشو سوگاکو تاگوچی نے سخت مذہبی تربیت کے تحت ۱۲؍ سالہ خلوت اختیار کرلی ہے۔ وہ ۱۱؍ ستمبر ۲۰۳۸ء تک نہ کسی شخص سے ملاقات کریں گے، نہ بیرونی دنیا سے رابطہ رکھیں گے اور نہ ہی مندر سے باہر جائیں گے۔
جاپان کے ایک بھکشو نے سخت مذہبی تربیت کے تحت ۱۲؍ سال کے لیے خود کو خلوت میں محدود کر لیا ہے۔ اس دوران وہ ایک بھی شخص سے ملاقات نہیں کریں گے۔ اوتسو میں ماؤنٹ ہئی پر واقع نانزامبو مندر کے ۳۱؍ سالہ سربراہ بھکشو سوگاکو تاگوچی نے ۱۱؍ ستمبر سے اس مدت کا آغاز کیا۔ طویل خلوت کے باعث وہ ۱۱؍ ستمبر ۲۰۳۸ء تک نہ مندر سے باہر جائیں گے، نہ بیرونی دنیا کے بارے میں کچھ جانیں گے اور نہ ہی کسی دوسرے شخص سے رابطہ کریں گے۔ نانزامبو مندر، این ریاکوجی مندر کے احاطے کا حصہ ہے۔ تاگوچی اسی احاطے میں واقع جودو اِن ہال میں قیام کریں گے، جو تندائی بدھ مت فرقے کے بانی سائچو کے لیے مخصوص ہے۔ تاگوچی روزانہ ایک سخت معمول پر عمل کریں گے، جس میں شدید سردیوں کے دوران بھی ریاضت اور سخت مذہبی مشقیں شامل ہیں۔ ماضی میں اس مشقت کے دوران بیمار پڑنے والے کئی بھکشو ہلاک بھی ہو چکے ہیں۔ وہ ہال کی صفائی اور کھانا پکانے کا کام بھی کریں گے، جو مقبرے کے سامنے پیش کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھئے: ہندو گروہ کے دورہ میں خواتین کو پردے میں رکھنے کے تنازع پر ایفل ٹاور کے سربراہ مستعفی
این ریاکوجی مندر کے مطابق تاگوچی ۱۶۹۹ء کے بعد سے ۱۱۸؍ویں ’’جیشِن‘‘ اور دوسری عالمی جنگ کے خاتمے کے بعد آٹھویں جیشِن ہیں۔ جیشِن بننے کے سفر میں ’’کوسوگیو‘‘ نامی مذہبی مشق شامل ہے۔ اس کے تحت بھکشو کو روزانہ ہر بدھا کے سامنے ۳؍ ہزار مرتبہ لوبان پیش کرنا، ان کے ناموں کا ورد کرنا اور بار بار سجدہ کرنا ہوتا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ اس مشقت کی شدت کے باعث بھکشو کو بدھا کی ایک واضح شکل دکھائی دینے لگتی ہے۔ تاگوچی نے گزشتہ سال اسی عرصے سے کوسوگیو کی مشق شروع کر دی تھی۔ کوسوگیو مکمل کرنے کے بعد تاگوچی نے کیدان اِن ہال میں ’’جیسےئی جوکائی‘‘ یعنی خود عائد کردہ مذہبی عہد کی تقریب میں شرکت کی۔ خلوت میں جانے سے قبل انہوں نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ ’’اس سفر کے آغاز پر کھڑے ہو کر خوشی سے سرشار ہیں‘‘۔ انہوں نے کہا، ’’دینگیودائشی کی تعلیمات کے مطابق زندگی گزارنے کی خواہش میرے دل میں بڑھتی گئی، اور اسی مقصد کو سامنے رکھتے ہوئے میں نے ایک بھکشو کی راہ اختیار کی۔‘‘ دینگیودائشی کا لقب اس وقت کے شہنشاہ کی جانب سے دیا گیا تھا۔
یہ بھی پڑھئے: روس: مسلح افواج کی تعداد میں اضافہ، پوتن نے۲۴؍ لاکھ اہلکاروں کی منظوری دے دی
ماؤنٹ ہئی ’’کائی ہو گِیو‘‘ نامی سخت مذہبی مشق کے لیے بھی مشہور ہے، جس میں بھکشو سات سال کے دوران مجموعی طور پر ایک ہزار دن پہاڑ کے گرد پیدل سفر کرتے ہیں۔ پہلے تین برسوں میں انہیں ہر سال مسلسل ۱۰۰؍ دن تک روزانہ ۳۰؍ کلومیٹر پیدل چلنا ہوتا ہے۔ چوتھے اور پانچویں برس میں ہر سال مسلسل ۲۰۰؍ دن تک روزانہ پیدل چلنے کی مشق کی جاتی ہے۔ اس کے بعد بھکشو ۹؍ دن تک بغیر کھانے، پانی، نیند اور لیٹے گزارے روزانہ منتروں کا ورد کرتے ہیں، جبکہ دیگر بھکشو ان کی نگرانی کرتے ہیں۔ اگلے سال ۱۰۰؍ دن تک روزانہ ۶۰؍ کلومیٹر پیدل چلنا ہوتا ہے، جس کے بعد والے سال یہ فاصلہ بڑھ کر ۸۴؍ کلومیٹر روزانہ ہو جاتا ہے۔ آخری مرحلے میں ۱۰۰ دن تک روزانہ ۳۰؍ کلومیٹر پیدل چلنے کی مشق کی جاتی ہے۔