شہر کے کرانتی چوک سے ڈیویژنل کمشنر کے دفتر تک نیلے جھنڈے اور انسانی سر نظر آئے، جے بھیم کے نعروں سے شہر گونج اٹھا۔
EPAPER
Updated: August 13, 2026, 11:52 AM IST | ZA Khan | Aurangabad
شہر کے کرانتی چوک سے ڈیویژنل کمشنر کے دفتر تک نیلے جھنڈے اور انسانی سر نظر آئے، جے بھیم کے نعروں سے شہر گونج اٹھا۔
درج فہرست ذاتوں کے ریزرویشن میں ذیلی درجہ بندی کے خلافاورنگ آباد میں بدھ کے روزبہت بڑا مارچ نکالا گیا۔ کرانتی چوک سے شروع ہونے والے اس مارچ میں ہزاروں لوگوں نے شرکت کی کی جن میں مردوں اور نوجوانوں کے علاوہ خواتین، اور بزرگ بھی بڑی تعداد میں شامل تھے۔ ریزرویشن میں ذیلی درجہ بندی منسوخ کرنے کا مطالبہ لے کر یہ مارچ ڈیویژنل کمشنر کے دفتر پہنچا۔ مظاہرین کے ہاتھوں میں نیلے جھنڈے، پلے کارڈز اور ذیلی درجہ بندی منسوخ کرنے کے مطالبے پر مبنی بینرس تھے۔ ’جے بھیم‘ کے فلک شگاف نعروں سے کرانتی چوک کا علاقہ گونج اٹھا۔
یہ بھی پڑھئے: ۵؍ سال میں مہاراشٹر کی ۳۶؍ ہزار نجی کمپنیاں بند!
کرانتی چوک سے روانہ ہونے والا یہ مارچ پیٹھن گیٹ، گل منڈی، سٹی چوک اور قلعہ ارک کے راستے ڈیویژنل کمشنر کے دفتر پہنچا۔ مظاہرین نے انتہائی منظم انداز میں مارچ کیا۔ مارچ میں موجود زبردست بھیڑ اور جوش و خروش کے پیش نظر پولیس نے سیکوریٹی کے سخت انتظامات کئے تھے۔ اہم راستوں پر ٹریفک میں تبدیلی کی گئی تھی تاکہ امن و قانون کی صورتحال برقرار رکھی جاسکے۔ درج فہرست ذاتوں کے ریزرویشن میں ذیلی درجہ بندی کے فیصلے کے خلاف اس وقت ریاست بھر میں شدید ناراضگی پائی جارہی ہے۔ اسی پس منظر میں بدھ کواورنگ آباد میں عظیم الشان احتجاجی مارچ نکالا گیا۔ دوپہر ۱۲؍ بجے سے جلسہ ختم ہونے تک انا بھاؤ ساٹھے چوک سے ڈویژنل کمشنر کے دفتر اور ادھو راؤ پاٹل چوک تک کا مرکزی راستہ گاڑیوں کیلئے مکمل طور پر بند رکھا گیا۔ انتظامیہ نے شہریوں سے اپیل کی کہ وہ چاندنے چوک، گنیش کالونی، این ۱۲؍ وسرجن کنواں، نیز ادھو راؤ پاٹل چوک اور ہڈکو کارنر کے متبادل راستوں کا استعمال کریں۔ ریاست بھر میں ذیلی درجہ بندی کے خلاف احتجاج زور پکڑرہا ہے ایسی صورت میں اورنگ آباد میں نکالے گئے اس عظیم الشان مارچ نے حکومت کی توجہ اپنی جانب مبذول کروائی ہے۔ یاد رہے کہ یہ پہلا مارچ نہیں ہے جو ریزرویشن کی ذیلی درجہ بندی کے خلاف نکالا گیا ہے۔ اس سے قبل مراٹھواڑہ اور ودربھ کے مختلف اضلاع میں اس طرح کا احتجاج ہو چکا ہے لیکن حکومت نے اب تک اس کی کوئی خبر نہیں لی ہے۔