اتر پردیش کے ضلع جونپور میں ایک دل دہلا دینے والا واقعہ سامنے آیا ہے جہاں ایک نوجوان نے ایم بی بی ایس کے معذوروں کے کوٹہ میں داخلہ حاصل کرنے کے لیے اپنا پاؤں کا پنجہ کاٹ دیا۔ پولیس نے معاملے کی جانچ کے بعد حیران کن حقائق سے پردہ اٹھایا۔
EPAPER
Updated: January 23, 2026, 10:13 PM IST | Jaunpur
اتر پردیش کے ضلع جونپور میں ایک دل دہلا دینے والا واقعہ سامنے آیا ہے جہاں ایک نوجوان نے ایم بی بی ایس کے معذوروں کے کوٹہ میں داخلہ حاصل کرنے کے لیے اپنا پاؤں کا پنجہ کاٹ دیا۔ پولیس نے معاملے کی جانچ کے بعد حیران کن حقائق سے پردہ اٹھایا۔
اتر پردیش کے ضلع جونپور میں ایک انتہائی تشویشناک اور دل دہلا دینے والا واقعہ سامنے آیا ہے جہاں ایک نوجوان نے ایم بی بی ایس کے معذوروں کے کوٹے میں داخلہ حاصل کرنے کی خواہش میں خود کو معذور ثابت کرنے کے لیے اپنا پاؤں کا پنجہ کاٹ لیا۔ پولیس کی تفتیش میں انکشاف ہوا ہے کہ یہ قدم معذور کوٹے کے تحت میڈیکل کالج میں داخلہ حاصل کرنے کے مقصد سے اٹھایا گیا۔ پولیس کے مطابق، لائن بازار تھانہ علاقہ کے رہائشی سورج بھاسکر نیٹ امتحان کی تیاری کر رہا تھا اور اس کا ہدف تھا کہ وہ کسی بھی صورت ۲۰۲۶ء میں ایم بی بی ایس میں داخلہ حاصل کرے۔ ابتدائی طور پر سورج نے پولیس کو بتایا کہ نامعلوم افراد نے اس کے ساتھ مارپیٹ کی اور اسی دوران اس کے دائیں پاؤں کا پنجہ کٹ گیا۔ اس بیان کی بنیاد پر پولیس نے دو نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ درج کر کے تفتیش شروع کر دی۔
یہ بھی پڑھئے: سنبھل میں’ سی جے ایم‘ کے تبادلے پر’ این ایس یو آئی‘ کا احتجاج
تاہم، تفتیش کے دوران پولیس کو سورج کے بیانات میں تضاد نظر آیا۔ وہ بار بار اپنا بیان بدل رہا تھا اور واقعے کی تفصیلات واضح طور پر بیان نہیں کر پا رہا تھا، جس سے پولیس کو شک ہوا۔ بعد ازاں سورج کا کال ریکارڈ نکالا گیا جس سے کئی اہم سراغ ملے۔ پولیس نے سورج کی گرل فرینڈ کو پوچھ گچھ کے لیے تھانے طلب کیا، جہاں اس نے بتایا کہ سورج کسی بھی حال میں ایم بی بی ایس میں داخلہ لینا چاہتا تھا۔ اس مقصد کے لیے وہ اکتوبر ۲۰۲۵ء میں وارانسی کی بنارس ہندو یونیورسٹی بھی گیا تھا تاکہ معذوری کا سرٹیفکیٹ بنوا سکے، تاہم جسمانی طور پر معذور نہ ہونے کی وجہ سے اسے سرٹیفکیٹ جاری نہیں کیا گیا۔
گرل فرینڈ کے بیان کے مطابق، اس کے بعد سورج نے خود کو معذور بنانے کا خطرناک فیصلہ کیا۔ اس نے پہلے خود کو انجکشن لگا کر درد کم کیا اور پھر گرائنڈر مشین کی مدد سے اپنے دائیں پاؤں کا پنجہ کاٹ لیا۔ بعد ازاں اس نے پورے واقعے کو حملہ ظاہر کرنے کے لیے جھوٹی کہانی گھڑ لی تاکہ پولیس اور انتظامیہ کو گمراہ کیا جا سکے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ نوجوان کی ذہنی حالت بھی مشکوک لگ رہی ہے اور اس نے شدید تعلیمی دباؤ کے تحت یہ انتہائی قدم اٹھایا۔ پولیس نے معاملے میں درج مقدمے کو مزید شواہد کی بنیاد پر آگے بڑھایا ہے اور قانونی کارروائی جاری ہے۔ اس واقعے نے ایک بار پھر تعلیمی نظام، میڈیکل داخلوں کے دباؤ اور معذور کوٹے کے غلط استعمال پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: سپریم کورٹ نے پھانسی کے ذریعے موت کی سزا کے خاتمے کی عرضی پر فیصلہ محفوظ کر لیا
طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ نوجوانوں میں بڑھتے ہوئے تعلیمی دباؤ اور ذہنی صحت کے بحران کی ایک خطرناک مثال ہے، جہاں کامیابی کی دوڑ میں زندگی اور جسمانی سلامتی کو بھی نظرانداز کیا جا رہا ہے۔ پولیس نے عوام سے اپیل کی ہے کہ اس طرح کے معاملات میں قانون کو گمراہ کرنے یا خود کو نقصان پہنچانے کے بجائے مناسب قانونی اور نفسیاتی مدد حاصل کی جائے۔