Inquilab Logo Happiest Places to Work

ہندوستان میں۴؍ کروڑ سے زیادہ بچے موٹاپے کا شکار، ملک دنیا میں دوسرے نمبر پر

Updated: March 05, 2026, 10:44 AM IST | New Delhi

ورلڈ اوبیسٹی اٹلس ۲۰۲۶ءکی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق، ہندوستان اب بچپن میں موٹاپے کے معاملے میں امریکہ کو پیچھے چھوڑ کر چین کے بعد دنیا میں دوسرے نمبر پر آ گیا ہے۔ ۲۰۲۵ء تک کے اعداد و شمار کی بنیاد پر، رپورٹ میں تخمینہ لگایا گیا ہے کہ ہندوستان میں ۵؍ سے۱۹؍ سال کی عمر کے تقریباً ۴۱؍ملین بچوں کا وزن زیادہ ہے۔

Fat Child.Photo:INN
موٹا بچہ۔ تصویر:آئی این این

ورلڈ اوبیسٹی اٹلس ۲۰۲۶ءکی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق، ہندوستان اب بچپن میں موٹاپے کے معاملے میں امریکہ کو پیچھے چھوڑ کر چین کے بعد دنیا میں دوسرے نمبر پر آ گیا ہے۔ ۲۰۲۵ء تک کے اعداد و شمار کی بنیاد پر، رپورٹ میں تخمینہ لگایا گیا ہے کہ ہندوستان میں ۵؍ سے۱۹؍ سال کی عمر کے تقریباً ۴۱؍ملین بچوں کا وزن زیادہ ہے، جن میں سے ۴ء۱؍ کرور شدید موٹاپے کے زمرے میں آتے ہیں۔ 
چین اس لحاظ سے سرفہرست ہے، جہاں ۲ء۶؍کروڑ بچے موٹاپے کے شکار  یا زیادہ باڈی ماس انڈیکس (بی ایم آئی ) والے ہیں۔ ہندوستان دوسرے اور امریکہ تیسرے نمبر پر ہے۔ ریاستہائے متحدہ امریکہ میں، ۲۷؍ملین  بچوں کو موٹاپے کا سامنا ہے یا ان کا بی ایم آئی  زیادہ ہے، اور ۱۳؍ ملین موٹاپے کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں۔ رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ ۲۰۴۰ء تک دنیا بھر میں ایسے بچوں کی تعداد ۵۰؍ کروڑ سے تجاوز کر سکتی ہے۔ تنہا ہندوستان میں، اگلے  ۱۵؍ برسوں میں باڈی ماس انڈیکس والے لوگوں کی تعداد۶ء۵؍ کروڑ تک بڑھنے کا امکان ہے، جن میں سے۲؍ کروڑ موٹاپے کے زمرے میں آئیں گے۔ 
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ صورتحال انتہائی تشویشناک ہے۔ بچپن میں وزن زیادہ ہونے سے نہ صرف جوانی میں بیماریوں کا خطرہ بڑھ جاتا ہے بلکہ کم عمری میں ہی سنگین بیماریاں لاحق ہونے کے امکانات بھی بڑھ جاتے ہیں۔ ۵؍ سے۱۹؍ سال کی عمر کے بچوں کو ہائی بلڈ پریشر، ہائی شوگر لیول، اور خون میں چربی (ٹرائگلیسرائیڈ) میں اضافہ جیسے مسائل کا سامنا ہے جو بعد میں ذیابیطس اور امراض قلب کا باعث بنتے ہیں۔ 

یہ بھی پڑھئے:ایرانی ہتھیار دشمن کیلئے قہر بن گئے ہیں


اٹلس کے مطابق، ہائیبی ایم آئی  کی وجہ سے ہائی بلڈ پریشر میں مبتلا بچوں کی تعداد۹ء۲؍ ملین سے بڑھ کر ۲ء۴؍ ملین سے زیادہ ہونے کی توقع ہے۔ ہائپرگلیسیمیا کے کیسز۳ء۱؍ ملین سے ۹ء۱؍ ملین تک بڑھنے کا امکان ہے، جبکہ ہائی ٹرائگلیسرائیڈ والے بچوں کی تعداد ۳ء۴؍ملین سے بڑھ کر۶؍ ملین تک متوقع ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے:ایرانی ہتھیار دشمن کیلئے قہر بن گئے ہیں

رپورٹ میں موٹاپے کی اس بڑھتی ہوئی شرح کی وجوہات بتاتے ہوئے کہا گیا ہے کہ۱۱؍ سے ۱۷؍ سال کی عمر کے تقریباً ۷۴؍ فیصد نوعمر بچے جسمانی سرگرمی یا کھیل کود میں ضرورت کے مطابق حصہ نہیں لیتے ہیں۔ اسکول جانے کی عمر کے صرف۵ء۳۵؍  فیصد بچوں کو اسکول میں کھانا ملتا ہے۔ مزید برآں، پانچ ماہ سے کم عمر کے  ۶ء۳۲؍فیصد بچوں کو مناسب ماں کا دودھ نہیں مل رہا ہے۔ ۱۵۔۴۹؍ سال کی خواتین میں، ۴ء۱۳؍ فیصد کا بی ایم آئی  حد سے زیادہ ہے اور۲ء۴؍  فیصد کو ٹائپ ۲؍ ذیابیطس لاحق ہے۔ یہ عوامل بچپن کی صحت کے نتائج پر بھی اثرانداز ہوسکتے ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK