آج بائیڈن اور چینی صدرشی جن پنگ کی ورچوئل ملاقات

Updated: November 15, 2021, 1:18 PM IST | Agency | New York

امریکی اور چینی صدور کی ملاقات سے قبل دنوں ممالک کا تائیوان کے معاملے پر انتباہ

US President Joe Biden will meet Chinese President Xi Jinping online.Picture:INN
امریکی صدر جو بائیڈن چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ آن لائن ملاقات کریںگے۔ تصویر: آئی این این

امریکی صدر جو بائیڈن اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان آج  ہونے والی ورچوئل سربراہی ملاقات سے قبل دونوں ممالک کے اعلیٰ سفارت کاروں کا تائیوان کے معاملے پرسخت انتباہی پیغامات کا تبادلۂ ہوا ۔خبر روں کے مطابق بائیڈن اور شی جن پنگ کے درمیان ورچوئل ملاقات تائیوان، تجارت، انسانی حقوق اور دیگر معاملات پر دونوں ملکوں کے درمیان بڑھتی کشیدگی کے پس منظر میں ہو رہی ہے۔خیال رہے کہ چین تائیوان کو اپنا حصہ سمجھتا ہے اور چینی حکام متعدد مواقع پر یہ کہہ چکے ہیں کہ تائیوان کو چین میں ضم کیا جائے گا جب کہ تائیوان خود کو ایک خودمختار ملک کہتا ہے۔
  امریکی اور چینی صدور کی ملاقات کی تیاریوں پر تبادلۂ خیال کے لئے  گزشتہ روز چین کے  وزیرخارجہ وانگ یی سے ہونے والی ٹیلیپر گفتگو میں امریکی وزیر خارجہ اینٹی بلنکن نے تائیوان پر بیجنگ کے `عسکری، سفارتی اور اقتصادی دباؤ پر تشویش کا اظہار کیا۔اس موقع پر وانگ یی نے امریکی اقدامات کے خطرات سے خبردار کیا جو `تائیوان کی آزادی کے حامی معلوم ہوتے ہیں۔
بائیڈن اور شی کی ایپیک سربراہ اجلاس کے دوران ورچوئل ملاقات طے
 چین کی جانب سے گزشتہ روز جاری کئے گئے  ایک اعلامیہ کے مطابق وانگ نے بلنکن کو کہا کہ’’تائیوان کی آزادی‘‘ کی قوتوں کی حمایت یا ان کی ملی بھگت آبنائے تائیوان کے پار امن کو نقصان پہنچاتی ہے۔واضح رہے کہ چین نے حالیہ برسوں میں تائیوان کے قریب اپنی عسکری سرگرمیوں میں اضافہ کیا ہے اور اکتوبر میں تائیوان کی فضائی حدود میں طیاروں کے ذریعے مداخلت بھی کی تھی۔واشنگٹن نے اس صورتِ حال میں بارہا تائیوان کی حمایت کا اظہار کیا ہے اور وہ اسے چین کی جارحیت سے تشبیہ دیتا ہے۔
  امریکی صدربائیڈن نے بیجنگ پر اپنے پیش رو ڈونالڈ ٹرمپ کے سخت رویے کو بڑے پیمانے پر اپنایا ہوا ہے کیوں کہ امریکی انتظامیہ چین کو ۲۱؍ویں صدی کے سب سے بڑے چیلنج کے طور پر دیکھتی ہیں۔دنیا کے ۲؍سب سے زیادہ گرین ہاؤس گیسز کا اخراج کرنے والے ممالک کے درمیان اگرچہ گزشتہ ہفتے موسمیاتی تبدیلی پر ساتھ کام کرنے کا ایک غیر معمولی معاہدہ سامنے آیا ہے لیکن دونوں ممالک نے عندیہ دیا ہے کہ وہ دیگر اہم معاملات پر اپنے مؤقف سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔
 امریکی حکام نے پیر کی ملاقات کے لئے جو فریم ورک تیار کیا ہے اس میں `ذمہ داری کے ساتھ مقابلے کی فضا کو فروغ دینا اور اُن معاملات پر تعاون کرنا ہے جہاں دونوں ممالک کا موقف ایک ہے۔ واضح رہے کہ صدر بائیڈن کے وہائٹ ہاؤس میں آنے کے بعد سے دونوں رہنماؤں کے درمیان ۲؍ مرتبہ ٹیلی فون پر گفتگو ہو چکی ہے۔اس کے علاوہ ان دونوں رہنماؤں کی ملاقات اس وقت ہوئی تھی جب بائیڈن براک اوبامہ کے دور میں نائب صد تھے اور شی جن پنگ صدر ہوجن تاؤ کے نائب تھے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK