جوگیشوری حادثہ:لاپروائی کے الزام میں سپر وائزر گرفتار

Updated: March 13, 2023, 11:08 AM IST | Kazim Shaikh | Jogeshwari

مقامی افراد کے دباؤ کے بعد پولیس نے ایف آئی آر درج کی۔ماں کے بعد ۹؍سالہ بیٹی بھی جاں بحق۔ میگھ واڑی قبرستان میں آخری رسومات ادا کی گئیں

The mother and daughter lost their lives due to the fall of the iron pole.
لوہے کا کھمبا گرنے سے ماں اور بیٹی کی جان چلی گئی۔

 یہاںبلڈنگ کے تعمیراتی کام کے دوران ہونے والے حادثہ میں زخمی ہونے والی ۹؍ سالہ بچی کی بھی موت واقع ہوگئی جبکہ ۲۸؍ سالہ ماں جائے وقوع پر ہی جاں بحق ہو گئی تھی۔ پولیس نے جب اس معاملے میں ایف آئی آر درج کرنے میں تاخیر کی تو علاقے کے مقامی افراد نے پولیس اسٹیشن پہنچ کر پولیس اہلکاروں پردباؤ ڈالا اور اتوار کی علی الصباح ساڑھے  ۳؍ بجے پولیس نے زیر تعمیر بلڈنگ کے سپروائزر اور ایک دوسرے نامعلوم شخص کے خلاف   معاملہ درج کرکے ایک شخص کو حراست  میں لے لیا ہے ۔ اتوار کو ماں بیٹی کا جنازہ ایک ساتھ اٹھایا گیا اور دونوں کی تدفین میگھ واڑی قبرستان میں ادا کی گئی  ۔ 
 جوگیشوری کے مشرقی جانب واقع  اسماعیل یوسف کالج کے قریب مقیم شیخ ابواللیث ( سماجی کارکن) نے انقلاب سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ جوگیشوری کے گپھا روڈ پر واقع پرتاپ نگر میں رہنے والی شمع بانو شیخ (۲۸) اپنی بیٹی آیت شیخ (۹) اور شوہر آصف شیخ کے  ساتھ رہتی تھی ۔ سنیچر کی شام تقریباً ساڑھے ۴؍بجے  ماں اپنی بیٹی کوفاروق گرلز ہائی اسکول سے چھٹی کے بعد لے کر پیدل گھر جارہی تھیکہ اچانک گپھاروڈ پر تعمیر ہونے والی عمارت ایم پیراڈائز سے ایک لوہے کا پائپ اچانک وہاں سے گزرنے والے ایک آٹورکشا پر گرا ۔ کھمبا آٹورکشا کے آر پار ہوگیا لیکن اس کا ڈرائیور بال بال بچ گیا۔  البتہ وہاں سے گزرنے والی شمع شیخ اور اس کی بیٹی آیت شیخ اس کے زد میں آگئے ۔ کھمبا لگنے کے سبب خاتون  کا سر پھٹ گیا اور جائے وقوعہ پر ہی اس کی موت ہوگئی ۔ حادثہ کے بعد زخمی حالت میں بچی کو قریب میں واقع ٹراما اسپتال لے جایا گیا ۔ وہاں سے کوکیلا بین اسپتال منتقل کیا جانے لگا لیکن اسپتال پہنچنے سے پہلے ہی اس نے دم توڑ دیا ۔ 
 ابواللیث شیخ نے الزام لگایا کہ حادثہ میں ماں بیٹی کی موت کے بعد بھی پولیس زیر تعمیر بلڈنگ کے بلڈر ، کنٹریکٹر اور دوسرے ذمہ داران کیخلاف ایف آئی آر درج کرنے میں  ٹال مٹول کررہی  تھی۔ پولیس کا کہنا تھا کہ پہلے حادثہ کی انکوائری کی جائے گی اور بعد میں ثابت ہونے پر لاپروائی کا معاملہ درج کیا جائے گا ۔ یہ خبر سن کر آس پاس کے ۱۰۰؍ زائد افراد  جمع ہوگئے اور جب کیس درج کرنے میں ٹال مٹول کی شکایت پولیس اسٹیشن کے   اعلیٰ افسران تک پہنچی تو انھوں نے متاثرین کے اہل خانہ کے علاوہ دوسر وںکے بھی بیانات ریکارڈ کئے  ۔ بہر حال پولیس نے اتوار کی صبح تقریباً ساڑھے ۳؍بجے اس وقت ایف آئی آر درج  کی جب ہم لوگوں نے جوگیشوری پولیس اسٹیشن کے خلاف پولیس کمشنراوردوسرے پولیس افسران کو  اس سلسلے میں  شکایت  اور ای میل کرنے کی بات کہی۔ پولیس نے اس معاملے میں تعمیر ہونے والی ایم پیراڈائز بلڈروں  کے خلاف مقدمہ نہ درج کرتے ہوئے بلڈنگ کے سپروائزر پنکج بنسوڑے اور ایک  نامعلوم  شخص کیخلاف معاملہ درج کرکے بنسوڑے کو   اپنی تحویل میں لے لیا ۔ 
 جائے وقوعہ کے قریب رہنے والےاین سی پی کے ورکر  نظام شیخ  نے کہا کہ بلڈنگ کے تعمیراتی کام کے دوران کہیں نہ کہیں لاپروائی برتی گئی تھی جس کی وجہ سے لوہے کا کھمبا گرا ۔ اس سے پہلے بھی اسی طرح کا یہاں حادثہ پیش آیا تھا لیکن اس میں کوئی جانی اور مالی نقصان نہیں ہوا تھا ۔ نظام الدین شیخ نے مزید کہا کہ مرنے والی بچی آیت شیخ جوگیشوری کے فاروق گرلز ہائی اسکول کی تیسری جماعت میں پڑھتی تھی۔  اس کے والد سلائی کا کام کرتے ہیں ۔ پولیس نے غیر ارادتاً قتل کا معاملہ درج کرکے مزید تحقیقات شروع کردی ہے ۔ بقول نظام شیخ ماں بیٹی کا جنازہ بعد نماز عصر ایک ساتھ گھر سے اٹھایا گیا اور دونوں کی تدفین جوگیشوری کے میگھ واڑی قبرستان میں کی گئی  ۔ 
 اس ضمن میں جوگیشوری پولیس اسٹیشن کے سینئر پولیس انسپکٹر سے بات چیت کرنے کی کوشش کی گئی مگر رابطہ نہیں ہوسکا ۔البتہ پولیس اسٹیشن پر ڈیوٹی پولیس اہلکار نے بتایا کہ حادثاتی معاملہ درج کر کے اب تک ایک شخص کو گرفتار کیا  گیاہے اور مزید تفتیش جاری ہے ۔ 

jogeshwari Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK