جاپان کی اینیمیشن ایسوسی ایشن (اے جے اے)کے جاری کردہ ابتدائی اعداد و شمار کے مطابق ۲۰۲۵ء میں جاپانی اینیمی صنعت کا مجموعی کاروبار۴۴۹۱ء۴؍ ٹریلین ین تک پہنچ گیا، جو تقریباً۲ء۲۸؍ سے ۵ء۲۸؍ ارب امریکی ڈالر کے برابر ہے۔
EPAPER
Updated: November 02, 2026, 5:06 PM IST | Tokyo
جاپان کی اینیمیشن ایسوسی ایشن (اے جے اے)کے جاری کردہ ابتدائی اعداد و شمار کے مطابق ۲۰۲۵ء میں جاپانی اینیمی صنعت کا مجموعی کاروبار۴۴۹۱ء۴؍ ٹریلین ین تک پہنچ گیا، جو تقریباً۲ء۲۸؍ سے ۵ء۲۸؍ ارب امریکی ڈالر کے برابر ہے۔
جاپان کی اینیمی (Anime) صنعت نے عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی مقبولیت اور شائقین کی غیر معمولی دلچسپی کے باعث آمدنی کا نیا ریکارڈ قائم کردیا ہے۔ جاپان کی اینیمیشن ایسوسی ایشن (اے جے اے)کے جاری کردہ ابتدائی اعداد و شمار کے مطابق ۲۰۲۵ء میں جاپانی اینیمی صنعت کا مجموعی کاروبار۴۴۹۱ء۴؍ ٹریلین ین تک پہنچ گیا، جو تقریباً۲ء۲۸؍ سے ۵ء۲۸؍ ارب امریکی ڈالر کے برابر ہے۔ یہ ۲۰۲۴ء کے مقابلے میں ۸ء۱۵؍فیصد زیادہ ہے۔ اس طرح پہلی مرتبہ جاپان کی اینیمی صنعت کا مجموعی بازار ۴؍ٹریلین ین کی حد سے تجاوز کرگیا ہے۔ اس غیر معمولی ترقی میں بیرونِ ملک شائقین کی بڑھتی ہوئی تعداد، عالمی اسٹریمنگ پلیٹ فارمز، سنیما گھروں میں اینیمی فلموں کی کامیابی اور متعلقہ مصنوعات کی فروخت نے اہم کردار ادا کیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق جاپانی اینیمی صنعت کی مجموعی آمدنی میں بیرونِ ملک بازار کا حصہ مسلسل بڑھ رہا ہے۔ ۲۰۲۵ء میں بیرونِ ملک سے حاصل ہونے والی آمدنی۵۴۲۶ء۲؍ ٹریلین ین، یعنی تقریباً۱ء۱۶؍ ارب ڈالر رہی، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں ۲ء۱۷؍ فیصد زیادہ ہے۔ دوسری جانب جاپان کے اندر اینیمی سے حاصل ہونے والی آمدنی۹۰۶۵ء۱؍ ٹریلین ین، یعنی تقریباً۱ء۱۲؍ ارب ڈالر رہی، جس میں ۱ء۱۴؍ فیصد اضافہ درج کیا گیا۔ مجموعی کاروبار میں بیرونِ ملک بازار کا حصہ ۱ء۵۷؍ فیصد تک پہنچ گیا، جبکہ مقامی بازار کا حصہ ۹ء۴۲؍ فیصد رہا۔ اس طرح عالمی شائقین اب جاپانی اینیمی صنعت کی آمدنی کا سب سے بڑا ذریعہ بن چکے ہیں۔
جاپانی اینیمی کی عالمی مقبولیت میں نیٹ فلکس جیسے اسٹریمنگ پلیٹ فارمز کا کردار بھی انتہائی اہم سمجھا جارہا ہے۔ ان پلیٹ فارمز کے ذریعے دنیا کے مختلف ممالک میں ناظرین جاپانی اینیمی کو اپنی زبان کے سب ٹائٹلز اور ڈبنگ کے ساتھ بآسانی دیکھ سکتے ہیں۔ اس سہولت نے ان لوگوں تک بھی اینیمی کی رسائی ممکن بنائی ہے جو پہلے جاپانی زبان سے واقف نہ ہونے کے باعث ان پروگراموں سے دور رہتے تھے۔ امریکہ، یورپ، ہندوستان، برازیل، میکسیکو اور انڈونیشیا سمیت متعدد ممالک میں جاپانی اینیمی کے مداحوں کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے۔
جاپانی اینیمی کی مقبولیت میں کامیاب فلموں اور معروف سیریز کا بھی بڑا حصہ ہے۔۲۰۲۵ء میں ریلیز ہونے والی فلم ’ڈیمن سلیئر: کیمیتسو نو یائیبا انفینٹی کیسل‘ (Demon Slayer: Kimetsu no Yaiba Infinity Castle) نے دنیا بھر میں زبردست کامیابی حاصل کی اور تقریباً ۷۹؍ کروڑ ۳۰؍لاکھ ڈالر کی کمائی کے ساتھ جاپانی اینیمی فلموں کی تاریخ میں نمایاں مقام حاصل کیا۔ اس کے علاوہ ’’چینسا مین: دی مووی ریزے آرک‘‘ اور’ ’ڈیٹیکٹیو کونن: ون آئیڈ فلیش بیک‘‘ جیسی فلموں نے بھی بین الاقوامی ناظرین کی توجہ حاصل کی۔ ان کامیابیوں نے جاپانی اینیمیشن کو عالمی تفریحی صنعت میں مزید مضبوط مقام دلانے میں مدد دی ہے۔ ’
یہ بھی پڑھئے:بیلن ڈی اور جیتنے کے بعد پہلے ہی میچ میں ہیری کین پنالٹی گنوا بیٹھے
رپورٹ میں جاپان کے اینیمی تیار کرنے والے اسٹوڈیوز کی آمدنی میں اضافے کی نشاندہی بھی کی گئی ہے۔ ۲۰۲۵ء میں اینیمی اسٹوڈیوز کا مجموعی کاروبار ۵ء۵۰۵؍ ارب ین، یعنی تقریباً ۲ء۳؍ ارب ڈالر تک پہنچ گیا، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں ۴ء۸؍فیصد زیادہ ہے۔ اسٹوڈیوز کی اس آمدنی میں بیرونِ ملک کاروبار کا حصہ ۹ء۲۷؍ فیصد رہا، جبکہ ۲۰۲۴ءمیں یہ تناسب ۵ء۲۵؍ فیصد تھا۔ اس اضافے سے ظاہر ہوتا ہے کہ جاپانی اینیمیشن کمپنیاں اب صرف مقامی سطح پر کام کرنے کے بجائے عالمی بازار میں بھی اپنی موجودگی مضبوط کررہی ہیں۔
جاپانی حکومت نے بھی اینیمی، مانگا، ویڈیو گیمز اور دیگر تخلیقی شعبوں کو ملک کی معیشت اور ثقافتی شناخت کے اہم ذرائع میں شامل کیا ہے۔ حکومت کا ہدف ہے کہ ۲۰۳۳ء تک جاپانی اینیمی کی بیرونِ ملک سالانہ فروخت ۶؍ ٹریلین ین تک پہنچائی جائے، جبکہ مجموعی جاپانی تفریحی اور تخلیقی مواد کی بیرونِ ملک آمدنی ۲۰؍ ٹریلین ین تک لے جانے کا منصوبہ ہے۔ صنعتی ماہرین کے مطابق اس ہدف کو حاصل کرنے کے لیے مختلف ممالک کی زبان، ثقافت اور قوانین کے مطابق اینیمی مواد تیار کرنا، مقامی شراکت داری بڑھانا اور غیر قانونی نقل و اشاعت یعنی پائریسی پر قابو پانا ضروری ہوگا۔ جاپانی اینیمی اسٹوڈیوز سعودی عرب اور ہندوستان جیسی ابھرتی ہوئی منڈیوں میں بھی اپنے ناظرین بڑھانے کی کوشش کررہے ہیں۔