سپریم کورٹ نے پھانسی کی سزا کے خاتمے کی مفاد عامہ کی عرضی پر فیصلہ محفوظ کر لیا، اس میں موت کی سزا کے موجودہ طریقہ کار یعنی پھانسی دینے کے خاتمے کی درخواست کی گئی تھی۔
EPAPER
Updated: January 23, 2026, 2:05 PM IST | New Delhi
سپریم کورٹ نے پھانسی کی سزا کے خاتمے کی مفاد عامہ کی عرضی پر فیصلہ محفوظ کر لیا، اس میں موت کی سزا کے موجودہ طریقہ کار یعنی پھانسی دینے کے خاتمے کی درخواست کی گئی تھی۔
سپریم کورٹ نے جمعرات کوایک مفاد عامہ کی عرضی پر اپنا فیصلہ محفوظ کر لیا، جس میں موت کی سزا کے موجودہ طریقہ کار یعنی پھانسی دینے کے خاتمے کی درخواست کی گئی تھی۔جسٹس وکرم ناتھ اور جسٹس سندیپ مہتا پر مشتمل بینچ نے اٹارنی جنرل آر وینکٹ رمنی (مرکز کے دوسرے سب سے بڑے قانونی افسر)، سینئر ایڈووکیٹ میناکشی اروڑا (جو پروجیکٹ۳۹؍ اے کی نمائندگی کر رہی تھیں)، اور براہ راست درخواست گزار وکیل رشی ملہوترا کی جانب سے پیش کردہ دلائل سننے کے بعد اپنا حکم محفوظ کر لیا۔دوران سماعت، ملہوترا نے اپنے مؤقف کی تائید کے لیے ہندوستانی قانون کمیشن کی ایک رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے عدالت کے سامنے ایک تقابلی چارٹ پیش کیا، جس میں موت کی سزا کے متبادل اور کم تکلیف دہ طریقوں کا ذکر تھا۔
یہ بھی پڑھئے: سپریم کورٹ کا بھوج شالہ پر حکم: بسنت پنچمی پر پوجا، نمازِجمعہ محدود وقت میں
دریں اثناء جسٹس ناتھ کی سربراہی میں بینچ نے درخواست گزار کو ہدایت کی کہ وہ متعلقہ کیس لاء کے ساتھ مذکورہ رپورٹ پر ایک مختصر نوٹ بھی پیش کریں۔سینئر ایڈووکیٹ میناکشی اروڑا نے موقف پیش کیا کہ پروجیکٹ اے ۳۹؍ نے مہلک انجکشن کے متبادل پر خصوصاً امریکہ جیسے دیگر ممالک کے تجربات کی روشنی میں تفصیلی دلائل پیش کیے ہیں۔اروڑا نے کہا، ’’یہ طریقہ درحقیقت کامیاب نہیں پایا گیا ہے، جس سے ان کی مراد مہلک انجکشن کے دوران پیش آنے والی پیچیدگیوں اور ناکام سزائے کی اطلاعات تھیں۔بعد ازاں جسٹس ناتھ کی سربراہی میں بینچ نے پوچھا، ’’پھر آپ کا کیا مشورہ ہے؟‘‘ اس کے جواب میں، سینئر وکیل نے تجویز پیش کی کہ اس معاملے کو ماہرین کی ایک کمیٹی کے حوالے کیا جائے تاکہ ممکنہ متبادل طریقوں پر غور کیا جا سکے اور مزید دستاویز اکٹھا کئے جا سکیں۔
تاہم اٹارنی جنرل آر وینکٹ رمنی نے عدالت عظمیٰ کو بتایا کہ یہ معاملہ یونین حکومت کے اعلیٰ ترین سطح پر زیر غور ہے اور اس سلسلے میں کچھ کمیٹیاں پہلے ہی تشکیل دے دی گئی ہیں۔ان کے موقف کو نوٹ کرتے ہوئے، جسٹس ناتھ کی سربراہی میں بینچ نے وضاحت کی کہ اگر مرکزی حکومت محسوس کرتی ہے کہ مزید جائزے کے بعد سپریم کورٹ میں واپس آنا ضروری ہے، تو اسے ایسا کرنے کی مکمل آزادی ہوگی۔بالآخر، عدالت عظمیٰ نے اپنا حکم محفوظ کر لیا اور تمام فریقین کو ہدایت کی کہ وہ تین ہفتوں کے اندر اپنے مختصر نوٹس اور تحریری دلائل جمع کروائیں۔
واضح رہے کہ یہ عوامی مفاد موت کی سزا کے لیے پھانسی کی تجویز کرنے والے قانونی دفعات کے خلاف ہے، جس میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ یہ طریقہ طویل درد اور تکلیف کا باعث بنتا ہے اور آئین کے آرٹیکل۲۱؍ کے تحت انسانی وقار کے ارتقا پذیر معیارات کے مطابق نہیں ہے۔ایک سابقہ سماعت میں، عدالت عظمیٰ نے مرکزی حکومت کی جانب سے پھانسی کے متبادل کے طور پر مہلک انجکشن پر غور کرنے میں ہچکچاہٹ پر سوال اٹھائے تھے، اور تبصرہ کیا تھا کہ ’’حکومت تبدیلی کے باوجود تبدیل ہونے کے لیے تیار نہیں ہے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: نفرت انگیز تقاریر پرسپریم کورٹ کا فیصلہ محفوظ
درخواست گزار کے مطابق، پھانسی پر موت آنے میں تقریباً ۴۰؍ منٹ لگ سکتے ہیں، جبکہ مہلک انجکشن یا گولی مارنے سے موت پانچ منٹ کے اندر واقع ہو جاتی ہے، جس میں نمایاں طور پر کم درد ہوتا ہے۔ اس سے قبل اکتوبر۲۰۱۷ء میں، عدالت عظمیٰ نے مرکزی حکومت کو نوٹس جاری کیا تھا، جس میں درخواست گزار کے اس مؤقف کو نوٹ کیا گیا تھا کہ مجرم، جس کی زندگی سزا کے باعث ختم ہونی ہے، اسے پھانسی کے درد سے گزارنے پر مجبور نہیں کیا جانا چاہیے۔