• Tue, 06 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

ججوں کے بچوں کو حکومت یا سرکاری اداروں کا وکیل بننے سے گریز کیا جائے: جسٹس اوکا

Updated: October 05, 2026, 8:03 PM IST | New Delhi

ججوں کے بچوں  کا کسی سرکاری ایجنسی یا محکمہ کیلئے وکیل کے طور پر کام کرنے کو ے کر گزشتہ عرصے سے سوالات اٹھ رہے ہیں۔ اس معاملے میں سابق سپریم کورٹ جج جسٹس اوکا نے اپنی رائےکا اظہار کیا ہے۔ جسٹس اوکا کا کہنا ہے کہ ججوں کے بچوں کو بطوروکیل سرکاری اداروں کیلئے کام کرنے سے گریز کرنا چاہئے، اس سے عوام کا عدلیہ پر سے بھروسہ اٹھنے لگتا ہے اور عدلیہ کی خودمختاری پر سوالات کھڑے ہوتے ہیں ۔

Justice Oka. Photo: X
جسٹس اوکا۔ تصویر: ایکس

موجودہ ججوں کے بچوں کی بطور سرکاری وکیل تقرری پر حالیہ تنازعات نے عدالتی وقار اور مفادات کے تصادم کے مسئلے کو بحث کے مرکز میں لا دیا ہے۔ یہ انکشاف ہونے پر سوالات اٹھے کہ جسٹس ستیش چندر شرما کے بیٹے کو الیکشن کمیشن آف انڈیا کے پینل میں وکیل کے طور پر شامل کیا گیا تھا۔ یہ بات اس وقت سامنے آئی جب جج موصوف چیف الیکشن کمشنر اور الیکشن کمشنرز ایکٹ کی آئینی حیثیت سے متعلق معاملہ اور چیف الیکشن کمشنر کی بیٹی میدھا روپم سے جڑے ایک معاملے کی سماعت کر چکے تھے۔

یہ بھی پڑھئے: کوکن کا پانی مغربی مہاراشٹر اور مراٹھواڑہ کے قحط سالی سے متاثرہ علاقوں تک لانے کی تجویز

اس سے قبل، اروند کیجریوال نے دہلی ہائی کورٹ کی جج جسٹس سورنا کانت شرما سے شراب پالیسی معاملے کی سماعت سے الگ ہونے کی درخواست کی تھی اور اس کی ایک وجہ یہ بتائی تھی کہ ان کے بچے مرکزی حکومت کے پینل میں بطور وکیل شامل ہیں۔ اس دلیل کو مسترد کرتے ہوئے جسٹس شرما نے کہا تھا کہ اگر ججوں کے بچوں کا مرکزی حکومت کے پینل میں ہونا کسی معاملے سے الگ ہونے کی بنیاد بن جائے تو بہت سے ججوں کومعاملات کی سماعت سے الگ ہونا پڑے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ کوئی فریقِ مقدمہ یہ طے نہیں کر سکتا کہ ججوں کے بچوں کو کس طرح زندگی گزارنی چاہئے۔ اسی طرح سپریم کورٹ کے جج جسٹس پی کے مشرا کے بیٹے کی راجستھان کے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل کے طور پر تقرری بھی زیرِ بحث آئی تھی اور اسے اس بنیاد پر چیلنج کیا گیا تھا کہ ان کے پاس وکالت کا ۱۰؍ سال سے کم کا تجربہ ہے، اگرچہ ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ دونوں نے اس معاملے میں مداخلت کرنے سے انکار کر دیا تھا۔

یہ بھی پڑھئے: ستیہ گرہ پلیٹ فارم: ۲۴؍گھنٹے میں ۲۵؍ہزار۵۵؍ احتجاجی آوازیں درج

اس پس منظر میں، لائیو لانے سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس ابھے ایس اوکا سے اس معاملے پر ان کی رائے جاننے کی کوشش کی۔ جسٹس اوکا نے رائے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اصولی طور پر جب تک جج ریٹائر نہ ہو جائیں، ان کے بچوں کو سرکاری اداروں اور ایجنسیوں کے پینل میں بطور وکیل مقرر ہونے سے گریز کرنا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کے احتیاط سے عدلیہ کی خود مختاری اور آزادی پر عوام کا اعتماد قائم رکھنے میں مدد ملے گی۔ انٹرویو کے دوران جسٹس اوکا نے کہا کہ موجودہ ججوں کے بچوں کے بطور وکیل پریکٹس کرنے پر اصولی طور پر کوئی اعتراض نہیں ہے، لیکن تشویش اس وقت پیدا ہوتی ہے جب انہیں انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی )، الیکشن کمیشن آف انڈیا (ای سی آئی )، نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی (این آئی اے ) اور دیگر سرکاری اداروں کےپینل میں وکیل مقرر کیا جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ’’لاکھوں افراد کو حق رائے دہی سے محروم کرنا من مانی اورغیرآئینی ہے، اس کا کوئی جواز نہیں ہوسکتا‘‘

انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ اس طرح کی تقرریوں کو ایک منصفانہ اور شفاف طریقے سے انجام دیا جانا چاہئے، جس میں اہلیت کے واضح معیار طے ہوں اور تمام اہل وکلاء کو اس کا حصہ بننے کا موقع ملے۔ جسٹس اوکا نے کہا کہ اداروں کو پینل وکلاء مقرر کرنے سے پہلے اہلیت کے معیار طے کرنے چاہئیں، درخواستیں طلب کرنی چاہئیں اور ایک شفاف انتخابی عمل اپنانا چاہئے۔ انہوں نے کہا، ’’اگر کسی کو براہِ راست پینل کا رکن بنا دیا جاتا ہے اور مقرر ہونے والا شخص کسی موجودہ جج کا بیٹا یا بیٹی ہو تو قدرتی طور پر کئی سوالات اٹھتے ہیں کہ آیا یہ تقرری قابلیت کی بنیاد پر ہوئی ہے یا انہوں نے یہ عہدہ صرف اپنے مراعات یافتہ موقع کی وجہ سے حاصل کیا ہے۔ ‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK