جھارکھنڈ میںآر ایس ایس کے کارکنان اور ہندوتوا عناصر احتجاج کرنے والے طلبہ کو کھانا کھلا رہے ہیں۔سویم سیوکوں سے لے کر مصنفین تک، رانچی میں مظاہرین کے لیے حمایت کا سلسلہ جاری، جبکہ عوامی بھرتی کے امتحانات کے خلاف تحریک۲۰؍ویں دن میں داخل۔
EPAPER
Updated: August 13, 2026, 7:03 PM IST | Ranchi
جھارکھنڈ میںآر ایس ایس کے کارکنان اور ہندوتوا عناصر احتجاج کرنے والے طلبہ کو کھانا کھلا رہے ہیں۔سویم سیوکوں سے لے کر مصنفین تک، رانچی میں مظاہرین کے لیے حمایت کا سلسلہ جاری، جبکہ عوامی بھرتی کے امتحانات کے خلاف تحریک۲۰؍ویں دن میں داخل۔
جھارکھنڈ میں، جہاں غیر بی جے پی حکومت ہے، احتجاج کرنے والے طلبہ کو کھانا کھلانے والوں میں راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے کارکنان اور ہندوتوا گروہ شامل ہیں، جو جنتر منتر میں ہونے والے احتجاج سے یکسر مختلف صورتِ حال ہے۔آر ایس ایس کے سویم سیوک بھیرو سنگھ نے کہا کہ ان کی ٹیم۲۹؍ جولائی سے جب رانچی میں احتجاج شروع ہوا تھا، مظاہرین طلبہ کو کھانا فراہم کر رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ان کا گروپ، ٹیم بھیرو، سینکڑوں طلبہ کو دن میں دو بار، ایک بار دوپہر کو اور ایک بار رات کو مفت کھانا فراہم کرتا ہے۔سنگھ نے کہا، ’’ہم ان طلبہ کی مدد کرتے ہیں۔ یہ ہمارے بچے ہیں، اور وہ اپنے جائز حقوق کے لیے لڑ رہے ہیں۔ زیادہ تر متوسط اور نچلے متوسط طبقے سے تعلق رکھتے ہیں۔ وہ نہ صرف اپنے لیے بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے بھی لڑ رہے ہیں۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: ریزرویشن کی ذیلی درجہ بندی کے خلاف اورنگ آباد میں زبردست احتجاج
انہوں نے مزید بتایا کہ ہم روزانہ۱۰۰۰؍ سے زیادہ طلبہ کو کھانا فراہم کررہے ہیں اور جب تک وہ اپنے مطالبات کے ساتھ یہاں رہیں گے، اس کام کو جاری رکھیں گے۔‘‘سنگھ نے کہا کہ ان کی ٹیم کے تقریباً ۵۰؍ اراکین ان طلبہ کو کھانا پیش کرنے آتے ہیں۔سنگھ نے کہا کہ اس احتجاج کا سب سے قابل تحسین پہلو یہ ہے کہ اگرچہ ان کے حقوق کئی دہائیوں سے روکے گئے ہیں، وہ کسی کو گالی نہیں دے رہے۔اس کے علاوہ ہندو جاگرن منچ کی ایک اور ٹیم بھی روزانہ احتجاجی مقام پر طلبہ کے لیے کھانا لے کر آتی ہے۔منچ کے رکن رشی سہدیو نے پی ٹی آئی کو بتایا کہ وہ گزشتہ۱۲؍ دنوں سے طلبہ کو کھانا فراہم کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صرف۱۰؍ اگست مایوسی کا دن تھا، جب اسمبلی کی طرف مارچ کے دوران پولیس کی لاٹھی چارج کے بعد بہت سے طلبہ نے کھانا نہیں کھایا۔ سہدیو نے کہا، ’’ہماری ٹیم میں۱۰؍ سے ۱۲؍ اراکین ہیں، اور ہم ان بچوں کی خدمت کرتے ہوئے بہت خوش ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: بنگال ایس آئی آر ٹربیونل کی سست روی پر سپریم کورٹ برہم
ایک اور ٹیم جس کی قیادت انجینئر اور ہندو موضوعات پر لکھنے والے روی سنگھ چودھری کر رہے ہیں، گزشتہ دو ہفتوں سے طلبہ میں کھانا تقسیم کر رہی ہے۔کھانا پیش کرنے والے ایک ٹیم ممبر نے کہا: "جب یہ احتجاج۲۹؍ جولائی کو جے پال سنگھ منڈا اسٹیڈیم میں شروع ہوا، تو ان لوگوں نے اسی دن سے اپنی خدمت شروع کر دی۔
واضح رہے کہ جھارکھنڈ میں بھرتی کے امتحانات میں مبینہ بے ضابطگیوں پر طلبہ کا یہ احتجاج جمعرات کو ۲۰؍ویں دن میں داخل ہو گیا، اور مظاہرین نے اپنے تمام مطالبات پورے ہونے تک احتجاج ختم نہ کرنے کا عزم کیا ہے۔مزید برآں محمد جنید ملک، جنہوں نے دہلی کے جنترمنتر پر مظاہرین کو مفت کھانا اور پانی تقسیم کیا تھا اور مبینہ طور پر اس کیلئے انہیں پولیس کارروائی کا سامنا کرنا پڑا،۷؍ اگست کو جھارکھنڈ پہنچے اور وہ بھی احتجاجی مقام پر طلبہ کو کھانا بھی پیش کر رہے ہیں۔