کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دپکے کا بی جے پی پر دھمکیاں دینے کا الزام ،کہا’’ ہم نے وزیراعظم کو آئین سے بالا تر سمجھ لیا ہے‘‘
EPAPER
Updated: July 31, 2026, 7:22 AM IST | New Delhi
کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دپکے کا بی جے پی پر دھمکیاں دینے کا الزام ،کہا’’ ہم نے وزیراعظم کو آئین سے بالا تر سمجھ لیا ہے‘‘
کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دپکے ایک روز قبل مہاراشٹر میں واقع اپنے وطن اورنگ آباد لوٹ آئے جہاں انہوں نے اپنے والدین سے ملاقات کے بعد ایک پریس کانفرنس سے خطاب کیا۔ ابھیجیت دپکے نے میڈیا کے سامنے یہ سنسنی خیز انکشاف کیا کہ انہیں فون پر دھمکیاں دی جا رہی تھیں کہ تم بی جے پی میں شامل ہو جائو ورنہ تمہیں گولی مار دی جائے گی۔ ساتھ ہی انہوں نے الزام لگایا کہ ہم نے وزیراعظم کو آئین ہند سے اوپر سمجھ لیا ہے جس کی وجہ سے ملک تباہی کی طرف جا رہا ہے۔
یاد رہے کہ دہلی کے جنتر منتر پر ۳۶؍ دنوں کی مسلسل جدوجہد کے بعد حکومت نے طلبہ کی مانگیں تسلیم کرتے ہوئے وزیر تعلیم کا استعفیٰ لے لیا اور پیپرلیک کے خلاف سخت قانون وضع کیا جسے پارلیمنٹ میں پیش کیا گیا۔ احتجاج ختم ہونے کے ۴؍ دن بعد ابھیجیت دپکے اپنے گھر اورنگ آباد لوٹے۔ یہاں انہوں نے میڈیا سے بات کی۔انہوں نے کاکروچ جنتاپارٹی پر لگنے والے الزامات کا جواب دیتے ہوئے کہا ’’ اگر کاکروچ جنتا پارٹی کو بیرون ملک سے فنڈ مل رہا ہے، یا وہ بیرونی طاقتوں کے اشارے پر کام کر رہی ہے تو یہ امیت شاہ جیسے شخص کی بہت بڑی ناکامی ہے جو کہ وزارت داخلہ کے عہدے پر فائز ہیں۔ انہیں فوری طور پر اپنے عہدے سے استعفیٰ دیدینا چاہئے۔ ‘‘انہوں نے کہا ’’ اگر کاکروچ جنتا پارٹی بیرونی طاقتوں کے کہنے پر کام کر رہی ہے تو امیت شاہ کس بات کے چانکیہ ہیں؟‘‘ انہوں نے جنتر منتر پر ہونے والے پتھرائو اور پولیس کی طرف سے طلبہ پر ہوئے لاٹھی چارج کیلئے امیت شاہ کو ذمہ دار قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ سب منصوبہ بند طریقے سے کیا گیا تھا۔
ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ ’’ اس ملک کے عوام کا متحد ہونا بے حد ضروری ہے۔ مجھے بی جے پی کی جانب سے کئی بار پیش کش کی گئی۔ کتنی پیش کش ہو میں بی جے پی میں نہیں جائوں گا۔ اگر مجھے بی جے پی ہی میں جانا ہوتا تو بہت پہلے چلا گیا ہوتا۔ ‘‘ انہوں نے کہا ’’ مجھے دھمکیاں بھی دی گئیں۔ مجھ سے کہا گیا کہ اپنا احتجاج ختم کردو اور بی جے پی کے ساتھ آجائو ، ورنہ تمہیں گولی سے اڑا دیا جائے گا۔ یہ بی جے پی اور آر ایس ایس کی محبت کی زبان ہے۔ تو آ نہیں تو تیرا کچھ کر دیں گے۔ تیرے ماں باپ کے ساتھ کچھ کر دیں گے۔ ایسی کئی دھمکیاں دی گئیں ‘‘
ابھیجیت دپکے سے جب یہ پوچھا گیا کہ کیا آپ آئندہ سیاست میںشامل ہوں گے؟ تو انہوں نے جواب دیا ’’ آپ بہت آگے کی بات کر رہے ہیں۔ آپ مجھے بڑا مت بنائیے۔ ہم نے ایک آدمی کو بڑا بنا دیا اسی لئے ملک تباہی کی طرف جا رہا ہے۔‘‘ ابھیجیت دپکے کا کہنا ہے کہ ’’ ہم نے وزیر اعظم کو آئین ہند سے بالاتر سمجھ لیا، حتیٰ کہ بھگوان سے اوپر سمجھ لیا، یہی وجہ ہے کہ آج ہمارے ملک میں تعلیم پر سوال نہیں پوچھے جاتے، بےر وزگاری کے خلاف آواز نہیں اٹھائی جاتی، سرکاری اسپتالوں کی خستہ حالی پر کچھ نہیں بولا جاتا۔ وجہ صرف یہ ہے کہ ہم نے ایک شخص کو اپنے ملک سے ، اپنے آئین سے اونچا سمجھ لیا ہے۔‘‘ انہوں نے کہا ’’ صبح سے لے کر شام تک تمام میڈیا والے صرف نریندر مودی کے نام کا جاپ کرتے رہتے ہیں۔ انہیں بے روزگاری کے تعلق سے بات کرنی چاہئے۔ ‘‘انہوںکہا ابھی جدوجہد ختم نہیں ہوئی ہے ابھی مزید لڑائیاں باقی ہیں۔