بالی ووڈ کی تاریخ میں کئی ایسے اداکار گزرے ہیں جنہوں نے کم فلمیںکرنے کے باوجود اپنی معصوم چہرے، بہترین اداکاری اور منفرد اندازسے ناظرین کے دلوں میں ہمیشہ کے لیے جگہ بنا لی۔ جگل ہنس راج بھی انہی فنکاروںمیں شامل ہیں۔
ایک دلکش اداکار جگل ہنس راج- تصویر:آئی این این
بالی ووڈ کی تاریخ میں کئی ایسے اداکار گزرے ہیں جنہوں نے کم فلمیںکرنے کے باوجود اپنی معصوم چہرے، بہترین اداکاری اور منفرد اندازسے ناظرین کے دلوں میں ہمیشہ کے لیے جگہ بنا لی۔ جگل ہنس راج بھی انہی فنکاروںمیں شامل ہیں۔ سنہرے بال، نیلی آنکھیں، معصوم مسکراہٹ اور سادہ اداکاری نےانہیں۱۹۹۰ءکی دہائی کے نمایاں نوجوان اداکاروں میں شامل کر دیا تھا۔ اگرچہ وہ طویل عرصے تک فلمی دنیا میں بطور ہیرو اپنی جگہ برقرار نہ رکھ سکے، لیکن بطور چائلڈ آرٹسٹ، رومانوی ہیرو اور بعد ازاں فلم ساز کے طور پر ان کا سفر خاصا دلچسپ رہا ہے۔جگل ہنس راج کی پیدائش ۲۶؍جولائی ۱۹۷۲ءکوممبئی میں ہوئی۔ ان کا تعلق ایک ایسے خاندان سے تھا جس کا فلمی دنیا سے براہ راست کوئی گہرا تعلق نہیں تھا، لیکن بچپن ہی میں ان کی شخصیت اور معصوم چہرے نے فلم سازوں کی توجہ اپنی جانب مبذول کر لی۔ یہی وجہ تھی کہ بہت کم عمری میں انہیں اشتہارات اور فلموں میں کام کرنے کے مواقع ملنے لگے۔جگل ہنس راج نے اپنے فلمی کریئر کا آغاز بطور چائلڈ آرٹسٹ کیا۔ ۱۹۸۳ءمیںریلیز ہونے والی فلم ’معصوم‘ان کے کریئر کا اہم سنگ میل ثابت ہوئی۔ شیکھر کپور کی ہدایت کاری میں بنی اس فلم میں انہوںنے نصیرالدین شاہ اور شبانہ اعظمی جیسے عظیم فنکاروں کے ساتھ کام کیا۔فلم میں ان کی معصوم اداکاری کو ناقدین اور ناظرین دونوں نے بے حد سراہا۔ اسی فلم کا مشہور گیت ’لکڑی کی کاٹھی‘آج بھی ہندوستان کے مقبول ترین بچوں کے گانوں میں شمار کیا جاتا ہے اور جگل ہنس راج کی شناخت کا ایک اہم حصہ بن چکا ہے۔اس کے بعد انہوں نے ’کرما‘،’سلطنت‘ اور چند دیگر فلموں میں بھی بطور چائلڈ آرٹسٹ کام کیا۔
جوانی کی دہلیز پر قدم رکھنے کے بعد جگل ہنس راج نے مرکزی کردار ادا کرنا شروع کیا۔ ۱۹۹۴ءمیںیش چوپڑا کی فلم ’آ گلے لگ جا‘ میں وہ مرکزی کردار میں نظر آئے۔ اس فلم میں ان کے ساتھ اُرمیلا ماتونڈکرتھیں۔ اگرچہ فلم باکس آفس پر بڑی کامیابی حاصل نہ کر سکی، لیکن جگل کی اداکاری کو پسند کیا گیا۔اس کے بعد انہوں نے متعدد فلموں میں کام کیا، جن میں ’پاپا کہتے ہیں‘(۱۹۹۶ء) ’محبتیں‘ (۲۰۰۰ء)’کبھی خوشی کبھی غم‘،’سلام نمستے‘،’آ جا نچ لے‘ شامل ہیں۔
۲۰۰۰ءمیںیش راج فلمزکی سپرہٹ فلم ’محبتیں‘نے جگل کے کریئرکو نئی شناخت دی۔ فلم میں اگرچہ مرکزی کردار شاہ رخ خان، امیتابھ بچن اور ایشوریہ رائے کے تھے، لیکن جگل نے ان۳؍ نوجوان طالب علموں میں سے ایک کا کردار ادا کیا جن کی محبت کی کہانیاں فلم کا اہم حصہ تھیں۔اداکاری کے علاوہ جگل ہنس راج نے فلم سازی کے میدان میں بھی قسمت آزمائی۔انہوں نے یش راج فلمز کے ساتھ بطور کری ایٹو ڈائریکٹر اور اسکرین رائٹر بھی کام کیا۔
۲۰۰۰ءکی دہائی کے بعد جگل ہنس راج نے فلموں میں کام کرنا تقریباًچھوڑ دیا۔ انہوں نے زیادہ تر وقت اپنے خاندان اور ذاتی زندگی کو دیا۔ بعد میں وہ امریکہ منتقل ہوگئے، جہاں انہوں نے اپنی اہلیہ اور بیٹے کے ساتھ سکون کی زندگی اختیار کی۔کئی برس بعد جگل ہنس راج نے ایک بار پھر فلمی دنیا میں واپسی کی۔ انہوں نے چند فلموں اور ویب پروجیکٹس میں کردار ادا کیے اور یہ واضح کیا کہ وہ اب منتخب اور معیاری کام ہی کرنا چاہتے ہیں۔