Updated: September 30, 2026, 3:10 PM IST
| Mascow
روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے روسی مسلح افواج کی مجموعی مجاز تعداد میں اضافے کا حکم نامہ جاری کر دیا ہے، اس نئے صدارتی فرمان کے بعد روسی فوج کی کل تعداد بڑھ کر۲۴؍ لاکھ۴۱؍ ہزار۶۳۰؍ اہلکار ہو گئی ہے، صدارتی حکم نامے میں روسی حکومت کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ وزارت دفاع کو وفاقی بجٹ سے مطلوبہ فنڈز فراہم کرے تاکہ مسلح افواج کی منظور شدہ تعداد کو برقرار رکھا جا سکے۔
روسی صدر ولادیمیر پوتن۔ تصویر: آئی این این
روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے روسی مسلح افواج کی مجموعی مجاز تعداد میں اضافے کا حکم نامہ جاری کر دیا ہے، اس نئے صدارتی فرمان کے بعد روسی فوج کی کل تعداد بڑھ کر۲۴؍ لاکھ۴۱؍ ہزار۶۳۰؍ اہلکار ہو گئی ہے۔سرکاری قانونی معلومات کے پورٹل پر شائع ہونے والی دستاویز کے مطابق پیر کے روز دستخط کیے گئے اس فرمان میں۱۵؍ ہزار۵۰۰؍ فعال فوجیوں کا اضافہ کیا گیا ہے۔ اس اضافے کے بعد فعال فوجی اہلکاروں کی کل تعداد۱۵؍ لاکھ۵۰؍ ہزار ۵۰۰؍ ہو گئی ہے۔ باقی تعداد میں سویلین عملہ اور دیگر معاون محکموں کے اہلکار شامل ہیں۔مزید برآں صدارتی حکم نامے میں روسی حکومت کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ وزارت دفاع کو وفاقی بجٹ سے مطلوبہ فنڈز فراہم کرے تاکہ مسلح افواج کی منظور شدہ تعداد کو برقرار رکھا جا سکے۔
یہ بھی پڑھئے: یمن: سرکاری فوج کے حوثیوں کے ٹھکانوں پر تین دن میں ۷۰۰؍ سے زائد حملے
واضح رہے کہ یہ اقدام روس کی عسکری قوت کو مزید مضبوط بنانے کی مسلسل کوششوں کا حصہ ہے۔ اس سے قبل جولائی میں بھی صدر پوتن نے روسی مسلح افواج کی تعداد میں اضافہ کیا تھا، جس کے تحت کل تعداد بڑھا کر۲۴؍ لاکھ۲۶؍ ہزار۱۳۰؍ کر دی گئی تھی، جن میں۱۵؍ لاکھ ۳۵؍ ہزار فعال سروس اہلکار شامل تھے۔تازہ ترین اضافہ یوکرین جنگ کے تناظر میں خاص اہمیت رکھتا ہے، جہاں روس کو طویل محاذ آرائی اور مغربی دباؤ کا سامنا ہے۔تاہم مبصرین کے مطابق فوج کی تعداد میں مسلسل اضافہ کریملن کی جانب سے طویل مدتی عسکری تیاریوں اور دفاعی ڈھانچے کو وسعت دینے کی علامت ہے۔
یہ بھی پڑھئے: مکہ معاہدہ اتحاد بین المسلمین کیلئے اٹھایا گیا قدم ہے: ایرانی صدر
جبکہ روسی حکام کا کہنا ہے کہ فوج کی عددی طاقت میں اضافہ ملک کی سلامتی اور خودمختاری کے تحفظ کے لیے ضروری ہے۔ جبکہ مغربی ممالک اس اقدام کو خطے میں کشیدگی بڑھانے کے مترادف قرار دے رہے ہیں۔ذہن نشین رہے کہ حالیہ برسوں میں روس نے اپنی فوج میں بھرتی کے عمل کو تیز کیا ہے اور کنٹریکٹ بیس سروس کو فروغ دیا ہے۔ صدر پو تن کے اس نئے فرمان سے واضح ہوتا ہے کہ روس آنے والے برسوں میں اپنی عسکری استعداد میں مزید اضافہ کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔