Inquilab Logo Happiest Places to Work

جاپان ماؤنٹ فیوجی: تھکن کی شکایت کرنے پر ۷؍ سالہ بچے کو والد نے تنہا چھوڑ دیا

Updated: August 24, 2026, 3:47 PM IST | Tokyo

جاپان کے ماؤنٹ فیوجی پر چڑھائی کے دوران تھکن کی شکایت کرنے والے ۷؍ سالہ بچے کو اس کے والد نے پہاڑ کے چھٹے اسٹیشن پر انتظار کرنے کے لیے چھوڑ دیا اور بڑے بیٹے کے ساتھ چوٹی کی جانب روانہ ہوگئے۔ بعد میں بچے کو ایک پہاڑی جھوپڑی کے قریب اکیلے پایا گیا، جس کے بعد پولیس نے والد سے رابطہ کرکے اسے واپس آنے اور بچے کو ساتھ لے جانے کی ہدایت کی۔ بچہ محفوظ رہا، تاہم پولیس نے والد کو خبردار کیا کہ کسی بھی صورت بچے کو تنہا چھوڑنا ناقابلِ قبول ہے۔

Mount Fuji. Photo: X
ماؤنٹ فوجی۔ تصویر: ایکس

مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق جاپان کے ماؤنٹ فوجی پر چڑھائی کے دوران تھکن کی شکایت کرنے والے ۷؍ سالہ بچے کو اس کے والد نے پہاڑ پر ہی چھوڑ دیا۔ ناگویا سے تعلق رکھنے والا بچہ جمعرات کو اپنے ۴۸؍ سالہ والد اور بڑے بھائی کے ہمراہ جاپان کے بلند ترین پہاڑ ماؤنٹ فیوجی کے فوجینومیا ٹریل پر چڑھائی کر رہا تھا۔ خاندان پہاڑ کے چھٹے اسٹیشن تک پہنچا، جو سطح سمندر سے تقریباً ۲۴۹۰؍ میٹر (۸۱۷۰؍ فٹ) کی بلندی پر واقع ہے۔ اس مقام پر چھوٹے بیٹے نے کہا کہ وہ مزید چڑھائی کے لیے بہت تھک چکا ہے۔ ایس بی ایس ٹی وی کے مطابق، بچے کے والد نے اسے وہیں انتظار کرنے کو کہا اور اپنے بڑے بیٹے کے ساتھ چوٹی کی جانب روانہ ہوگئے۔

یہ بھی پڑھئے: غزہ، مغربی کنارے اور مشرقی یروشلم میں عالمی تحفظ کی تعیناتی ضروری: اقوام متحدہ

ماؤنٹ فوجی کی کوہ پیمائی کی سرکاری ویب سائٹ کے مطابق چھٹے اسٹیشن سے چوٹی تک پہنچنے میں پانچ گھنٹے سے زیادہ وقت لگتا ہے، جبکہ واپسی میں تقریباً ڈھائی گھنٹے لگتے ہیں۔ بعد ازاں صبح تقریباً ۷؍ بج کر ۴۰؍ منٹ پر پہاڑی جھوپڑی کے قریب ایک بینچ پر بچے کو اکیلے بیٹھے ہوئے پایا گیا۔ وہاں کام کرنے والے ایک شخص نے اسے دیکھا، پناہ دینے کے لیے اندر لے گیا اور فوری طور پر پولیس کو اطلاع دی۔ ایس بی ایس کے مطابق پولیس نے بچے کے والد کی شناخت کرکے ان سے رابطہ کیا۔ وہ اس وقت راستے کے آٹھویں اسٹیشن کے قریب تھے اور انہیں واپس آکر اپنے بیٹے کو لینے کے لیے کہا گیا۔

بچہ محفوظ تھا اور اسے بحفاظت والد کے حوالے کر دیا گیا۔ تاہم پولیس نے کوہ پیماؤں پر زور دیا ہے کہ پہاڑ پر چڑھنے کا منصوبہ بناتے وقت گروپ میں شامل ہر فرد کی جسمانی صلاحیت اور برداشت کو مدنظر رکھا جائے اور اسی کے مطابق رفتار مقرر کی جائے۔ جاپان ٹوڈے کے مطابق پولیس اہلکاروں نے بچے کے والد سے کہا، ’’اگر اس کا مطلب یہ بھی ہو کہ آپ کو مل کر پہاڑ پر چڑھنے کا منصوبہ ترک کرنا پڑے، تب بھی بچے کو پیچھے چھوڑنا ناقابلِ قبول ہے۔‘‘ بتایا جاتا ہے کہ والد نے پولیس کو کہا کہ انہیں اپنے فیصلے پر ’’شدید افسوس‘‘ ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ایران کے خلاف امریکہ کا ’’اقتصادی ڈی ڈے‘‘ منصوبہ، نئی پابندیوں کا اعلان متوقع

ماؤنٹ فوجی ۳۷۷۶؍ میٹر (۱۲۳۸۹؍ فٹ) بلند ہے اور جاپان کا سب سے اونچا پہاڑ ہے۔ موسمِ گرما کے دوران یہاں بڑی تعداد میں کوہ پیما آتے ہیں۔ فوجینومیا ٹریل چوٹی تک پہنچنے والے چار بڑے راستوں میں سے ایک ہے۔ رواں سال کے اوائل میں قریبی گاؤں کے حکام نے سیاحوں کو یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثے کے مقام پر واقع تالابوں میں سکے پھینکنے سے باز رہنے کی تنبیہ بھی کی تھی۔ اوشینو ہاکائی نامی گاؤں میں موجود یہ آٹھ تالاب معدنیات سے بھرپور چشمے کے پانی کے لیے مشہور ہیں، جو ماؤنٹ فوجی کی پگھلی ہوئی برف سے بننے والے زیرِ زمین ذخیرے سے آتا ہے۔ ان تالابوں میں اکثر بڑی تعداد میں کوائی مچھلیاں بھی پائی جاتی ہیں۔ تاہم تالابوں سے تقریباً ۵۰؍ ہزار سکے نکالے جانے کے بعد مقامی باشندوں کو ماحول پر اس کے ممکنہ اثرات پر تشویش لاحق ہوگئی تھی۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK