Inquilab Logo Happiest Places to Work

جلال آغا نے کئی فلموں میں چھوٹے لیکن پراثر کردار ادا کئے

Updated: March 05, 2026, 10:51 AM IST | Agency | Mumbai

فلموں میں ایک سے ایک مشہور اور شانداراداکاری کرنے والےاداکار موجود ہیںلیکن کچھ اداکار ایسے بھی ہیں جنہوں نے کام تو کم کیا لیکن اپنی ایک الگ شناخت رکھتے ہیں۔ ایسے ہی اداکاروں میں جلال آغا کا نام بھی شامل ہے۔

Jalal Agha Is A Talented Actor.Photo:INN
جلال آغا ایک باصلاحیت اداکار- تصویر:آئی این این
فلموں میں ایک سے ایک مشہور اور شانداراداکاری کرنے والےاداکار موجود ہیںلیکن کچھ اداکار ایسے بھی ہیں جنہوں نے کام تو کم کیا لیکن اپنی ایک الگ شناخت رکھتے ہیں۔ ایسے ہی اداکاروں میں جلال آغا کا نام بھی شامل ہے۔جلال آغاایک بڑے ہی ہنس مکھ اداکار تھےجنہوںنےبہت کم عمری میں ہی اداکاری شروع کردی تھی اور بہت جلد ہی اس دنیا کو چھوڑ کر چلے بھی گئے ۔
جلال آغا کو اکثرفلم ’شعلے ‘کے گانے ’محبوبہ ، محبوبہ‘ کے لیےیاد کیا جاتا ہے لیکن انہوں نے بہت ساری فلموںمیں کئی طرح کےکردار ادا کیے ہیں۔جلال آغا کے والد آغا خود ایک بہت مشہور اداکارتھے۔
جلال ابھی بہت چھوٹے ہی تھےکہ ایک روز ان کے والد کے دوست دلیپ کماران کے گھر آئےاورانہوں نےجلال کے والد سے کہا کہ ’’میںفلم ’مغل اعظم‘ میں سلیم کا کردار ادا کر رہا ہوں مگر مجھے سلیم کے بچپن کیلئے جلال چاہیے ۔‘‘اس پر آغا صاحب نےمنع کردیااور کہا کہ ابھی تو وہ بہت چھوٹا ہے مگر دلیپ کماربھی اپنے فن کے ماہر تھے وہ جلال کو اپنے ساتھ لےگئےاور جلال سے ہی سلیم کاکردار کرایا۔یوں جلال نے۱۹۶۰ءمیںفلم ’مغل اعظم‘ سے اپنےکرئیر کا آغاز کیا۔جلال نے ایف ٹی آئی آئی سےگریجویشن کیاجس کے دوران ہی انہیں فلموں میںبڑے کردار ملنے لگے ۔جلال ہمیشہ ہی سے خوددارتھے اسی لیے کوئی اگر انہیں والد کے نام پر کام دیتاتو وہ اس کام کو نہیں کرتے کیونکہ جلال اپنے دم پر ایکٹر بننا چاہتے تھے۔ 
جلال آغا نے فلم شعلے کے مشہورگیت ’محبوبہ محبوبہ‘میں رباب بجانے والے کے کردار کے علاوہ ، فلم جولی(۱۹۷۵ء)میں جولی کے خاموش عاشق کاکردار ادا کیا تھا۔ اس کے علاوہ فلم گھر گھر کی کہانی کے گیت سماں ہے سہانا سہانا میں سنگر کا کردار ادا کیا تھا، تھوڑی سی بیوفائی میں شبانہ اعظمی کے بھائی، فلم گھروندا میں امول پالیکر کے دوست اور روم میٹ کا جبکہ ’دل آخر دل ہے‘ میں نصیر الدین شاہ کے بھائی کا کردار ادا کیا تھا۔ اس کے علاوہ فلم۱۹۶۹ء کی فلم ’سات ہندوستانی‘ میں بھی ایک اہم رول ادا کیا تھا۔
 
 
۱۹۶۷ءمیں فلم’’بمبئی رات کی بانہوں میں‘‘  میںجلال کے جانی کےکردار نے لوگوں کو یہ ماننے پر مجبور کردیا کہ وہ ایک ٹیلنٹڈ اداکار ہیں۔جلال نے کئی کامیاب انگریزی فلموںمیں بھی کام کیا جن میں بمبئی ٹاکیز،گاندھی،کیم اور دی ڈسیورز شامل ہیں۔۶۰ءسے ۹۰ءکی دہائی تک جلال آغانےکئی فلموںمیں سپورٹنگ رول کیےلیکن ہر رول کو یوں نبھایاکہ جیسے وہ رول ان کے لیے ہی بنا ہو۔
 
 
جلال کافلمی کر ئیر تو کامیابی سے چل رہا تھا لیکن ان کی نجی زندگی کچھ اچھی نہ چلی اورشادی کے کچھ عرصےبعدہی ان کی اہلیہ نے ان سے علیحدگی اختیار کرلی اور دوسری شادی کرکے ایک بیٹا اور ایک بیٹی کولےکرجرمنی چلی گئیں اسی لیے جلال آغا پیسے جمع کرتےاور جرمنی جاتے کیونکہ ان کو اپنے بچوں سے بہت محبت تھی۔۵؍مارچ ۱۹۹۵ءکومحض ۴۹؍سا ل کی عمرمیں جلال دل کادورہ پڑنےسےاس دنیا سے چلے گئے مگر ان کے مداح انہیں آج بھی دل میں بسائے بیٹھے ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK